ایک فلم سے مشابہت رکھنے والی کہانی میں ایک خاتون نے 30 سال مدت کے بعد اپنے خاندان کو تلاش کرلیا۔ ایک نوجوان لڑکی اپنے خاندان کا گھر چھوڑ کر گئی اور ایک عورت اور ایک ماں کے طور پر واپس آئی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ "فیس بک" پر لاکھوں فالوورز والے پیج "مسنگ چلڈرن" نے مسز صابرین کے 30 سال غائب رہنے کے بعد اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ ملنے کی کہانی شائع کی ہے۔ صابرین نے بتایا کہ وہ تقریباً 6 سال کی عمر میں اپنے خاندان سے گم ہو گئی تھی۔ اسے جو یاد رہا وہ یہ تھا کہ وہ البحیرہ گورنری کے علاقے دمنھور میں رہتی تھی۔ اس نے اپنے والد کی موت کے بعد اپنے خاندان کا گھر چھوڑ دیا تھا۔
صابرین نے مزید کہا کہ انہیں اپنا پورا نام "صابرین محمد المغربی" یاد ہے اور وہ 1988 میں پیدا ہوئی تھیں۔ صابرین نے کہا کہ وہ اپنے والد کی موت کے بعد اپنے خاندان کا گھر چھوڑ کر گم ہو گئی۔ اس نے سوچا کہ اس کے گھر والے اسے ڈھونڈ سکیں گے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ اس نے ایک ٹرین پکڑی اور قاھرہ پہنچ گئی۔
صابرین نے بتایا کہ انہیں اپنی والدہ کا نام "میرفت" یاد تھا ۔ اپنے بھائیوں اور بہنوں کے نام بھی یاد تھے۔ یہ سماح، رضا، عبد اللہ، یاسمین اور مصطفیٰ تھے۔ صابرین نے بتایا کہ میں اپنے گھر والوں کے پاس واپس پہنچنے کی امید میں پیج کی انتظامیہ کو اپنی تصویر بھیجی۔
حیران کن
اس وقت میں انتہائی حیران کن واقعہ پیش آیا جب صابرین کے ایک رشتہ دار نے صفحہ کی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور انہیں تفصیلات کے بارے میں بتایا کہ یہ خاندان اپنی بیٹی کو تلاش کر رہا ہے جو اسی عرصے کے دوران غائب تھی۔ اللہ کے شکر ہے کہ تصویر شائع ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر رشتہ دار نے تصویر دیکھی اور پھر صابرین بہن کا فون نمبر بھیج دیا۔ پیج انتظامیہ نے کہا ہم نے اسے فون کیا اور ان معلومات کی تصدیق کی جس کے ساتھ وہ صابرین کا انتظار کر رہے تھے۔ اس طرح ہم نے انہیں ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔ وہ 30سال میں بعد دوبارہ مل گئے۔
دل کو چھو لینے والی کال
لاپتہ بچوں کے پیج کے ایڈمنسٹریٹر رامی الجبالی نے کہا کہ صابرین اور اس کے خاندان کے درمیان ہونے والی پہلی کال بہت دل کو چھونے والی تھی۔ آنسوؤں اور شدید جذبات کے درمیان صابرین کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنے خاندان سے دوبارہ مل سکتی ہے۔ پیج پر پوسٹ کے چھ گھنٹے بعد ہی صابرین اپنے خاندان سے دوبارہ مل گئی۔