سعودی ویژن 2030

سعودی عرب:پائیدار، تیز رفتار اصلاحات اورآسان مالیات سے گھروں کی خریداری میں اضافہ

سعودی ویژن 2030 سے شعبہ مکانات میں سرمایہ کاری کا فروغ، سعودیوں اور غیر ملکیوں کا یکساں اظہارِدل چسپی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے 2030ء تک گھروں کی ملکیت کو 70 فی صد تک بڑھانے کے منصوبے کے تحت حکومت کی مراعات کے نتیجے میں شعبہ مکانات میں سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، نئی رہائشی اسکیموں میں سعودی شہریوں کے علاوہ تارکین وطن بھی گہری دل چسپی کا اظہار کررہے ہیں۔

العربیہ سے بات کرتے ہوئے مملکت بھر سے تعلق رکھنے والے ماہرین، رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے عہدے داروں اور گھروں کے متوقع مالکان نے متعدد وجوہات پر روشنی ڈالی ہے جن کی وجہ سے گھر کی ملکیت کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نجی شعبے کے تعاون سے مملکت میں اقامتی یونٹوں کی دستیابی کو بہتربنایا گیا ہے۔ سعودی خاندانوں کی مکانوں کے لیے قرضوں تک آسان رسائی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔اس کے علاوہ ہاؤسنگ اور منصوبہ بندی کی اصلاحاتی پالیسیوں نے گھر کی ملکیت میں اضافے میں کردار ادا کیا ہے۔

سنہ 2020ء میں ، سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) نے روشن کے نام سے ریئل اسٹیٹ کمپنی تشکیل دی تھی۔ اس کا کام سعودی عرب میں رہائش کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنا ہے اور اقامتی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا ہے۔

سعودی ولی عہد کی سربراہی میں کمپنی روشن 2030ء تک 22 لاکھ سے زیادہ افراد کو رہائش کے لیے مکانات مہیا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے وہ مربوط کمیونٹیوں کی تعمیرپراربوں ریال خرچ کررہی ہے اور کرے گی۔

روشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ڈیوڈ گروور نے بتایا کہ ہمسایہ ملک متحدہ عرب امارات میں حکومت کے حمایت یافتہ پراپرٹی ڈویلپرز کی طرح روشن الریاض ، مشرقی خطے ، جدہ اور مکہ مکرمہ میں میگا منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ان کا مقصد ’’سعودی باشندوں کو زندگی گزارنے کا ایک نیا طریقہ‘‘مہیا کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب میں بڑی سرمایہ کاری،عمارت دوست منصوبہ بندی اور قوانین کا زبردست امتزاج اسے دنیا کی سب سے متحرک رئیل اسٹیٹ اور تعمیراتی مارکیٹوں میں سے ایک بناتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’’سعودی عرب گھروں کی تعمیر کے ایک بڑے سفر کا آغاز کر رہا ہے۔اس کا ہدف یہ ہے کہ 2030 تک 70 فی صد سعودی اپنے گھروں کے مالک بن سکیں گے۔یہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے سعودی حکومت کی ناقابل یقین حمایت کی وجہ سے ممکن ہوا ہے‘‘۔

شعبہ مکانات میں اصلاحات

سعودی عرب میں ہاؤسنگ کے شعبے میں اصلاحات اور سعودی خاندانوں کے لیے مناسب رہائش تک رسائی میں اضافہ ویژن 2030 کےاہم اجزاء ہیں۔

2017ء میں، جب قریباً 16 لاکھ سعودی شہری سرکاری ہاؤسنگ پروگراموں کے منتظر تھے۔بلدیات، دیہی امور اور ہاؤسنگ کی وزارت (ایم او ایم آر اے) نے سستی رہائش کے اختیارات کو بڑھانے اور مالیات کے متبادل تک رسائی کو آسان بنانے کے لیے متعدد اقدامات شروع کیے تھے۔

اس سے قبل، قرضوں کی بلند شرح سُود اور حکومت کی مالی معاونت سے بلاسود قرضے لینے کے امیدواروں کی طویل فہرست نے سعودیوں کا اپنے گھر کا مالک ہونے کا خواب پورا کرنا مشکل بنا دیا تھا۔

سعودی ولی عہد نے 2021ء میں ایک انٹرویو میں اس بات پر زور دیا تھا کہ ’’گھر کی ملکیت سب سے اہم چیلنجوں میں سے ایک ہے اور یہ چیلنج ویژن 2030 کے نفاذ سے پہلے موجود تھا۔ہم 20 سال سے رہائش کے مسئلے سے نبرد آزما تھے۔ ہاؤسنگ کی سطح جمود کا شکار تھی اور 40 سے 50 فی صد کے درمیان رہ گئی تھی‘‘۔

ولی عہد کے مطابق ویژن 2030 کا مرکزی مقصد ملک کو خوش حال بنانا ہے جہاں تمام شہری اپنے خوابوں، امنگوں اور عزائم کو حاصل کرسکیں۔ ہمارا عزم سب کے لیے یکساں مواقع مہیا کرنے میں رہ نما بننے تک پھیلا ہوا ہے ، جس میں روزگار کے اقدامات ، صحت کی دیکھ بھال ، رہائش اور اعلیٰ معیار کی تفریحی خدمات شامل ہیں۔

ہاؤسنگ سیکٹر کو تبدیل کرکے اور مکانات کے تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ کاری میں اضافے کے ذریعے ویژن 2030 کا مقصد متعدد اہداف کا حصول ہے۔ان میں روزگار کے پائیدار مواقع پیدا کرنا، نجی شعبے کے تعاون کو فروغ دینا، غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کوترقیاتی منصوبوں میں شامل کرنا اور معاشی ترقی کو فروغ دینا نمایاں ہیں۔

سعودی عرب کے سرکاری سرمایہ کاری فنڈ نے 2017 میں رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں لیکویڈیٹی شامل کرنے اور پائیدار مالیات تک گھر کے خریداروں کی رسائی کو بہتر بنانے کے لیے سعودی رئیل اسٹیٹ ری فنانس کمپنی (ایس آر سی) قائم کی تھی۔حکومت نے رئیل اسٹیٹ کی فروخت پر 15 فی صد اضافی قدری ٹیکس (وی اے ٹی) کو 2020 میں ختم کردیا تھا۔ اس کی جگہ پانچ فی صد رئیل اسٹیٹ ڈسپوزل ٹیکس متعارف کرایا گیا اور پہلی مرتبہ 10 لاکھ سعودی ریال (270,000 ڈالر) مالیت کی جائیدادوں کے خریداروں کو استثنا دیا گیا تھا۔

مزید برآں ،'وائٹ لینڈ ٹیکس' کے نام سے معروف ایک اور اقدام شروع کیا گیا تھا۔اس کے تحت تعمیر کے لیے زمین کی دستیابی کو بہتر بنانے کے ارادے سے غیر ترقی یافتہ رہائشی اراضی پر 2.5 فی صد ٹیکس لاگو کیا جاتا ہے۔

سعودی عرب کے مرکزی بینک نے بھی ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی پرنمایاں اثر ڈالا ہے، جس سے پراپرٹی خرید کرنے کے لیے درکار کم سے کم پیشگی رقم (ڈاؤن پیمنٹ) کو کل قیمت کا 30 فی صد سے کم کرکے پانچ فی صد کردیا گیا ہے۔

تارکینِ وطن کو جائیداد خرید کرنے کی اجازت

دیگر حالیہ اصلاحات میں غیرملکیوں اور تارکین وطن کو جائیداد کی ملکیت کی اجازت، جائیداد کی رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانا اور سعودیوں کی نئی نسلوں کے لیے گھر کی ملکیت کو ممکن بنانا اور رہن کے نظام کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

سعودی عرب کی ہاؤسنگ مارکیٹ میں اس اقدام کا فوری اثر دیکھا گیا ہے۔2020ء میں سعودی عرب میں گھر کی ملکیت کی شرح 62 فی صد تک پہنچ گئی تھی اور 2030 تک 70 فی صد کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے ترقی کا عمل درست سمت میں ہے۔

سعودی عرب میں رہن کی مارکیٹ میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2020 میں سعودی خاندانوں کو 140.7 ارب سعودی ریال مالیت کے 295,590 معاہدوں کی پیش کش کی گئی تھی۔ سعودی عرب میں قرضے بہت کم شرح سود پر دیے جاتے ہیں اور درخواست گزار آسان ادائی کے منصوبے کے ساتھ پانچ لاکھ تک سعودی ریال حاصل کرسکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں