مقام نزول وحی ’غار حراء‘ جہاں چوبیس گھنٹے زائرین زیارت کا شرف حاصل کرتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

’غار حراء‘ کے بارے میں تمام مسلمان جانتے ہیں اور حرمین شریفین کی زیارت کے لیے حجاز مقدس کا سفر کرنے والے زائرین، معتمرین اور حجاج کرام اس مقام کی زیارت کا شرف حاصل کرنا اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔

’غار حراء‘ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی کے نزول کا مقام ہے۔ نزول وحی سے کچھ عرصہ قبل آپ ﷺ مکہ معظمہ سے چھ سو میٹر کی بلند پر واقع اس غار میں تشریف لے گئے۔ یہ ایک تنگ غار ہے جہاں پہلی بار حضرت جبرائیل امین علیہ السلام نبی ﷺ پر اللہ کی طرف سے وحی لے کر نازل ہوئے۔

غار حراء کا مشہور پہاڑ ٹوپ یا اونٹ کے کوہان سے مشابہ ہے کعبہ شریف سے شمال مشرق میں 4 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ مذہبی اہمیت کے اعتبار سے یہ مقام دنیا کا بلند ترین ہے۔

غار کا دھانہ مکہ کی وادیوں کی طرف ہے اور نزول وحی کے بعد یہاں سے کعبہ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اگرچہ نزول وحی سے قبل پہاڑ کی علامت کے علاوہ کسی کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ تاہم پہاڑ کی بلند پر ایک پراسرار منظر کا تذکرہ ملتا ہے۔

غار تک پہنچنے کے لیے پہاڑ پر چڑھتے زائرین
غار تک پہنچنے کے لیے پہاڑ پر چڑھتے زائرین

تاریخی ماخذ نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غار کا انتخاب کیسے کیا، یا اسے کیسے دریافت کیا گیا۔ چونکہ یہ بہت بلندی پر واقع ہے جس پر چڑھنے کے لیے مسلسل تین گھنٹے سے زیادہ وقت درکار ہوتا ہے۔ یہاں تک پہنچنے کے لیے چٹانوں کو پھلانگنا پڑتا ہے۔

1450 سال

جب سے تقریباً 1450 سال قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس غار میں تشریف لائے تو یہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ وہ وقت اور آج تک اور تا قیامت مسلمان اس جگہ کی زیارت کا شرف حاصل کرتے رہیں گے۔

روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ مسلسل ایک ماہ اس غار میں جاتے رہے۔ وہیں تنہائی میں چند گذارتے اور کھانا پانی لینے کے لیے واپس ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لاتے۔ اسی دوران قرآن پاک کی "اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ" اسی جگہ پر نازل ہوئی۔

سیرت نبوی کی کتب سے پتا چلتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کا پہاڑوں کے ساتھ واسطہ پانچ مقامات پر ہوا ہے، جن میں سے ایک غار حرا میں خلوت آپ کی خلوت نشینی کا ہے۔

غار حراء
غار حراء

دوسرا غار ثور کے جبل ثور کا واقعہ ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی تو یہاں قیام کیا تھا۔

تیسرا احد کا پہاڑ تھا جس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ’ہم سے محبت کرتے ہیں اور یہ ہم سے محبت کرتا ہے۔ جبل حمت یا ورقان پہاڑ کے بارے میں آپ ﷺ نےفرمایا تھا کہ یہ جنت کا پہاڑ ہے۔ پانچواں پہاڑ جبل ابو قبیس ہے جس کا احادیث میں ذکر ملتا ہے۔ ایک روایت میں آپ نے فرمایا کہ یہ زمین پر پہلا پہاڑ ہے۔

جبل النور

مکہ مکرمہ آنے والے زائرین جبل النور اور غارِ حرا کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہاں پر قرآن پاک کی سورہ العلق کی پہلی آیات نازل ہوئیں۔

ساڑھے چودہ سو سال سے یہ پہاڑ مرجع خلائق ہے اور دنیا بھر سے مسلمان بیت اللہ کی زیارت کے ساتھ غار حراء کی زیارت کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔ یہاں چوبیس گھنٹے زائرین کا آنا جانا رہتا ہے۔ ڈیڑھ ہزار سال میں شاید ہی کوئی دن ایسا گذرا ہو جس میں یہاں پر زائرین نہ آئے ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں