"میں نے اسے مارا، غسل خانے میں کھال اتاری"مصر میں بیٹے کو پکا کے کھانے والی عورت

ماں نے تفتیشی حکام کے سامنے اعتراف جرم میں واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر کی شرقیہ گورنری میں ایک عورت نے اپنے بچے کو قتل کرنے کے بعد اسے کھا جانے کا اعتراف جرم کرتے ہوئے اس گھناؤنے جرم کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

"قاہرہ 24" نیوز ویب سائٹ سمیت مقامی میڈیا کے مطابق اس نے تفتیشی حکام کو بتایا ہے کہ"جب میں نے اس کے سر پر کلہاڑی ماری تو وہ زندہ تھا۔ میں نے اسے پکڑا، قتل کیا اور غسل خانے میں گھسیٹ کر لے گئی، اس کا سر اس کے جسم سے الگ کیا، اسے کاٹ کر وہیں اس کی کھال اتار دی"

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عورت نفسیاتی مسائل کی شکار ہے۔ تاہم اس کے سابقہ شوہر اور مقتول بچے کے والد کے وکیل کا کہنا ہے کہ عورت نے تفتیشی حکام کے سامنے تفصیلی اعتراف میں تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ اچانک سرزد نہیں ہوا بلکہ پہلے اس نے کافی وقت تک سوچا، منصوبہ بندی کی اور فیصلہ کیا۔

مقتول کے وکلا میں سے ایک نے ملزمہ کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ "ملزمہ نے مقتول بچے کو کلہاڑی کے دستے کی تین ضربیں لگائیں، وہ زمین پر گرا تو ساکت تھا، لیکن زندہ تھا۔ اس کے بعد چھری سے اسے ذبح کر کے سر کو جسم سے الگ کیا، اس کی کھال اتاری، لاش کو کاٹ پھر اس نے ان میں سے کچھ ٹکڑوں کو چولہے پر دیگچے میں ڈال کر پکایا اور کھا لیا۔

تحقیقات کی روشنی میں فاقوس پولیس اسٹیشن کے تفتیشی حکام نے اسے پہلے سے سوچے سمجھے قتل کے اقدام کے تحت حراست میں لینے کا فیصلہ کیا۔

"الشروق" نامی ویب سائٹ نے ملزمہ کی کسی حد تک چھپی ہوئی تصویر شائع کی ہے اور بتایا ہے کہ بچے کی عمر تقریباً 5 سال تھی، جبکہ تفتیش کاروں کو دو آلہ قتل اور کئی دیگر شواہد ملے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں