ہزاروں گھوڑوں کو فائرنگ سے مار دیا جائے گا، آسٹریلیا نے فیصلہ کیوں کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آسٹریلوی مقامی حکام نے جمعہ کے روز سب سے بڑے قومی پارکوں میں سے ایک میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے جنگلی گھوڑوں کو ہوا سے فائرنگ کر کے مار ڈالنے کا عمل دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کرلیا۔ یہ اقدام حیوانات اور نباتات کے تحفظ کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے لیکن اس سے تنازعہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

جنوب مشرقی آسٹریلیا کے کوسکیوسکو نیشنل پارک میں تقریباً 19 ہزار جنگلی گھوڑے ہیں جنہیں "برمبیز" کہا جاتا ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز کے ریاستی حکام 2027 کے وسط تک اس تعداد کو کم کر کے تین ہزار تک لانا چاہتے ہیں۔

گھوڑوں کی تعداد کو کم کرنے کے لیے پارک کے اہلکار پہلے ہی جنگلی گھوڑوں کو بندوقوں یا جالوں سے مارنے یا انہیں کہیں اور لے جانے کا طریقہ اپناتے ہیں۔ لیکن نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر ماحولیات پینی شارپ نے وضاحت کی کہ یہ اقدامات اب کافی نہیں ہیں۔

وزیر نے یہ بھی کہا کہ مقامی نسلیں معدوم ہونے کے دہانے پر ہیں اور جنگلی گھوڑوں کی بہت زیادہ تعداد سے پورے ماحولیاتی نظام کو خطرہ ہے۔ اس لیے اب ہمیں کام کرنا ہوگا۔

حکام ان جانوروں کو نقصان دہ سمجھتے ہیں کیونکہ یہ مٹی کے کٹاؤ کو بڑھاتے ہیں اور پودوں کو چر کر یا روند کر ضائع کر دیتے ہیں۔ یہ چھوٹے جانوروں کے بلوں کو نقصان پہنچانے کا بھی سبب بنتے ہیں۔ جنگلی گھوڑے کھانے اور رہائش کے لیے دوسرے جانوروں سے مقابلہ کرتے ہیں اور پانی کے ذرائع کو ناقابل استعمال بنا دیتے ہیں۔

شارپ نے زور دیا کہ فیصلہ کرنا آسان نہیں تھا کیونکہ کوئی بھی جنگلی گھوڑوں کو مارنا نہیں چاہتا ہے۔ جنگلی گھوڑوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مارنے کا طریقہ اس سے قبل 2000 میں مختصر مدت کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ تین دن میں 600 سے زیادہ گھوڑوں کو ختم کیا گیا تھا۔

لیکن مقامی حکام نے بعد میں عوامی غصے کے پیش نظر اس طریقہ کار سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ گھوڑوں کے خاتمے کے مخالفین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جنگلی گھوڑے آسٹریلیا کی قومی شناخت کا حصہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں