سعودی ’’ویژن 2030‘‘ نے کئی اہداف حاصل کرلئے، مزید پر کام جاری

سعودی معیشت عالمی سطح پر 7 کی فہرست میں واپس آسکتی ہے: شہزادہ محمد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی چینل "فاکس نیوز" کے ساتھ اپنے انٹرویو کے اقتصادی پہلو میں تصدیق کی ہے کہ 2022 میں سعودی عرب کی معیشت نے جی 20 ممالک میں سب سے تیزی سے ترقی کی۔ غیر تیل کی معیشت کی ترقی کے تناظر میں اس سال بھی سعودی عرب جی 20 ملکوں میں بھارت کے بعد دوسرا تیز ترین ترقی کرنے والا ملک شمار ہونے جارہا ہے۔
سعودی ولی عہد نے مزید کہا کہ سعودی معیشت دنیا میں 17ویں نمبر پر ہے اور ہم 7 کی فہرست میں واپس آ سکتے ہیں۔ ویژن 2030 کے لیے زیادہ عزائم کے ساتھ نئے اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
اسی تناظر میں اقتصادی ماہر محمد العنقری نے ’’العربیہ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب ترقیاتی منصوبوں میں پائیداری پیدا کرنے کے لیے کام کر رہا ہے تاکہ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے خزانے کے وسائل پر پڑنے والے اثرات سے بچا جا سکے۔ اس پالیسی کے باعث ترقی کی منازل طے ہو رہی ہیں۔
العنقری نے مزید کہا کہ تمام دستیاب صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے کام کیا گیا ہے جن میں پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے اقدامات، فنانسنگ کے ذرائع میں تنوع اور نجی شعبے کی ترقی میں تیز اور زیادہ رفتار سے خریداری شامل ہے۔ اس سے ترقی کی بلندیوں کو حاصل کرنے میں مدد ملی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تیل کے شعبہ کی بہتری نے کیش فلو کے حصول میں اہم کردار ادا کیا جسے مملکت کی سطح پر سرمایہ کاری میں تبدیل کیا گیا۔ اس نے تمام شعبوں کی نقل و حرکت میں اہم کردار ادا کیا۔ 40 ملین سیاحوں تک پہنچنا سعودی معیشت کی ترقی میں معاون عامل ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ غیر تیل کے شعبے میں ترقی 6 فیصد سے کم نہیں ہوگی کیونکہ یہ قابل توجہ ہے کہ نئے منصوبوں کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ مملکت تمام خطوں کی سطح پر مختلف منصوبوں کے لیے ایک بڑی ورکشاپ بن گئی ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ 2030 کے بعد کے عرصے کے لیے سعودی عرب کی تیاری پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ ہماری توجہ ڈیجیٹل معیشت کی توسیع کی روشنی میں عالمی سطح پر مقابلہ کرنے اور مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجیز کو برآمد کرنے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئی اقتصادی راہداری سعودی عرب کو صرف تیل ہی نہیں بلکہ توانائی کا ذریعہ بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ یورپ، ایشیا اور افریقہ کے درمیان دنیا کی اہم ترین لاجسٹک راہداری بن جائے گی۔
میکائیل فنانشل ٹیکنالوجیز کے سی ای او ہشام ابو جامع نے ’’العربیہ‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے کھیلوں کے شعبے میں جو کچھ حاصل کیا ہے اس کا دنیا میں اس وقت چرچا ہے۔
ابو جامع نے مزید کہا کہ آرامکو، ایس ٹی سی اور ایس اے بی آئی سی جیسی بہت سی کمپنیوں کے بارے میں بات چیت ہو رہی ہے کہ وہ نئے کلبوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ سیاحت اور تفریح کا شعبہ سرمایہ کاری کے لیے اہم شعبوں میں سے ایک ہے۔ خاص طور پر کورونا وبائی امراض کے دوران پابندی کی مدت کے بعد مذہبی سیاحت یعنی حج اور عمرہ کی بحالی کے ساتھ مختلف سیاحتی تقریبات اور سرگرمیوں کو بھی ترقی دی گئی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی مالیاتی اور فن ٹیک سیکٹر میں بھی نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ کئی شعبوں میں سعودی عرب ویژن 2030 کے اہداف سے بھی اوپر چلا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں