سڈنی کے چرچ میں چاقو سے حملہ کرنیوالا پادری عربی بول رہا تھا
حملے میں زخمی ہونے والے چار افراد زیر علاج ہیں، حالت خطرے سے باہر ہے: ایمرجنسی سروسز
آسٹریلیا کے دارالحکومت سڈنی کے مغربی علاقے میں چرچ کے اجتماع کے دوران ایک پادری نے چاقو سے حملہ کرکے چار افراد کو زخمی کردیا۔ ایک ویڈیو کلپ سامنے آیا ہے جس میں گرفتار ہونے سے قبلہ حملہ آور پادری کو عربی بولتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
یہ واقعہ مشرقی سڈنی کے ایک مال میں چاقو سے حملے کے صرف دو دن بعد پیش آیا۔ اس حملے میں 6 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ پیر کو پیش آنے والے واقعہ کو لائیو فوٹیج میں دکھایا گیا۔ شہر کے مغرب میں ایک آشوری چرچ میں اجتماع کے دوران ایک شخص قربان گاہ کے قریب پہنچا۔ اپنا دایاں بازو اٹھایا اور پادری پر چاقو سے وار کردیا۔ اس دوران حملہ آور عربی میں بات کر رہا تھا۔ اس حملے سے عبادت گزاروں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور انہوں نے چیخنا شروع کر دیا۔
ایمبولینس سروس نے اے ایف پی کو بتایا کہ 20 سے 70 سال کی عمر کے چار افراد زخمی ہوئے اور زخمیوں کا علاج کیا جارہا ہے۔ مقامی میڈیا نے بتایا کہ یہ واقعہ چرچ آف دی گڈ شیفرڈ میں پیش آیا۔
چاقو کے حملے کو چرچ کے فیس بک اکاؤنٹ پر براہ راست نشر کیا گیا۔ فوٹیج میں دکھایا گیا تھا کہ شام سات بجے آشوری بائبل پر خطبہ دیتے ہوئے فادر میری ایمینوئل کے چہرے پر چاقو سے حملہ کیا گیا۔