بغیر ملاپ کے حاملہ مچھلی نے امریکہ میں سائنسدانوں کا تجسس بڑھا دیا
امریکہ کے ایک چھوٹے سے قصبے کے ایکویریم میں رہنے والی ایک مادہ رے مچھلی ایکویریم میں ہی اپنی نوعیت کے نر کی عدم موجودگی کے باوجود جوان ہونے کا انتظار کر رہی ہے۔ اس صورت حال نے اس میں مقامی لوگوں کی دلچسپی اور سائنسی برادری میں تجسس کو بڑھا دیا ہے۔
ہینڈرسن شمالی کیرولائنا میں آٹھ سال سے زیادہ عرصے سے پالی جانے والی "شارلوٹ" نامی مچھلی نومبر کے آخر میں غیر معمولی طور پر بڑی ہونا شروع ہوئی۔ ایکویریم کے حکام نے ابتدائی طور پر سوچا کہ اسے ٹیومر ہو سکتا ہے۔
نرس کنزلی بوئٹ نے بتایاکہ اس کا معدہ تیزی سے بڑھنے لگا اور ہم نے سوچا کہ یہ کینسر ہو سکتا ہے۔ الٹراساؤنڈ کے معائنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ انڈے تھے اور یہ کہ شارلوٹ کسی بھی وقت ان انڈوں سے بچوں کو جنم دے سکتی ہے۔
ملاپ کئے بغیر بچوں کی پیدائش نایاب ہیں۔ حمل کی مدت ایک کیس سے دوسرے میں مختلف ہوتی ہے، کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ تین سے چار ماہ کے درمیان ہو۔ جیسا کہ اس نسل کے لیے جانا جاتا ہے۔ مچھلی کی اس صورتحال نے چھوٹے شہر میں جوش و خروش پھیلا دیا۔
حکام نے یہ بھی کہا کہ بحالی کے کام کی وجہ سے طویل عرصے تک بند رہنے کے بعد ایکویریم جمعرات کو دوبارہ کھل جائے گا۔ زائرین کی بڑی تعداد نے اس جگہ میں داخل ہونے کے بعد سے "شارلوٹ" کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
نر کے جینیاتی کردار کے بغیر دوبارہ پیدا کرنے کی صلاحیت ایک بہت ہی نایاب مسئلہ ہے لیکن یہ حالیہ برسوں میں پرندے، رینگنے والے جانور اور مچھلیوں سمیت بڑی تعداد میں فقاری جانوروں میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لیکن ممالیہ جانوروں میں یہ صلاحیت موجود نہیں ہے۔