تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل زمینی راستے سے غزہ میں داخل ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم مکمل طور پر تیار ہیں۔ اگر زمینی راستے سے غزہ میں داخل ہونے کی صورت میں اسرائیل کو بھاری نقصان پہنچانے کے لیے ہم نئے آپشنز اختیار کریں گے۔
القسام بریگیڈ کے ترجمان نے جمعرات کو کہا کہ تحریک حماس نے غزہ کی پٹی کے اطراف کے علاقوں پر اچانک حملے کے چھ دن بعد اسرائیل کے خلاف آپریشن کے لیے ایک بہت بڑا بجٹ مختص کردیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے اس آپریشن کی منصوبہ بندی احتیاط سے کی ہے۔ اس حوالے سے زمین کی نوعیت اور موسمی حالات کا مطالعہ بھی کیا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ معرکہ ’’ طوفان الاقصیٰ‘‘ حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے گزشتہ ہفتے کے روز شروع کیا تھا۔ اس آپریشن کو ایک تاریخی فوجی کامیابی تصور کیا جارہا ہے۔
القسام کے ترجمان ابو عبیدہ نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تنازع میں کوششوں کو متحرک کرنے کے سلسلے میں دوسرے دھڑوں کے ساتھ ہم آہنگی کی رفتار میں اضافہ اور ترقی ہوئی ہے۔ آپریشن ’’ طوفان الاقصیٰ‘‘ میں فورسز کی پیش قدمی کے لیے ہزاروں میزائلوں نے فائر سپورٹ فراہم کی۔
ابو عبیدہ نے وضاحت کی کہ جنگ کے آغاز میں فورسز کی نقل و حرکت کے دوران مشاہداتی ٹاورز، ٹرانسمیشنز اور مواصلاتی نظام کو نشانہ بنایا گیا۔ ہم نے انہیں ڈرونز سے جام کر دیا تھا۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ اس آپریشن کے لیے 3000 ارکان کو بلایا گیا تھا۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ القسام بریگیڈ نے آپریشن کے دوران اسرائیلی غزہ ڈویژن کے تمام 15 مقامات پر حملہ کیا تھا۔