پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی میں واٹر سپلائی کا بحران؛ روایتی ماشکیوں کی چاندی
ملک کے سب سے بڑے شہر کی تقریباً نصف آبادی پائپ کے ذریعے پانی کی عدم فراہمی کی وجہ سے متبادل ذرائع کی تلاش پر مجبور ہے
رواں ہفتے کے اوائل میں پاکستانی کے ساحلی شہر کراچی پر جوں ہی سورج طلوع ہوا تو محمد دلدار نے بکرے کی کھال کی ایک بڑی مشک میں پانی بھرا اور اسے لے کر تنگ گلیوں سے ہوتے ہوئے بوہرا پیر محلے میں ایک خاندان تک پہنچا دیا۔
دلدار کی طرح ماشکی یا پانی بردار صدیوں سے جنوبی ایشیا میں موجود ہیں جو قدیم زمانے میں لڑائیوں کے دوران مسافروں اور جنگجوؤں کو پانی فراہم کرتے تھے۔
لیکن پرانا پیشہ آج خطرے میں ہے — کیونکہ پانی کی کمپنیاں اور ٹینکرز کراچی کے رہائشیوں کو تیزی سے پانی فراہم کر رہے ہیں — لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ پیشہ پائپ والے پانی کے حصول کی جدوجہد کرنے والے اور نازک انفراسٹرکچر والے شہر میں فروغ پذیر بھی ہے۔
کراچی کو تقریباً 1200 ملین گیلن روزانہ پانی درکار ہے تاکہ اس کی 20 ملین کی تخمینہ شدہ آبادی کی ضرورت پوری ہو سکے۔ لیکن حکام کہتے ہیں کہ اس شہر کے دو اہم آبی ذرائع صرف تقریباً 580 ملین گیلن روزانہ فراہم کرتے ہیں۔ خستہ حال بنیادی ڈھانچہ اور پانی کی چوری کی وجہ سے کچھ پانی ضائع ہو جاتا ہے جب کہ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور اوپر کی طرف بنائے گئے بھارت کے ڈیم بھی پانی کی فراہمی کم کر دیتے ہیں۔
شہری انتظام کے ماہر ڈاکٹر نعمان احمد کے مطابق کراچی کی تقریباً نصف آبادی کو کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی جانب سے فراہم کردہ پائپ والے پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے وہ متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔ نتیجتاً پانی کے ٹینکر اور محلے کے فلٹریشن پلانٹس فروغ پا رہے ہیں۔ اسی طرح ماشکی یا پانی بردار بھی۔
چالیس سال سے زائد عمر کے دلدار نے عرب نیوز کو بتایا، "کراچی میں پانی کا مسئلہ بہت بڑا ہے اور ایک بار جب [پائپ والا] پانی گھروں تک پہنچ جاتا ہے تو ہماری روزی روٹی ختم ہو سکتی ہے۔"
"ابھی عموماً گھروں تک (پائپ والا) پانی نہیں پہنچ رہا اس وجہ سے لوگ صبح سویرے پانی لانے کے لیے ایک یا دو ماشکیوں کو کرایہ پر لیتے ہیں۔"
پانی برداری کی روایت کراچی کی رگوں میں دوڑتی ہے۔ اگرچہ شہر میں ماشکیوں کی تعداد کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں ہیں لیکن تجارت سے منسلک افراد کے نزدیک یہ تعداد سینکڑوں میں ہے۔ عرب نیوز نے انٹرویو لینے کے لیے جن تین مقامات کا دورہ کیا ان میں سے ہر ایک پر کم از کم 50 ماشکی موجود تھے۔
مشکیں بنانے والے شہر کے چند کاریگروں میں سے ایک غلام مصطفےٰ ہیں۔ انہوں نے بھی بکرے کی کھال کے تھیلوں (مشک) کی بڑھتی ہوئی طلب کی اطلاع دی۔
انہوں نے کہا کہ "فروخت پہلے کی نسبت زیادہ ہے کیونکہ کراچی میں [پانی کی] موجودہ صورتحال کی وجہ سے [ماشکیوں سے] پانی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔"
اور یوں دلدار جیسے پانی بردار اپنے والدین سے وراثت میں ملنے والے پیشے کو آگے بڑھاتے ہیں۔
دلدار جس نے اپنے بوڑھے والد کی مدد کے لیے 12 سال کی عمر میں پانی لے جانا شروع کیا تھا، بتایا۔ "میرے پردادا یہ کرتے تھے، میرے دادا نے کیا، میرے والد نے کیا، اور پھر میں اس میں شامل ہو گیا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ ہماری پانچویں نسل ہے جس نے اس روایت کو جاری رکھا ہوا ہے۔ میرا بیٹا پہلے ہی اس کام میں ساتھ شامل ہو چکا ہے۔"
ماشکی روزانہ تقریباً 1,000 روپے ($3.48) کی اجرت کما لیتے ہیں۔ اس کے لیے وہ فی مشک 50 کلو تک پانی لے جاتے ہیں جس کے لیے طاقت اور مہارت دونوں درکار ہیں۔
دلدار نے کہا۔ "اسے اٹھانے کے لیے تھوڑی تربیت کی ضرورت ہے۔ اسے یونہی بے ترتیبی سے نہیں اٹھایا جا سکتا۔ یہ 50 کلو وزن [صرف] ایک کندھے پر اٹھانے سے کندھا کمزور ہو جاتا ہے۔"
اگرچہ اس ملازمت کے جسمانی تقاضے ایک ماشکی کی عمر کا دورانیہ اچھا خاصا کم کر سکتے ہیں پھر بھی اس میں آمدنی کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ "سارا دن اِدھر سے اُدھر آنے جانے اور اس بھاری بوجھ کو اٹھانے کے لیے بہت زیادہ محنت کی ضرورت ہے پھر بھی ہمیں اس سے جو آمدنی ملتی ہے وہ بہت کم ہے۔"
کام کی مشکل نوعیت اور کم اجرت کی بنا پر رنچھوڑ لائن کے علاقے میں ایک پانی بردار شوکت علی کو امید تھی کہ ان کے بچے کیریئر کی کوئی اور نئی راہیں اپنائیں گے۔
زیادہ تر ماشکی طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کام کرتے ہیں یا جب تک اس کا جسم جسمانی طور پر اتنا پانی اٹھانے کا دباؤ برداشت کرنے سے انکار نہ کر دے۔ انہی میں سے ایک ماشکی علی نے اپنے بچوں کے بارے میں کہا، "لیکن مجبوری اور غربت کی وجہ سے ہم انہیں اس کام میں شامل کرنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے بزرگ یہ کام کرتے تھے اور اسی لیے ہمارے پاس بھی اس میں شامل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔"
انہوں نے کہا کہ "یہ کام تھکا دیتا ہے اور نیند میں خلل پیدا کرتا ہے۔"
علی نے ہنستے ہوئے بتایا کہ اگرچہ وہ ابھی چالیس سے زائد کا ہی ہے لیکن اپنی عمر سے کافی بڑا نظر آنے کی وجہ سے محلے کے بہت سے لوگ اسے چاچا یا چچا کہہ کر پکارتے تھے۔
اپنی مشک کو ایک کندھے پر درست طریقے سے رکھ کر چھ منزلہ عمارت تک لے جانے کی تیاری کرتے ہوئے اس نے مزید کہا، "میں 43 سال کا ہوں لیکن آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ کام کرنے والے کی عمر کتنی تیزی سے بڑھتی ہے۔"
-
پاکستانی بازار حصص نے چھ سال بعد 49 ہزار پوائنٹس کی حد عبور
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کا بینچ مارک 100-انڈیکس 6 سال بعد 49 ہزار ...
پاكستان -
پاکستانی ڈرامہ مائی ری بچپن کی شادی اور دیگر مسائل پر روشنی ڈالتا ہے
معروف اداکارہ ماریہ واسطی نے بچپن کی شادی کو 'زیادتی کی انتہائی صورت' قرار دیا ...
پاكستان -
پاکستان میں پاسپورٹ کی مدت میں تجدید کے لیے مقررہ فیس میں اضافہ
پاکستانی حکومت نے آن لائن اور آف لائن پاسپورٹ رینیو کروانے کی فیس میں اضافہ کردیا ...
پاكستان