برقی رو میں تعطل اور گرمی سے غزہ میں سانس کی بیماریوں میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ میں گرمی کی لہر اور بجلی کی بڑھتی ہوئی بندش سے پُرہجوم فلسطینی انکلیو کے چند رہائشیوں کا سانس لینا دشوار ہو گیا ہے۔

اسماعیل ناشوان جو تنگئ تنفس کا شکار ہیں، کو درجہ حرارت 38 ڈگری سیلسیس (104 فارن ہائیٹ) سے بڑھ جانے کے بعد سے اپنے گھر اور ہسپتال کے درمیان بار بار آنا جانا پڑتا تھا کیونکہ وہ گھر میں اپنا وینٹی لیٹر حتیٰ کہ صرف ایک پنکھا بھی نہیں چلا سکتے تھے۔

65 سالہ ناشوان نے آکسیجن ماسک کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا، "میں ہسپتال جاتا ہوں اور جب گھر واپس آتا ہوں تو بجلی دوبارہ بند ہو جاتی ہے اس لیے میں واپس ہسپتال جاتا ہوں۔ میری زندگی ایسی ہو گئی ہے۔" ان کے کمرے میں سانس لینے کے آلات کے ساتھ میز پر ادویات کے درجنوں تھیلے رکھے ہوئے تھے۔

مصر اور اسرائیل کے درمیان واقع زمین کی ایک تنگ پٹی میں 2.3 ملین سے زیادہ لوگ رہتے ہیں۔ بجلی کی بندش جو بہترین اوقات میں غیر متوقع ہوتی ہے، اب 10 کے بجائے دن میں تقریباً 12 گھنٹے تک رہتی ہے کیونکہ ایئر کنڈیشننگ کی طلب بڑھ جاتی ہے۔

انتہا پسند گروپ حماس جو 2007 سے اس علاقے کو چلا رہا ہے، 16 سالہ طویل اسرائیلی ناکہ بندی کو غزہ کی معیشت کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیتا ہے - جسے ہمسایہ ملک مصر کی حمایت حاصل ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس تک اسلحے کی رسائی روکنے کے لیے اس علاقے کی ناکہ بندی ضروری ہے۔

غزہ کے شہدا الاقصیٰ ہسپتال کے ڈاکٹر محمد الحاج نے کہا کہ شدید گرمی اور بجلی کی بندش کا مطلب ہے کہ انہیں اس جولائی اور اگست میں سانس کی تکلیف کے زیادہ مریضوں کا علاج کرنا پڑا ہے – جو عموماً سال کا گرم ترین وقت ہوتا ہے۔

حاج نے کہا، "بجلی کی بندش مریضوں کو باقاعدگی سے آکسیجن وینٹیلیشن کے حق سے محروم کر دیتی ہے جس کی وجہ سے وہ ہسپتال جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔"

غزہ کے صحت حکام نے کہا ہے کہ تنگئ تنفس کے مسائل کے داخل شدہ مریضوں کے ساتھ انکلیو میں 300 سے زائد افراد سسٹک فائبروسس کے ساتھ پیدا ہوئے جس کی وجہ سے پھیپھڑے اور نظامِ انہضام لیس دار بلغم سے بند ہو جاتا ہے۔

عبدالمجید السبخی جنہیں ذیابیطس کے ساتھ ساتھ سسٹک فائبروسس بھی ہے، گرمی کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونے والوں میں شامل تھے۔

انہوں نے کہا۔ "میں گھر میں گرمی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس سے سینے میں زیادہ سوزش ہوتی ہے اور دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے اس لیے میں اپنا زیادہ تر وقت ہسپتال میں گذارتا ہوں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size