سعودی شہری ماضی میں گرمیوں کی چھٹیاں کیسے گزارتے تھے؟

شعبہ سیاحت کے حکام عالمی سیاحتی نقشے پر سعودی پوزیشن کو بڑھانے کے لیے مزید کوششیں کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب میں شہریوں کا معمول ہے کہ وہ تعلیمی سال کے اختتام کے بعد تفریح اور آرام کے لیے اپنے پسندیدہ سیاحتی مقامات کا سفر کرتے ہیں۔ یہ سیاحتی مقامات ملک کے اندر بھی ہوسکتے ہیں اور بیرون ملک بھی۔ تاہم حالیہ عرصہ میں سعودی عرب میں سفر کے اختیارات میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی عرب میں تفریحی مقامات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

طائف شہر سعودی بادشاہوں کے لیے گرمیوں کی ایک سیر گاہ تھا
طائف شہر سعودی بادشاہوں کے لیے گرمیوں کی ایک سیر گاہ تھا

مثال کے طور پر سعودی شہروں کے سمر پروگرام کے آپشنز اب بڑھ گئے ہیں۔ وہ اب موسم گرما کے اعتدال پسند مقامات، یا بحیرہ احمر، یا العلا جیسے سمندری مقامات پر جا کر سیاحت کی اپنی امنگوں کو پورا کرتے ہیں۔ یہاں پر قدرتی اور انسانی ورثے سے مالا مال غیر معمولی مقامات ہیں۔ ریاض میں سعودی عرب کے دلوں کی امنگوں کو جگا دینے والے مقامات ہیں۔

اب سعودی عرب میں تفریحی اور سیاحتی سرگرمیوں کے مواقع بہت زیادہ ہیں۔ وزیر سیاحت احمد الخطیب نے بتایا گزشتہ سال سیاحت میں غیر معمولی ترقی ہوئی۔ سیاحت کے شعبہ کی ترقی کے باعث سعودی عرب میں 2019 میں جی 20 ممالک میں ترقی کی شرح میں 156فیصد اضافے کے اعتبار سے نمایاں رہا۔

سعودی عرب میں آثار قدیمہ کا سب سے قدیم شہر العلا ۔ چٹانیں نظر آرہیں
سعودی عرب میں آثار قدیمہ کا سب سے قدیم شہر العلا ۔ چٹانیں نظر آرہیں

موجودہ وقت میں اپنے متنوع اور جامع پروگراموں کے ساتھ متعدد بھرپور سیاحتی سرگرمیوں کی دستیابی اور گھریلو سیاحت کے اختیارات میں اضافہ ہوا ہے۔ موسم گرما کی شکل بہت سے لوگوں کے لیے پہلے سے مختلف ہو گئی ہے۔ 70 اور 80کی دہائی کے موسم گرما سے حالات مختلف ہوچکے ہیں۔ ایک سماجی محقق منصور العساف نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ 1970 کی دہائی کے آخر میں کچھ سعودی اپنی گرمیوں کی چھٹیاں بیرون ملک گزارنے کے لیے جاتے تھے۔ اس وقت سعودیوں کے لیے "لبنان" پہلی منزل تھی۔

منصور العساف نے کہا کہ ساٹھ کی دہائی سے ستر کی دہائی کے آغاز میں مملکت سعودی عرب سے باہر سیاحت کے لیے سفر صرف اشرافیہ تک محدود تھا۔ مشتل الخرج یا الخرج نرسری اس وقت ریاض شہر کے مکینوں کی پہلی منزل تھی۔ اسے شاہ عبدالعزیز کے دور میں کاشتکاری اور زرعی منصوبے کے تحت بنایا گیا تھا۔ پھر اسے پارک میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

سعودی عرب کا تاریخی علاقہ ’’الدرعیہ‘‘ اسے اب یونیسکو نے اپنی فہرست میں شامل کرلیا ہے
سعودی عرب کا تاریخی علاقہ ’’الدرعیہ‘‘ اسے اب یونیسکو نے اپنی فہرست میں شامل کرلیا ہے

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں گرمیوں کی تعطیلات میں عید الفطر اور عید الاضحی کی چھٹیاں شامل ہوتی تھیں۔ اس لیے سعودی خاندان چھوٹے شہروں اور دیہاتوں میں اپنے آبائی گھر جاتے تھے تاکہ وہ چھٹیوں کا پورا عرصہ وہاں گزار سکیں۔ اس وقت فٹ بال کھیلنا، زمینی سفر کرنا، پارکوں میں جانا اور مشہور گیمز سے لطف اندوز ہونا گرمیوں کی چھٹیوں کے مشاغل ہوتے تھے۔

مسبح المشتل ۔ سال 1383 ہجری ۔
مسبح المشتل ۔ سال 1383 ہجری ۔

العساف نے کہا کہ طائف شاہر شاہ عبدالعزیز کے دور سے لے کر شاہ فہد کے دور تک بادشاہوں کا ٹھکانہ تھا۔ لیکن جدہ میں السلام محل کے کام کی تکمیل کے بعد یہ بدل گیا۔

انہوں نے بتایا کہ 1970 کی دہائی کے آخر میں ابھا شہر مقامی طور پر سیاحت کے لیے پہلی منزل بن گیا کیونکہ عسیر کے علاقے میں امیر شہزادہ خالد الفیصل کی براہ راست نگرانی میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی دیکھنے میں آئی۔ یہاں پر السودہ، دلغان، الحبلہ، القرعاء اور السحاب جیسے پارکس کا افتتاح کیا گیا۔ کئی نئی سڑکیں بنائی گئیں اور کئی ہوٹل تعمیر کئے گئے۔

سعودی عرب کا 1965 کے اخبار کا تراشہ
سعودی عرب کا 1965 کے اخبار کا تراشہ

سعودی سیاحتی مقامات میں دلچسپی بڑھانے کے تناظر میں سعودی ٹورازم اتھارٹی کے سی ای او فہد حمید الدین نے ’’العربیہ‘‘ کو بتایا کہ "الباحہ، ابھا، عسیر اور طائف کے علاقوں کے لیے براہ راست بین الاقوامی پروازیں شروع ہونے سے یہ مقامات غیر ملکی سیاحتوں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ زیادہ تر موسم گرما میں ان سیاحتی مقامات کی جانب کچھ خلیجی ملکوں کے شہریوں کے ساتھ مقامی سیاحوں کی آمد ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں