فلسطینی اسیروں کو حراستی مراکز میں تشدد اور توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا جانے لگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سات اکتوبر کو غزہ میں فلسطینی گروپوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہوئی۔ اس لڑائی کو 43 دن گزر گئے۔ ان دنوں میں اسرائیل نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی گرفتاریاں تیز کردی ہیں۔ صہیونی فورسز نہ صرف فلسطینیوں کو گرفتار کر رہی ہیں بلکہ حراستی مراکز میں ان کو تشدد کا نشانہ بھی بنا رہی ہیں۔ حالیہ عرصہ میں گرفتار کئے گئے اسیروں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا جارہا ہے۔

ستائیس سال کے حمزہ القواسمی کو گزشتہ ماہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں گھر سے آدھی رات کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ کافی بیچنے والے حمزہ القواسمی نے غزہ کی جنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے میں حصہ لیا تھا۔ حمزہ کو پہلے بھی الخلیل یونیورسٹی میں اسلامک بلاک سے وابستگی کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ حمزہ نے بتایا اس مرتبہ گرفتاری کے بعد پہلے سے بھی زیادہ بدتر سلوک کیا جارہا ہے۔

انہوں نے رائٹرز کو انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے مجھے فور وہیل ڈرائیو کار میں بٹھایا، گھر والوں کے سامنے مجھے کچھ نہ کہا گیا، لیکن جیسے ہی گاڑی میں بیٹھا تو تشدد شروع کردیا گیا۔ اسرائیلی بارڈر فورس کے اہلکار مجھے گاڑی میں لے گئے۔ میری آنکھوں پر پٹی باندھی گئی، ہتھکڑیاں لگا دی گئیں اور مجھ پر الزام لگایا کہ میں داعش کا کارکن ہوں اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

ایک سپاہی نے مجھے قتل کرنے کی دھمکی دی اور بندوق میرے سر پر رکھ کر مجھ سے کہنے لگا یہ تمہارا آخری دن ہے، تم تصویر کروں کہ میں مر جاؤں گا۔ اسرائیلی فوج نے القواسمی کے معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

فلسطینی اسیران اور حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی القدس میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی ہیں اور قیدیوں کو اسرائیلی حراستی مراکز میں جسمانی حملوں اور توہین آمیز سلوک کا سامنا ہے۔ فلسطینی وزیر اعظم محمد اشتیہ نے رام اللہ میں رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیل آج انتقام کی حالت میں ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 8 نومبر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل تیزی سے انتظامی حراست کا سہارا لے رہا ہے۔ انتظامی حراست میں کسی بھی الزام اور مقدمہ کے بغیر حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

گزشتہ چند ہفتوں میں جن 1,750 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں سے زیادہ تر حماس سے منسلک ہیں۔ اسرائیلی جیل سروس کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ جنگی کوششوں کے حصے کے طور پر ان فلسطینی سیاسی قیدیوں پر زیادہ سخت حراستی شرائط عائد کی جاتی ہیں۔

فلسطینی قیدیوں کے کلب کی ایسوسی ایشن نے کہا کہ القواسمی 7 اکتوبر سے مغربی کنارے میں گرفتار کیے گئے 2,700 سے زائد فلسطینیوں میں سے ایک ہے۔

اس تناظر میں اسرائیلی جیلوں کے ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران تین فلسطینی قیدی تین مختلف حالات میں ہلاک ہوئے اور ان واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔

القواسمی نے بتایا کہ انہیں اوفر جیل میں انتظامی حراست میں رکھا گیا تھا جہاں تمام سیلز بھرے ہوئے تھے۔ میں نے وہاں لگ بھگ 70 قیدیوں سے ملاقات کی جن میں سے زیادہ تر کے جسموں پر زخموں کے نشانات موجود تھے۔ ایک قیدی کو تو اس وقت تک مارا جاتا رہا جب تک اس کا ایک بازو نہ ٹوٹ گیا۔ اس قیدی کو بعد میں طبی امداد دینے سے بھی انکار کردیا گیا۔

القواسمی کا کہنا تھا کہ انہیں دو ہفتے تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کیا گیا۔ جیل کے محافظوں نے اسے بتایا کہ اس کے ذاتی سامان جس میں کپڑے اور جوتے بھی شامل تھے کوکوڑے دان میں پھینک دیا گیا ہے۔ انہوں نے مجھے اس حالت میں رہا کیا جب میں صرف زیر جامہ پہنے ہوا تھا۔

اپنی طرف سے اسرائیلی جیل سروس کے ترجمان نے کہا کہ ایجنسی کو اس واقعے کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے جس کے بارے میں القواسمی نے بات کی ہے۔ جیل سروس کے زیر حراست تمام قیدیوں کو قانون کی دفعات کے مطابق حراست میں لیا گیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے دفتر کی ڈائریکٹرھبہ مرایف نے شہادتوں اور ویڈیو شواہد کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں تشدد اور ناروا سلوک کے متعدد واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں مار پیٹ اور جان بوجھ کر تذلیل کرنے کے واقعات شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں