اسرائیلی فوجیوں کو مفت کھانے کی فراہمی، میکڈونلڈ کی فرنچائزز میں اختلاف پیدا ہوگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کچھ مسلم ملکوں میں میک ڈونلڈز کی فرنچائزز نے کمپنی کے اسرائیلی ریستورانوں کی طرف سے اسرائیلی فوج کو مفت کھانا دینے کے اقدام کو مسترد کر دیا ہے۔ اس اقدام سے عالمی کارپوریشنز کی جانب سے علاقائی سیاست میں اختلافات بڑھانے کے کردار کا پتہ چلتا ہے۔

میک ڈونلڈز اسرائیل نے گزشتہ ہفتے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کہا تھا کہ اس نے اسرائیل کی افواج کے ہزاروں اہلکاروں کو مفت کھانا فراہم کیا ہے۔ اتوار کو فرنچائز نے دوبارہ کہا کہ وہ کھانا عطیہ کر رہی ہے ان تمام لوگوں کو جو ریاست، ہسپتالوں اور آس پاس کے علاقوں کے دفاع میں شامل ہیں۔

سات اکتوبر سے شروع حماس اور اسرائیل کے درمیان لڑائی میں 1300 سے زیادہ اسرائیلی ہلاک اور 3000 کے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔ کمپنی کے بیان کے مطابق میک ڈونلڈز اسرائیل الونیال لمیٹڈ کی ملکیت ہے۔ کمپنی کے بارے میں مزید معلومات دستیاب نہیں ہوئیں۔

سعودی عرب، عمان، کویت، متحدہ عرب امارات، اردن اور ترکی میں امریکی برگر کمپنی کی فرنچائزز نے خود کو اسرائیلی فرنچائز سے الگ کرتے ہوئے بیانات جاری کیے۔ انہوں نے زیادہ تر معاملات میں غزہ کے لیے امداد کا وعدہ کیا۔

سعودی عرب میں میک ڈونلڈز کی فرنچائز نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل میں میک ڈونلڈز کی طرف اسرائیلی فوجیوں کو کھانا عطیہ کرنے کا فیصلہ انفرادی نوعیت کا ہے۔ نہ تو عالمی میک ڈونلڈز اور نہ ہی ہمارا اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کی میکڈونلڈ فرنچائز کا اس فیصلے میں کوئی کردار ہے۔

میک ڈونلڈز ایک عالمی فوڈ چین ہے لیکن اس کی فرنچائزز اکثر مقامی ملکیت رکھتی اور خود مختار طریقے سے کام کرتی ہیں۔

اس حوالے سے میک ڈونلڈز کارپوریشن نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا لیکن امریکہ میں کمپنی کے قریبی ذرائع نے کہا کہ اسرائیلی فرنچائز ایک آزاد کاروبار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size