داعشیوں نے 4 سالہ بچوں کو اغوا کرکے زیادتی کی: قید سے بچ نکلنے والی یزیدی خاتون

مجھے بہن سے جدا کردیا، ایک داعش رہنما نے مجھے میرے چچا کو 40 ہزار ڈالر میں بیچ دیا: سعاد حمید کا العربیہ کو خصوصی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں داعش کے ہاتھوں باندی بنائے جانے کے بعد بچ نکلنے والی ایک یزیدی خاتون نے العربیہ چینل کو خصوصی انٹرویو میں داعش کے افراد کی سرگرمیوں سے متعلق مزید انکشافات کئے ہیں۔ داعش کی قید میں رہنے والی یزیدی خاتون سعاد حمید نے آنسوؤں سے بھری گفتگو میں بتایا کہ تنظیم کے ایک رہنما نے اسے اس کے چچا کو 40 ہزار میں فروخت کردیا تھا۔ چچا نے اس لیے ادائیگی کہ وہ اور اس کا بھائی اپنے خاندان کے پاس واپس پہنچ سکیں۔ ایک رہنما نے دوسری لڑکیوں کے ساتھ میری چچا زاد بہنوں کو بھی اغوا کیا، میں نے اب تک اپنی ان بہنوں کو نہیں دیکھا۔

زندہ بچ جانے والے سعاد حمید نے العربیہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ داعش کے رہنماؤں کی بیویاں اسیر خواتین کو اونچی قیمت پر فروخت کرنے کا مقابلہ کر رہی تھیں۔ سعاد حمید نے تنظیم کے رہنما ابوبکر البغدادی کی بیویوں کی طرف سے یزیدی خواتین قیدیوں کے ساتھ پردے کے پیچھے ہونے والے سلوک کا بھی انکشاف کیا۔ بچ جانے والی یزیدی خاتون سعاد حمید نے کہا کہ ’’دولت اسلامیہ عراق و شام‘‘ یا داعش کے ارکان نے چار اور نو سال کی عمر کے بچوں کو اغوا کیا اور ان کی عصمت دری کی۔

یزیدی خاتون سے انٹرویو
یزیدی خاتون سے انٹرویو

العربیہ چینل کی جانب سے داعش کے رہنما ابوبکر البغدادی کی بیویوں اور ان کی بیٹی کے ساتھ کیے گئے خصوصی انٹرویوز کے سلسلے سے کئی رد عمل سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ البغدادی کی یرغمال رہنے والی یزیدی خواتین کا اس حوالے سے غصہ بھی سامنے آیا ہے کہ البغدادی کی بیویوں کی طرف سے باندیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی تردید کی گئی اور ان کے اچھا سلوک برتنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

العربیہ چینل نے ان الزامات کا جواب دینے کے لیے ایک خصوصی دو حصوں پر مشتمل انٹرویو میں یزیدی بچ جانے والی خواتین کے لیے ایک وقت مختص کیا ہے۔ اس حوالے سے انٹرویو میں ان قیدی رہنے والی خواتین نے بتایا کہ ان کے ساتھ سخت سلوک کیا گیا اور انھیں عصمت دری کا نشانہ بنایا گیا۔

سعاد حمید نے بتایا کہ داعش نے میری بہن ’’رحی‘‘ کو اس وقت اغوا کیا جب وہ 12 سال کی تھی۔ ہمیں ایک دوسرے سے جدا کر دیا اور ہماری زندگی تباہ کر دی۔ البغدادی کی دو بیویوں اور ان کی بیٹی کے ساتھ ہفتے قبل العربیہ اور الحادث کی جانب سے کیے گئے دیگر انٹرویوز کے بعد یہ نئے انٹرویوز سامنے آئے ہیں۔

واضح رہے داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی نے نے 2014 میں عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کرکے اپنی مبینہ خلافت کا اعلان کردیا تھا۔ بعد ازاں وہ شام کے شمال مغربی علاقے ادلب گورنری میں امریکہ کی ایک کارروائی کے دوران مارا گیا تھا۔ اس تنظیم کو 2017 میں شکست ہوئی تھی جب بغداد نے اس پر فتح کا اعلان کیا تھا۔ تاہم داعش کے کچھ سیل اب بھی کچھ الگ الگ علاقوں میں سرگرم ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں