سعودی عرب میں ممکنہ فٹ بال ورلڈ کپ میزبانی کے علاوہ بھی بہت کچھ لائے گا

سعودیہ نے 2034 ورلڈ کپ کی میزبانی کا منصوبہ کیسے بنایا؟ اس سے سعودی کھیلوں کی ترقی پر کیا اثر پڑے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ستمبر میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے فاکس نیوز کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ سعودی عرب کھیلوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ کیا ہے اور یہ ملک کی جی ڈی پی کا ایک فیصد ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب کھیلوں کے شعبہ میں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ جاری رکھے گا اور سپورٹس کی مد میں اخراجات کو کل جی ڈی پی کے ڈیڑھ فیصد تک پہنچادے گا۔ یہ اقدامات آمدنی کے ذرائع کو متنوع بنانے کے ریاض کے منصوبوں کے تحت آتے ہیں۔

کلبوں کی نجکاری

اس سے قبل جون 2023 میں شہزادہ محمد بن سلمان نے پہلے مرحلے کے انتظامی طریقہ کار کو مکمل کرنے کے بعد سپورٹس کلبوں کے لیے سرمایہ کاری اور نجکاری کے منصوبے کا آغاز کیا تھا ۔ یہ کھیلوں کے شعبے میں سعودی وژن 2030 کے اہداف کے حصول کی جانب ایک قدم کے طور پر ہے اور اس کا مقصد کھیلوں کے ایک موثر شعبے کی تعمیر کرنا ہے۔ نجی شعبے کو کھیلوں کے شعبے کی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنا اور اس قابل بنانا ہے قومی ٹیموں، کھیلوں کے کلبوں اور تمام سطحوں پر پریکٹیشنرز کو مطلوبہ کمال حاصل ہوسکتے۔

اس منصوبے نے سعودی عرب میں سرگرم اداروں اور کمپنیوں کے ایک گروپ کو متعدد کلبوں کو حاصل کرنے پر آمادہ کیا۔ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے کلبوں کو حاصل کیا۔ ان کلبوں میں الہلال، النصر، الاھلی اور الاتحاد شامل ہیں۔ "نیوم" نے "فالکن" کلب حاصل کیا، "آرامکو" نے "القادسیہ کلب" حاصل کرلیا۔ ’’ دریہ کلب‘‘ کو دریہ گیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے حاصل کرلیا۔ ’’العلا‘‘ کلب کو "رائل کمیشن برائے العلا گورنریٹ نے حاصل کیا۔

یہ اقدامات "سپورٹس کلبوں کی سرمایہ کاری اور نجکاری" کے منصوبے کا صرف آغاز ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد کلب کی کارکردگی کی سطح کو بلند کرنا اور مالی حل طلب دیگر فریقوں کو حصص خریدنے یا سعودی کلبوں کو مکمل طور پر حاصل کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

مذکورہ پروجیکٹ سعودی کلبوں کے لیے نئے دروازے کھول رہا ہے۔ خاص طور پر وہ کلب جو "روشن لیگ" میں حصہ لیتے ہیں ان کے لیے مواقع پیدا کر رہا ہے تاکہ یہ کلب اہم لیگوں سے بڑے بین الاقوامی ناموں کو اپنی طرف متوجہ کر سکیں۔ یہی وجہ ہے سعودی لیگ کو فالو کرنے والے سمجھتے ہیں کہ "روشن لیگ" میں کارکردگی میں اعلیٰ مسابقت پائی جارہی ہے۔ فٹ بال کلب اور شائقین کی طرف سے فالو اپ کیا جارہا ہے۔ ان کلبوں میں بین الاقوامی فٹ بال سٹارز بھی شامل ہو رہے ہیں۔ سعودی کلبوں کا حصہ بننے والے انٹرنییشنل فٹ بال سٹارز میں رونالڈو، نیمار دا سلوا، کریم بینزیما، ریاض مہریزاور دیگر شامل ہیں۔ ان سٹارز کے دنیا بھر میں شائقین موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے "روشن لیگ" کے میچز ایک سے زیادہ زبانوں میں نشر کئے گئے ہیں۔

بھاری سرمایہ کاری

انٹرنیشنل فیڈریشن آف ایسوسی ایشن فٹ بال (فیفا) کی طرف سے شائع ایک رپورٹ کے مطابق سعودی کلبوں نے موسم گرما کی منتقلی کی مدت کے دوران نئے کھلاڑیوں کو اپنی طرف راغب کرنے پر تقریباً 875.4 ملین ڈالر خرچ کیے۔ اس طرح انگلش پریمیئر لیگ کلبوں کے بعد سعودی کلب دوسرے نمبر پر رہے۔ سعودی کلبوں نے فرانس، اٹلی، جرمنی اور سپین جیسے ملکوں کی بین الاقوامی لیگوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

اس خرچ سے "روشن لیگ" کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ ہوا۔ ٹیلی ویژن کے نشریاتی حقوق سے حاصل ہونے والی آمدنی میں اضافہ ہوا۔ شرٹس کی فروخت میں اضافہ ہوا۔ اس طرح خرچ کی گئی رقم کے بدلے مالی منافع بھی بہتر ہوگیا۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے 2034 ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے انتخاب لڑنے کے ارادے کا اعلان ایک جامع منصوبے پر مبنی ہے جس کے ذریعے سعودی فٹ بال ایسوسی ایشن تمام صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ شائقین کو ایک شاندار اور بے مثال تجربہ فراہم کیا جا سکے۔ سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں کھیلوں کے بہت سے بین الاقوامی مقابلوں اور سرگرمیوں کی میزبانی کرنے والی عظیم کامیابیوں کے بعد ورلڈ کپ کی میزبانی ایک بڑی کامیابی شمار ہوگی۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے پیش کردہ وژن کے مطابق فٹ بال صرف تفریحی کھیل نہیں ہے بلکہ یہ دنیا میں امن اور محبت کے پیغامات پھیلانے کا بھی ایک بہتر عمل بھی ہے۔ یہ مختلف نسلوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ملنے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔

اس سعودی اعلان کا کئی دوست خلیجی اور عرب ملکوں نے خیرمقدم کیا ہے۔ کیونکہ مملکت کی جانب سے کھیلوں کے اس اہم ایونٹ کی میزبانی، اگر وہ جیت جاتی ہے، تو صرف اکیلے سعودی عرب نہیں بلکہ پڑوسی ملکوں کے لیے ایک اہم قدم بنے گی۔ یہ میزبانی ترقی اور سرمایہ کاری کو آگے بڑھائے گی۔ افہام و تفہیم، استحکام اور علاقائی سلامتی کے لیے ماحول پیدا کرے گی۔

فٹبال سٹارز کی بڑی تعداد آج سعودی سٹیڈیم میں موجود ہے اور آنے والے مہینوں اور سالوں میں ان کے ساتھی بھی آئیں گے۔ 2034 کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی سعودی کھیلوں کی ایک منفرد دہائی کو مکمل کرے گی۔ یہ میزبانی دنیا کے لیے مختلف شعبوں میں ایک ابھرتی ہوئی طاقت کو دیکھنے کا موقع بھی فراہم کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size