چین:ایشیائی کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں حقیقی آتش بازی غائب،برقی قمقموں نے رنگ بکھیرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

چین میں ہفتہ کے روز ایشیائی گیمز کا باضابطہ آغاز ہوگیا ہے۔افتتاحی تقریب میں کھیلوں کے ایک بڑے بین الاقوامی ایونٹ کے تمام رنگ اور نمونے پیش کیے گئے ہیں۔

ایشیائی کھیلوں کی افتتاحی تقریب ہانگژو اسپورٹس سنٹراسٹیڈیم میں منعقد ہوئی۔80,000 نشستوں والا یہ اسٹیڈیم تماشائیوں سے کھچاکھچ بھرا ہوا تھا لیکن افتتاحی تقریب میں ایک بڑی چیز غائب تھی، اور وہ تھی حقیقی آتش بازی، جس میں دھماکوں اور پٹاخوں کی آوازیں ہوتی تھیں اور گندھک اور جلے ہوئے فیوزکی بُو ہوتی تھی۔اس کے بجائے ، ہائی ٹیک گیمز ،جسے یقیناً "گرین گیمز" کہا جاسکتا ہے،الیکٹرانک فلیش ، تھری ڈی اینی میشن اور ورچوئل مشعلوں اور برقی قمقموں کے مناظر تھے۔

چین کے صدر اور حکمران کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری شی جن پنگ نے ایشیائی کھیلوں کا افتتاح کیا۔ وہ جب میدان میں پہنچے تو ان کا پُرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔ شائقین میں 45 ممالک اور خطوں سے تعلق رکھنے والے 12،417 شرکاء شامل تھے۔ انھوں نے دو ہفتے تک جاری رہنے والے کھیلوں کے باضابطہ افتتاح کے لیے پریڈ میں حصہ لیا۔

واضح رہے کہ ایشیائی کھیلوں کے مقابلے میں آیندہ سال پیرس میں ہونے والے اولمپکس میں قریباً 10,500 کھلاڑی میدان میں اتریں گے۔گویا ان بڑے مقابلوں میں شریک ہونے والے ایتھلیٹس کی تعداد ایشیائی کھیلوں کے مقابلے کوئی دوہزار کم ہوگی۔

صدر شی جن پنگ جب اسٹیڈیم میں داخل ہوئے تو میدان ایل ای ڈی اسٹار لائٹس سے جگمگا اٹھا۔جب روشنیاں مدھم ہوئیں اور آٹھ چاق چوبند فوجی اپنے سروں کے اوپر قومی پرچم اٹھائے پہنچے تو اسٹینڈز میں روشن چمک پیدا ہو گئی۔

سب سے زیادہ خوشی کا اظہار چینی دستے کی آمد پر کیا گیا لیکن تائیوان، شمالی کوریا اور ہانگ کانگ کے دستوں کا بھی گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔ کسی بھی وفد کے لیے کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔

واضح رہے کہ ایشیائی کھیلوں کو کرونا وائرس کے وبائی مرض کی وجہ سے ایک سال کے لیے ملتوی کردیا گیا تھا۔چین نے رواں سال کے اوائل میں زیرو کووِڈ پالیسی ختم کردی تھی۔اس کے بعد سے ملک میں منعقد ہونے والے کھیلوں کے یہ سب سے بڑے مقابلے ہیں۔ افتتاحی تقریب میں شام کے صدر بشار الاسد، بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کے صدر تھامس باخ اور کمبوڈیا کے بادشاہ نورڈوم سیہامونی بھی شامل تھے۔

چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی شنہوا نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ہانگژو میں ایشیائی گیمز کی کھڑکی کے ذریعے دنیا بھر کے لوگ اپنے نئے دور میں ایک قابل اعتماد، محبت کرنے والے اور قابل احترام چین کو دیکھیں گے۔

ہانگژو میں ایشیائی کھیلوں کی میزبانی کے لیے عطیات اور نجی شعبے سے ہونے والی آمدن کامارچ تک تخمینہ کروڑوں ڈالرلگایا گیا تھا، جبکہ اخراجات کا تخمینہ 30 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا کیونکہ شہر میں کھیلوں کے 56 میدان ، 30 تربیتی مقامات، کھلاڑیوں کے لیے پانچ دیہات کی تعمیر کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے میں بڑی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

ان ایشیائی کھیلوں میں بڑے مقابلے منعقد ہورہے ہیں۔ان مقابلوں کی حیرت انگیز تعداد اولمپکس میں بھی نہیں ہوگی۔اس مرتبہ کرکٹ بھی ہے۔یہ مقبول کھیل 2028 میں لاس اینجلس میں اور یقینی طور پر 2032 میں آسٹریلیا کے شہر برسبین میں ہونے والے اولمپکس کا بھی حصہ ہوگا۔

علاقائی کھیلوں کے مقابلوں میں ڈریگن بوٹ ریسنگ سیپاکٹاکرو، جسے کبھی "کک والی بال" بھی کہا جاتا ہے - ووشو ، ایک چینی مارشل آرٹ ، اور کبڈی بھی شامل ہے جو برصغیر پاک و ہند میں ایک مقبول رابطہ کھیل ہے۔اس کے علاوہ کھیلوں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ان میں منتظمین کے مطابق پل سے شطرنج تک اور سیانگچی (چینی شطرنج) سے ای اسپورٹس تک شامل ہیں۔مؤخرالذکر کو "مائنڈ اسپورٹس" بھی کہا جاتا ہے۔2018 میں اس ای اسپورٹس کی پہلی مرتبہ نمائش کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے ای اسپورٹس بڑا مقبول ثابت ہوا ہے۔

ایشیائی کھیلوں میں کل 481 مقابلے ہوں گے۔ان میں بہت سے چھوٹے دستوں کو بھی تمغے جیتنے کا موقع ملتا ہے جبکہ اولمپکس میں تو ان کے لیے ایسی کامیابی کا حصول اکثر ناممکن ہوتا ہے۔ چین نے پانچ سال قبل ایشیائی گیمز میں قریباً 300 تمغے جیتے تھے۔اس مرتبہ بھی یقینی طور پر اس کا غلبہ ہوگا جس کے بعد جاپان اور جنوبی کوریا کا نمبر آتا ہے۔

شمالی کوریا کے ساتھ ساتھ افغانستان کی نمائندگی کرنے والی خواتین ایتھلیٹس بھی بھی افتتاحی تقریب میں موجود ہیں مگر افغان ٹیم میں شامل خواتین غیر طالبان کے جھنڈے تلے مارچ کر رہی تھیں۔جمہوری جزیرہ تائیوان نے بھی ہمیشہ کی طرح ایک مضبوط ٹیم کو میدان میں اتارا ہے۔اس جزیرے پر چین دعوے دار ہے اور اس کو اپنا الگ صوبہ قرار دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں