غزہ کے باسی آلودہ پانی پینے پر مجبور، ہسپتالوں میں ریزرو ایندھن خاتمے کے قریب
غزہ کے ہسپتالوں میں لاشوں کا جمع ہونا ماحولیات کے لیے تباہ کن، اس کا اثر غزہ کی پٹی کے باہر بھی ہوگا: عالمی ادارہ صحت
فلسطینی وزارت داخلہ کے ترجمان ایاد البزم نے جمعرات کو کہا کہ غزہ کے باشندے آلودہ پانی پی رہے ہیں۔ جس سے غزہ کی پٹی میں صحت کا بحران مزید سنگین ہونے کا خطرہ ہے۔ جب کہ اسرائیل فلسطین تنازعہ اپنے دوسرے ہفتے میں مزید خراب ہوتا جا رہا ہے۔
البزم نے وزارت داخلہ کے بیانات میں مزید کہا ہے کہ غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں کو اب ریزرو ایندھن ختم ہونے سے خطرہ لاحق ہے۔ اس سے ایک اضافی تباہی آئے گی۔ غزہ کی پٹی میں شمال سے جنوب تک کوئی محفوظ مقام نہیں ہے۔
فلسطینی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں بے گھر لوگوں سے بھرے گھروں پر بمباری کرنے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے تاکہ سب سے زیادہ عام شہریوں کو ہلاک کیا جا سکے۔
اس سے قبل آج جمعرات کو مشرقی بحیرہ روم کے لیے عالمی ادارہ صحت کے ریجنل ڈائریکٹر نے کہا کہ غزہ کے ہسپتالوں میں لاشیں ریفریجریٹرز کی گنجائش سے زیادہ ہیں۔ اس معاملے کو ماحولیاتی آفت قرار دیا جس سے پٹی اور اس کے باہر عوامی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔
احمد المنداری نے بدھ کے روز ایک میڈیا انٹرویو میں مزید کہا کہ غزہ میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریاں جیسے ہیضے کے پھیلنے کا خدشہ ہے کیونکہ لوگ پینے کے پانی کی کمی کے نتیجے میں آلودہ پانی استعمال کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا رفح کراسنگ کو نہ کھولنا ایک دوہری انسانی تباہی لائے گا۔ صورت حال کسی تاخیر کو برداشت نہیں کر سکتی۔ ہر سیکنڈ یا گھنٹہ جو کراسنگ کھولے بغیر گزر رہا ہے معصوم جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔