آٹھ گھنٹے تک تشدد، قازقستان کے سابق وزیر نے بیوی کو مار مار کر قتل کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قازقستان میں سابق وزیر پر اپنی اہلیہ کو مار مار کر ہلاک کرنے کے الزام میں مقدمے کی سماعت کی گئی۔ اس پر الزامات ہیں کہ اس نے قتل سے قبل لگاتار آٹھ گھنٹے تک اپنی بیوی کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ یہ کیس ملک میں رائے عامہ کا موضوع بن گیا۔

کمرہ عدالت میں چلائی گئی چونکا دینے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں سابق وزیر اقتصادیات کوانڈک بیشم بائیف کو کوٹ پہنے ایک پتلی نوجوان خاتون کو بالوں سے گھسیٹتے ہوئے بار بار لاتیں مارتے اور گھونستے ہوئے دکھایا گیا۔

عدالتی سیشن کے دوران سابق وزیر نے پانچ گھنٹے تک اپنی متاثرہ بیوی کے ساتھ اپنی زندگی کے بارے میں بات کی لیکن وہ قتل کے واقعہ تک نہیں پہنچے۔ انہوں نے عدالت سے یہ جواز پیش کرتے ہوئے سماعت ملتوی کرنے کو کہا کہ وہ بات کرتے کرتے تھک چکے ہیں۔

8 گھنٹے تک تشدد

مقدمے کی سماعت کے دوران وزیر کی بیوی سلطانات کی والدہ نے بتایا کہ موت سے قبل ان کی بیٹی کو 8 گھنٹے تک شدید مارا پیٹا گیا۔ 31 سالہ سلطانات گزشتہ سال 9 نومبر کو آستانہ میں اپنے شوہر کے ایک رشتہ دار کی ملکیت والے ریستوران میں مردہ پائی گئی تھیں۔

فرانزک میڈیکل رپورٹ کے مطابق سلطانات کی موت دماغی چوٹ کے باعث ہوئی۔ معلوم ہوا کہ اس کی ناک کی ایک ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی۔ اس کے چہرے، سر، بازوؤں اور ہاتھوں پر کئی زخم تھے۔

تینتالیس سال کے بیشم بائیف کو انتہائی تشدد کا استعمال کرکے قتل کے الزامات کا سامنا ہے اور اسے 20 سال تک قید کی سزا کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں