امریکی نے5 انچ قدبڑھانے کے لیے تکلیف دہ سرجری پر ایک لاکھ 70ہزارڈالرخرچ کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کہتے ہیں شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا اور جنون بندے سے کچھ بھی کروالیتا ہے۔ایسا ہی معاملہ ایک امریکی شہری کے ساتھ پیش آیا ہے۔اس41 سالہ شخص کا قد میانہ تھا مگروہ گرل فرینڈکی تلاش میں تھااور اسے یہ خدشہ لاحق ہوگیا تھا کہ اس کے چھوٹے قد کی وجہ سے کوئی خوبرولانبے قد والی لڑکی اس کو گھاس نہیں ڈالے گی۔

پھرکیا ہوا،اس نے اپنے قد کے بارے میں خود کوغیر محفوظ محسوس کیا اوراس نے قدبڑھانے کے لیے سرجری کا فیصلہ کیا مگراس کو اپنی جسمانی ساخت کو پانچ انچ (12.7 سینٹی میٹر) بڑھانے کے لیے تکلیف دہ سرجری سے گزرنا پڑا ہے۔

نیویارک پوسٹ نے اس امریکی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ موسیٰ گبسن کا اصل قد 5 فٹ 5 انچ تھا اور وہ اپنے قد کی وجہ سے گرل فرینڈ کی تلاش میں جدوجہد کررہا تھا۔

ریاست مینی سوٹا سے تعلق رکھنے والے گبسن نے بتایا کہ وہ چھوٹے قد کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار تھا۔چھوٹے قد نے عورتوں سے میل ملاقاتوں کی زندگی کو متاثر کیااور وہ تھوڑا سے بڑا لگنے کے لیے اپنے جوتوں میں چیزیں بھی رکھتا رہا تھا لیکن اس سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا تھا۔

اس نے ابتدائی طور پردوا اور روحانی معالج کی طرف رجوع کیا لیکن یہ دونوں ٹوٹکے ناکام ہوگئے۔ پھرگبسن نے ٹانگوں کی لمبائی کی سرجری کے لیے بچت شروع کردی۔

وہ بتاتے ہیں کہ وہ دن میں سافٹ ویئرانجینئر اور رات کواوبرڈرائیور کے طور پر کام کرتے رہے تھے اور اس طرح 75,000 ڈالر کی بچت کی۔ان کی پہلی سرجری 2016 میں ہوئی تھی، جس سے قد 3 انچ بڑھ گیا تھا اورمجموعی قد 5 فٹ اور 8 انچ ہو گیا تھا۔اس سے وہ خوش تھے لیکن مطمئن نہیں تھے۔

مارچ 2023 میں انھوں نے 98,000 ڈالر جمع کیے اور اسے ایک اور طویل سرجری کے لیے ادا کیا۔ وہ اپنے قد میں مزید دوانچ اضافے کی امید کرتے تھے۔

اس عمل کے دوران میں ڈاکٹروں نے مبیّنہ طور پر دونوں پنڈلیوں کی ہڈیوں کو توڑدیا اوران میں اعضاء کو لمبا کرنے والے مقناطیسی ناخن ڈال دیے۔اب انھیں درد سے نمٹنے کے لیے طاقتورادویہ دی جاتی ہیں۔

موسیٰ گبسن
موسیٰ گبسن

گبسن کو دن میں تین بارقد کو لمبا کرنے والا آلہ استعمال کرنا پڑتا ہے تاکہ کٹی ہوئی ہڈی کو ایک ملی میٹرسے الگ کیا جاسکے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو جون تک اس کا قد 5 فٹ 10 انچ ہو جائے گا۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق انھوں نے بتایاکہ ’’پہلی سرجری کے بعد، میں خواتین سے بات کرتے وقت کم ہچکچاہٹ اور نتائج کے بارے میں کم فکرمند ہوگیا ہوں۔گبسن نے فخریہ انداز میں اعلان کیا کہ ’’میں نے بھی شارٹس پہننا اور پورے جسم کی تصاویر لینا شروع کر دی ہیں۔یہ میں پہلے کبھی نہیں کرتا تھا‘‘۔

دوسرے طریق کار(سرجری)کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’’میرے خیال میں جب میں اس حصے کو مکمل کر لیتا ہوں تو میں آزاد ہوسکتا ہوں۔میں اب اپنے قد کی پروا نہیں کروں گا۔ جو کچھ میرے پاس ہے میں اس سے مطمئن رہوں گا‘‘۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کا کہنا ہے کہ ٹانگوں کو لمبا کرنے کا عمل ایک طویل علاج ہے اور اس میں پیچیدگیوں کا خطرہ رہتاہے ،لہٰذا ہمیشہ اس کی سفارش نہیں کی جاتی ہے۔بعض پیچیدگیوں میں ہڈیوں کی خراب تشکیل ، فریکچر ، انفیکشن ، نامناسب شرح سے ہڈیوں کا لمبا ہونا ، اور خون کے لوتھڑے شامل ہیں۔

این ایچ ایس نے آن لائن دستیاب معلومات میں مزید کہا:’’اس طریق کار کی حفاظت اورتاثیر کے بارے میں بھی کچھ غیریقینی صورت حال ہے۔تاہم،اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طریقہ کار کے نتیجے میں بعض اوقات اونچائی میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے‘‘۔

گبسن کا کہنا تھا کہ’’میں کسی بھی شخص کومشورہ دوں گا کہ جوبھی ایساکرنا چاہتا ہے،وہ یہ کام کرگزرے۔ میں یقینی طور پراس بات کو پھیلانا چاہتا ہوں، اوراگریہ مشورہ دوسرے لوگوں کو اس عمل سے گزرنے میں مدد دے سکتا ہے تو مجھے خوشی ہوگی‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں