تونس میں عمل معطل ہونے کے باعث سزائے موت کے قیدیوں کی بڑھتی تعداد
سوچے سمجھے قتل، عصمت دری اور دہشت گردی سے متعلق 100 سے زائد مقدمات کے فیصلے ابھی باقی ہیں
تونس میں ہر گھناؤنے جرم کے ساتھ ہی سزائے موت پر بحث دوبارہ شروع ہوجاتی ہے۔ بہت سے افراد سزائے کے نفاذ کو مسترد کرتے ہیں اور دوسرے طرف کے لوگ سزائے موت کا دفاع کرتے ہیں۔
تونس میں 27 نومبر 1990 کو قصاب نبیل الناصر کو پھانسی کی آخری سزا دی گئی تھی۔ تونس کی جانب سے سزائے موت پر عمل درآمد کو معطل کیے ہوئے تین دہائیوں سے زیادہ وقت گزر چکا ہے لیکن عدالتوں نے مختلف مقدمات میں سزائے موت دینا جاری رکھا ہے۔ اس طویل عرصہ میں مختلف مقدمات میں سزائے موت کے کئے گئے فیصلوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ان مقدمات میں جان بوجھ کر قتل، عصمت دری اور دہشت گردی کے مقدمات شامل ہیں۔
قانون کے ماہر تونس کے جج فرید بن جحا نے کہا ہے کہ تعزیرات کے باب VII میں دی گئی سزائے موت کو پھانسی دے کرعمل میں لایا جاتا ہے اگر یہ عوامی حقوق کا جرم ہو۔ اگر یہ فوجی جرم ہو تو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت پر عمل کیا جاتا ہے۔ فرید بن جحا نے کہا صدر کی طرف سے معافی کی منظوری کے بعد تمام سزائے موت کو عمر قید سے بدل دیا جاتا ہے۔
حمایت اور مخالفت
تونس میں ہر گھناؤنے جرم کے ساتھ یہ سزائے موت پر بحث پھر شروع ہوجاتی ہے اور سزائے موت پر عمل کے حامی اور مخالفین اپنا اپنا موقف سامنے لاتے رہتے ہیں۔
2013 میں سزائے موت کے حوالے سے کیے گئے ایک سروے میں تونس کے 70 فیصد مرد و خواتین نے اس سزا پر عمل درآمد کی حمایت کا اظہار کیا تھا جس کی وجہ خواتین کی عصمت دری اور قتل جیسے گھناؤنے جرائم کے پھیلاؤ تھا۔
سزائے موت کی تائید کرنے والے انتقام کے اصول پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جبکہ وہ لوگ جو سزائے موت کو مسترد کرتے ہیں ان کا ماننا ہے کہ زندگی کا حق ایک انسانی حق ہے۔ کوئی بھی فریق کسی شخص سے اس کے پاس موجود سب سے قیمتی چیز کو نہیں چھین سکتا۔
صدارتی نفاذ
تین سال قبل خاص طور پر 28 ستمبر 2020 کو تونس کے صدر قیس سعید نے سزائے موت کا اطلاق کرنے کا مطالبہ کیا تھا کہ سابقہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے مشتبہ شخص کے ہاتھوں ایک خاتون کی موت کے بعد سزائے موت کا اطلاق کیا جائے۔
تونس کے سابق مفتی عثمان بطیخ نے کہا ہے کہ سزائے موت ایک انتقام ہے جس میں معاشرے کا حق غالب ہے۔ اسے کسی کی ظلما جان لینے کا بدلہ سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ دہشت گردوں کے لیے سزائے موت کے نفاذ کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ وہ قانون اور تمام انسانی، اسلامی اور اخلاقی اقدار کی خلاف ورزی کرنے والے ہیں ۔ دہشت گرد انسانیت کے خلاف اور اسلام سے ناواقف ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ تونس میں آزادی کے بعد سے اب تک 135 مجرموں کو پھانسی یا گولی مار کر سزائے موت دی جا چکی ہے ۔ ان میں سے 129 سابق صدر حبیب بورقییبا کے دور میں دی گئیں اور 6 سابق صدر زین العابدین کے دور میں دی گئی تھیں۔
زندگی کا حق
دوسری جانب سزائے موت کے خاتمے کے لیے تونس کے اتحاد کے سربراہ تشدد کے خلاف تونس کی تنظیم کے سربراہ، شکری لطیف نے سزائے موت پر عمل درآمد کرانے کو مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تونس کے لوگ چاہے فرانسیسی استعمار کے دور میں ہوں یا آمریت کے دور میں۔ یہ ثبوت موجود ہیں کہ آزادی کے بعد سے پھانسی پانے والوں میں سے زیادہ تر کو مجرمانہ نہیں بلکہ سیاسی وجوہات کی بنا پر سزائے موت دی گئی ہے۔
انہوں نے سزائے موت کو غیر انسانی اور ظالمانہ قرار دیا ا ور کہا اس سے انصاف حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے ذریعہ سے خاص طور پر غریبوں اور پسماندہ لوگوں کو نشانہ بناتا ہے جن کے پاس اپنے دفاع کے لیے وسائل نہیں ہوتے۔ واضح رہے دنیا میں 140 ملکوں نے سزائے موت کو ختم کردیا ہے۔