پاکستان میں کام کرنے والے ایک غیر حکومتی تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ سال 2025 کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے باعث اموات کی شرح غیر معمولی طور پر بڑھ گئی۔ تھنک ٹینک کے مطابق پچھلے سال کے دوران یہ اضافہ 74 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
تاہم اس میں یہ امر قابل ذکر ہے کہ پچھلے سال دہشت گردوں کی ہلاکتوں کی تعداد مجموعی تعداد کے نصف سے زیادہ رہی۔
پاکستان کی طرف سے ایک عرصے سے افغانستان پر اعتراض کیا جا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو استعمال کر کے دہشت گرد پاکستان میں حملہ آور ہوتے ہیں۔ مگر طالبان حکومت نے دہشت گردوں سے چشم پوشی کی حکمت عملی اپنا رکھی ہے۔
دونوں پڑوسی اور برادر ملکوں کی حکومتیں اسی وجہ سے حالیہ کچھ عرصے کے دوران کشیدگی کے بدترین دور سے گزری ہیں۔ اس دوران دونوں طرف درجنوں افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔
افغان طالبان کی حکومت جس نے 2021 سے کابل کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے۔ اپنی سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے کے بارے میں پاکستان کے الزام کو اس طرح مسترد کرتی ہے کہ اس سے طالبان حکومت کا لینا دینا نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کے اندرونی مسائل کا حصہ ہیں۔
'پاکستان انسٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز' کی 2025 میں پیش کردہ رپورٹ کے مطابق پچھلے سال مجموعی طور پر دہشت گردی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے کارروائیوں کے دوران مجموعی ہلاکتیں 1413 ہوئیں۔ اس سے پچھلے سال 2024 میں اس طرح کے واقعات میں ہلاکتوں کی تعداد 1925 تھیں۔
سال 2025 میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد میں 74 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مگر یہ بھی اہم بات ہے کہ ان 3413 ہلاکتوں میں دہشت گردوں کے مارے جانے کی تعداد 2138 بتائی گئی ہے۔
ان اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی ہلاکتوں میں اضافہ 124 فیصد ہوا۔ جو 2024 کے مقابلے میں ایک ریکارڈ اضافہ ہے۔
تحریک طالبان پاکستان نامی دہشت گرد گروہ کو طالبان اپنا حصہ تسلیم نہیں کرتے۔ تاہم اس کے افغان سرزمین پر موجودگی کا بھی انکار یا تردید نہیں کی جاتی۔
'پی آئی سی ایس ایس' کے ایم ڈی عبداللہ خان نے اس بارے میں کہا پاکستان میں دہشت گردی کے ان واقعات میں اضافے کی وجہ خودکش حملوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی تعداد بڑھنے کے علاوہ وہ اسلحہ بھی ایک بڑا سبب ہے جو امریکی فوج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد افغانستان میں ہی چھوڑ دیا گیا تھا۔ عبداللہ خان نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران دہشت گردوں کی کارروائیوں کے دوران 667 سیکیورٹی اہلکار بھی جاں بحق ہوئے ہیں جو سال 2024 کے مقابلے میں 26 فیصد زیادہ ہیں اور 2011 سے لے کر اب تک کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔
علاوہ ازیں ان واقعات میں 580 عام شہری بھی جاں بحق ہوئے۔ جو 2015 سے لے کر اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ان میں 28 حکومتی امن کمیٹیوں کے ارکان کی اموات بھی ہوئی ہیں۔
'پی آئی سی ایس ایس' کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں مجموعی طور پر پاکستان میں 1066 دہزت گردانہ حملے ہوئے اور یہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں 53 فیصد زیادہ رہی۔ البتہ سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پر 500 جنگجووں کو گرفتار بھی کر لیا۔ 2024 میں ان گرفتاریوں کی تعداد 272 تھی۔
'پی آئی سی ایس ایس' کی یہ رپورٹ پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے 2025 کے دوران 6723 کارروائیاں کر کے 1873 جنگجووں کو ہلاک کیا۔ جن میں 136 افغانی بھی شامل تھے۔
-
سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم پاکستان کا علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
ٹیلی فونک رابطے میں دوطرفہ تعلقات اور عالمی امور پر گفتگو
مشرق وسطی -
پاکستان یمن تنازع کے پُرامن حل کی حمایت کرتا ہے، دفتر خارجہ
اسلام آباد دفتر خارجہ کی بریفنگ میں یمن پر سعودی عرب سے پاکستان کی مکمل یکجہتی کا ...
بين الاقوامى -
ایران نے کینیڈا کی بحریہ کو "دہشت گرد تنظیموں" کی فہرست میں شامل کر لیا
تہران کے اعلان کے مطابق یہ اقدام اوٹاوا کی جانب سے ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت ...
بين الاقوامى