مرحوم تیونسی صدر زین العابدین کی کاروں پر نیا تنازع سامنے آگیا

زین العابدین کی ضبط شدہ جائیدادوں کا معاملہ بدعنوانی سے متعلق مشتبہ ترین معاملات میں سے ایک ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس میں مرحوم صدر زین العابدین بن علی کے خاندان کی ضبط شدہ جائیداد پر تنازع ایک مرتبہ پھر نمایاں ہوکر سامنے آگیا ہے۔ اس سے قبل انکشاف ہوا تھا کہ اس معاملہ میں بدعنوانی کے شبہات تھے اور سیاسی جماعتوں نے غیر قانونی طریقوں سے متعدد جائیدادوں سے فائدہ اٹھایا تھا۔

یہ تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب سابق جج اور سابق وزیر مملکت برائے املاک حاتم العشی نے اپنے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ 2012 میں پارٹی کے ایک عہدیدار نے مرحوم صدر کے خاندان کی ملکیتی 7 کاریں ایک لاکھ 35 ہزار دینار یا لگ بھگ 43 ہزار ڈالر میں حاصل کی تھیں۔ قیمت کم دکھانے کے لیے ان کاروں میں جان بوجھ کر کچھ توڑ پھوڑ بھی کی گئی تھی۔ ان کاروں کی حقیقی قیمت ڈیڑھ ارب دینار سے زیادہ تھی۔

سابق وزیر کا یہ بیان اس موقع پر سامنے آیا ہے جب تیونس کے حکام کی جانب سے اپوزیشن پارٹی کے جنرل کوآرڈینیٹر ریاض بن فضل کی گرفتاری کی گئی ہے۔ ریاض بن فضل کو پانچ روز کے لیے حراست میں لیا گیا ہے تاک سابق صدر زین العابدین کی ضبط شدہ جائیداد کے حوالے سے تحقیقات کی جا سکیں۔

غیر قانونی طور پر اور سستے داموں ضبط کی گئی بن علی کی جائیدادوں کی بدانتظامی اور نظر اندازی کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے کے مطالبات سامنے آنے کے بعد یہ تنازع ایک مرتبہ پھر سامنے آگیا ہے۔

صدر قیس سعید نے بدھ کے روز انصاف اور خزانہ کے وزراء لیلی جفال اور سہام البوغدیری کو طلب کیا اور زور دیا کہ ضبط کی گئی جائیداد کو کم ترین قیمتوں پر حاصل کرنے والوں کا احتساب کیا جائے گا۔

بن علی کی ضبط شدہ جائیدادوں کا معاملہ ان معاملات میں شامل ہیں جن پر بدعنوانی سے متعلق سب سے زیادہ شبھات پائے جاتے ہیں۔ 2011 کے انقلاب کے بعد حکام نے سابق صدر کی جائیدادوں کا جائزہ لینے کے لیے تین کمیٹیاں تشکیل دی تھیں لیکن یہ معاملہ اب تک حل طلب ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں