خبردار! اپنے بچوں پر چیخنا انہیں مارنے سے بھی بدتر بلکہ ہراساں کرنے مترادف ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بہت سے والدین اپنے بچوں کو جسمانی طور پر مار پیٹ سے بچنے کے لیے زبانی بدسلوکی کا سہارا لیتے ہیں، حالانکہ انہیں اندازہ نہیں یہ کتنا خطرناک ہے۔ ایک حالیہ تحقیق نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بچوں پر چیخنا بھی جسمانی زیادتی کی طرح بچوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

برطانوی اخبار "دی گارڈین" کی رپورٹ کے مطابق تحقیق نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بچوں کو چیخنے یا انہیں "احمق" کہنے سے ان کی نفسیات پر ایسے ہی مضر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جیسے جسمانی یا جنسی حملوں کے نتیجے میں ہوتے ہیں۔

مطالعے میں 20،000 سے زیادہ برطانویوں کو شامل کیا گیا۔ اس سے یہ بھی ظاہرہوتا ہے جن لوگوں کو زبانی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ان میں منشیات کا استعمال کرنے کا امکان تقریباً دوگنا تھا۔ انہیں تقریباً دوگنا خطرے کا سامنا کرنا پڑا۔

انتہائی تکلیف دہ الفاظ

برطانیہ میں 11 سے 17 سال کی عمر کے 1,000 بچوں پر کی گئی ایک اور تحقیق میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ 41 فیصد نے کہا کہ بالغ افراد چاہے ان کے والدین، دیکھ بھال کرنے والے یا اساتذہ اکثر ان کے لیے تکلیف دہ اور پریشان کن الفاظ استعمال کرتے ہیں اور مسلسل ان کی توہین اور ان پر تنقید کرتے ہیں۔

شرکاء میں سے نصف نے کہا کہ وہ ہفتہ وار بنیادوں پر اس طرح کے رویے کا سامنا کرتے ہیں، جبکہ 10 میں سے ایک نے کہا کہ وہ روزانہ اس کا سامنا کرتے ہیں۔

بچوں نے نشاندہی کی کہ ان کے سامنے آنے والے سب سے زیادہ نقصان دہ اور پریشان کن الفاظ یہ تھے کہ "تم بیکار ہو" "تم بیوقوف ہو،" اور "تم کچھ ٹھیک نہیں کر سکتے"۔

محققین کا کہنا ہے کہ بچوں سے سختی سے بات کرنے کو بدسلوکی کی ایک شکل کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے بچوں کی نفسیات پر تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

"بیوقوف اور سست"

پروفیسر شانتا آر دوبے جو بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی ایک امریکی ماہر اور اس تحقیق کی شریک مصنف ہیں نے کہا کہ "اکثر، بالغوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ کس طرح چیخنے والا لہجہ اور تنقیدی الفاظ جیسے 'احمق' اور 'کاہل'۔ ، بچوں پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "بچوں پر چیخنا چلانا یا ان کی توہین کرنا نقصان دہ اثرات مرتب کر سکتا ہے جیسے کہ جسمانی اور جنسی استحصال کی وجہ سے ہوتا ہے"۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 36.1 فیصد بچے جذباتی زیادتی کا شکار ہوئے ہیں، جس میں زبانی بدسلوکی بھی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں