اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فائرنگ سے مغربی کنارے میں فلسطینی بچہ جاں بحق، والدین زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطینی وزارتِ صحت نے بتایا کہ جمعہ کی شام مغربی کنارے کے شہر الخلیل کے جنوب میں تل رومیدہ کے علاقے میں اسرائیلی افواج نے ایک سات ماہ کے فلسطینی بچے کو گولی مار کر ہلاک اور اس کے والدین کو زخمی کر دیا۔

وزارت نے شیر خوار کی شناخت سام فہد ابو ہیکل کے نام سے کی اور کہا کہ وہ جائے وقوعہ پر ہی دم توڑ گیا جبکہ اس کے والدین کو گولی لگنے سے زخم آئے اور ان کی حالت تشویشناک نہیں تھی۔

بچے کی دادی نے بتایا کہ ان کا خاندان چوکی 17 کے قریب گاڑی میں جا رہا تھا جب انہوں نے اسرائیلی فوجی گاڑیوں اور فوجیوں کو دور سے دیکھا اور گاڑی روک دی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد ان کی طرف گولیاں چلائی گئیں جس کے بارے میں ابتدائی طور پر وہ سمجھے کہ وارننگ فائر تھے۔

"ایک گولی میرے پوتے کو لگی جو اس کے چہرے سے ہوتی ہوئی سر کو پار کر گئی اور ماں کے گال میں پیوست ہو گئی۔" انہوں نے مزید کہا کہ گولی والد کی انگلی کو بھی چھوتی ہوئی گذری تھی اور زخمی ماں ہسپتال میں تھی۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ جمعہ کے روز الخلیل کے علاقے میں آپریشنل سرگرمیوں کے دوران فوجیوں نے ایک گاڑی کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا اور ایک فوجی نے گاڑی پر ایک ہی گولی چلائی۔ نیز کہا گیا کہ تین فلسطینی زخمی ہوئے جنہیں طبی امداد کے لیے بھیج دیا گیا۔

فوج نے کہا کہ ابتدائی فوجی تفتیش سے معلوم ہوا کہ زخمی ہونے والے "غیر ملوث شہری" تھے اور مزید کہا کہ واقعہ کا جائزہ لیا جا رہا تھا اور نتائج متعلقہ حکام کو پیش کیے جائیں گے۔

الخلیل کا علاقہ تل رومیدا جہاں اسرائیلی آبادکار بھاری فوجی تحفظ میں فلسطینی باشندوں کے درمیان رہتے ہیں، طویل عرصے سے اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں تشدد کا ایک نکتۂ اشتعال رہا ہے۔

یورپی یونین کی 2024 میں پیش کردہ ایک رپورٹ کے مطابق 700,000 سے زیادہ آبادکار مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں تین ملین سے زیادہ فلسطینیوں کے درمیان رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں