واپس دفتر بلایا گیا تو تہائی ملازمین نوکری چھوڑ دیں گے: برطانیہ میں سروے

ورکرکرونا وبا سے قبل کی صورتحال پر جانے کو تیار نہیں، لچکدار آسامیوں کی تعداد میں لگاتار 10 ویں مہینے کمی آئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عالمی کیریئر نیٹ ورک ویب سائٹ ’’لنکڈ ان ‘‘ کے نئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ ملازمین اپنی ملازمت چھوڑ دیں گے اگر انہیں مکمل وقت دفتر واپس جانے پر مجبور کیا گیا۔

ویب سائٹ کی طرف سے کی گئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ برطانیہ میں ملازمین کی اکثریت چاہتی ہے کہ آجر ایک لچکدار کام کے ماڈل کی پیروی کرتے رہیں۔ 34 فیصد نے کہا کہ اگر ہائبرڈ کام دستیاب نہیں ہے تو وہ متبادل ملازمتیں تلاش کریں گے۔ یعنی لچکدار طریقے سے کام کرنا تلاش کریں گے تاکہ تاکہ کبھی گھر سے اور کبھی دفتر سے کام کیا جا سکے۔

برطانوی اخبار ’’ ڈیلی میل‘‘ کی ایک رپورٹ جس کی ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ نے بھی جانچ کی کے مطابق ویب سائٹ نے کہا کہ لچکدار کام کی مسلسل مانگ کے باوجود گزشتہ فروری میں مسلسل دسویں مہینے لچکدار یا گھریلو طور پر مشتہر کی جانے والی آسامیوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

خواتین دفتر واپس جانے کی مہم سے خاص طور پر متاثر ہوتی ہیں کیونکہ ان میں سے نصف سے زیادہ پہلے ہی ملازمت چھوڑ چکی ہیں یا لچک کی کمی کی وجہ سے اپنی ملازمت چھوڑنے پر غور کر رہی ہیں۔ برطانیہ میں بہت سے بھرتی کرنے والے ملازمین سے کہہ رہے ہیں کہ وہ مکمل وقت کے لیے دفتر واپس آئیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں نے اپنے کام کے انداز کو ڈرامائی طور پر تبدیل کیا تھا۔

سروے میں آدھے آجروں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا کام زیادہ کثرت سے دفتر میں ہو۔ ’’لنکڈ ان ‘‘ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یوکے میں 60 فیصد ملازمین اس سال ملازمت میں تبدیلی پر غور کر رہے ہیں۔ یہ صورت حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فروری میں تمام اعلان کردہ ملازمتوں میں سے 10 فیصد سے زیادہ وہ ہیں جو ریموٹ ورک سسٹم سے منسلک ہیں۔ 2022 کی فروری کے مقابلے میں ریموٹ ورک سسٹم والی ملازمتوں میں یہ 30 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔

تاہم اس کے باوجود تمام ملازمت کے درخواست دینے والوں میں سے 21 فیصد نے دور دراز کی ملازمتوں کی درخواست دی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریموٹ ملازمتوں کی طلب رسد سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ برطانیہ میں سب سے کم عمر افرادی قوت جنریشن Z میں سے ہے ۔ ان کے متعلق توقع ہے کہ وہ گزشتہ نسلوں کے مقابلے میں گھریلو ملازمتوں کے لیے کم درخواستیں دیں گے۔

لنکڈ ان کے برطانیہ کے علاقائی ڈائریکٹر اور کمیونیکیشن کے نائب صدر نائجر موئیس نے خبردار کیا کہ اگر کمپنیاں تمام لچکدار کام کرنے والی ملازمتوں کو ہٹا دیتی ہیں تو ان ملازمین کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ تین سال کے بعد ہم نے کام کرنے کے ایک نئے اور لچکدار طریقے کو اپنایا ہے اور یقیناً زیادہ تر لوگ کورونا سے پہلے والی صورتحال میں واپس جانا نہیں چاہتے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں