اردن کی سکیورٹی فورسز نے ملک میں اخوان المسلمون سے وابستہ سیل کو ایران کی مدد سے اسلحہ کی فراہمی کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب غزہ میں اسرائیل اور حماس کےدرمیان جنگ جاری ہے۔
دو الگ الگ ذرائع نے وضاحت کی کہ یہ ہتھیار شام میں ایرانی حمایت یافتہ دھڑوں کی طرف سے اردن میں اخوان المسلمون سے وابستہ ایک سیل کو بھیجے گئے تھے جس کا فلسطینی تحریک حماس کے عسکری ونگ سے تعلق ہے۔
فلسطینی نژاد اردنی
ذرائع نے مزید کہا کہ اس ٹھکانے پر اس وقت قبضہ کیا گیا جب سیل کے ارکان جو فلسطینی نژاد اردنی تھے مارچ کے آخر میں گرفتار کیے گئے تھے۔
تاہم دونوں ذرائع نے تخریب کاری کی ان کارروائیوں کو ظاہر کرنے سے انکار کر دیا جن کی مبینہ طور پر منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔
انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اس سازش کا مقصد اردن کو غیر مستحکم کرنا تھا جو غزہ جنگ میں ایک علاقائی فلیش پوائنٹ بن سکتا ہے۔ چونکہ اس میں ایک امریکی فوجی اڈہ ہے اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ شام اور عراق دونوں کی سرحدیں بھی مشترک ہیں جہاں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے مراکز ہیں۔
انہوں نے مارچ میں پکڑے گئے ہتھیاروں کی بھی وضاحت نہیں کی، حالانکہ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی سروسز نے حالیہ مہینوں میں ایران اور اس کے اتحادی گروپوں کی جانب سے کلائمور بارودی سرنگیںور سیمٹیکس دھماکہ خیز مواد، کاتیوشا رائفلز، 'سی فور' بارودی سرنگیں اور دیگر ہتھیار شامل ہیں۔