چار ڈالر کی چوری کے باعث چینی شہری 14 سال تک پہاڑی غار میں چھپا رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک 50 سالہ چینی کی عجیب کہانی سامنے آئی ہے۔ اس چینی نے اپنی چوری کے لیے 22 ڈالر ادا کیے ہیں۔ 2009 میں ایک چینی شخص نے ایک گیس سٹیشن پر ڈکیتی کی وہ پولیس سے بچنے کے لیے ایک پہاڑی غار میں چھپ گیا ۔

کہانی اس وقت شروع ہوئی جب ’’لیو موفو‘‘ نے چین کے صوبہ ’’ہوبی‘‘ کے شہر ’’انشی ‘‘ میں ایک گیس سٹیشن کو اپنے داماد اور ایک اور شخص کے ساتھ مل کر لوٹ لیا۔ انہوں نے 156 یوآن یا تقریبا 22.5 ڈالر کی رقم لوٹی۔ کچھ حصہ انہوں نے خرچ کرلیا۔ لوٹی گئی رقم میں سے ’’ لیو موفو‘‘ کو صرف 32 یوآن یعنی تقریبا 4.6 ڈالر ملے۔

’’ لیو موفو‘‘ کے ساتھیوں کو گرفتار ہونے میں زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب اسے احساس ہوا کہ پولیس کے اس کی دہلیز تک پہنچنے میں صرف کچھ وقت گزرنے کی دیر ہے ۔ اس وقت ’’ لیو موفو‘‘ نے قید کا خطرہ مول لینے کے بجائے روپوش ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ اگلے 14 سال اپنی بنائی ہوئی جیل میں گزارے گا ۔

پولیس اس کے گھر کی تلاشی لیتی اور اس کے اہل خانہ سے پوچھ گچھ کرتی رہی ۔ اس دوران مفرور چور ’’ لیو موفو‘‘ جنگل میں چھپ کر دن گزارتا رہا ۔ آخر کار وہ ایک غار میں جا کر رہنے لگا ۔

چارہ سازی کے طور پر اب ’’ لیو موفو‘‘ اپنے گاؤں میں آتا اور آلو اور گوشت جیسی چیزیں چراتا۔ وہ چند منٹوں کے لیے اپنے والدین سے ملنے کا منصوبہ بناتا۔ وہ محتاط رہتا تھا اور بڑے تہواروں کے علاوہ کبھی گھر نہ آیا۔

وہ غار جس میں چینی شہری چار ڈالر کی چوری کے بعد چودہ سال چھپا رہا
وہ غار جس میں چینی شہری چار ڈالر کی چوری کے بعد چودہ سال چھپا رہا

اگرچہ اس کی بیوی اور والدین نے اسے ہار ماننے کے لیے بار بار قائل کرنے کی کوشش کی تاہم ’’ لیو موفو‘‘ نے ہمیشہ انکار کر دیا۔ آخر کار اسے احساس ہوا کہ اس نے خود کو اتنے عرصے سے ان لوگوں سے الگ تھلگ کر رکھا ہے جو اس سے وہ پیار کرتے تھے۔ وہ اپنے والد کی آخری رسومات، بیٹے کی شادی میں شریک نہیں ہوسکا تھا۔ اس نے اپنے پوتے کی شادی بھی نہیں دیکھی۔ آخر کار اسے احساس ہوا اور اس نے خود کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

’’ لیو موفو‘‘ نے کہا میری عمر 50 سال سے زیادہ ہے، میری بیوی کی صحت ٹھیک نہیں ہے۔ اور میرا ایک خوبصورت پوتا ہے۔ اب میں ایک عام زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔ لیو موفو پولیس اہلکاروں کو اس چھوٹے غار کی طرف لے گیا جہاں وہ گزشتہ 14 سالوں سے مقیم تھا ۔ یہ غار قریب ترین انسانوں کی آباد جگہ سے تقریباً 10 کلومیٹر دور تھا۔ 14 برس میں جب اسے مشتبہ آوازیں سنائی دیتیں تو وہ غار سے نکل کر جنگل کی گہرائیوں میں جاکر چھپ جاتا رہا تھا۔ اس اتنی کم رقم کے باوجود اسے 10 سال تک قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چین میں ڈکیتی بہت سنگین جرم شمار ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں