ایرانی صدارتی انتخابات، امیدواروں کو کتنے ووٹ مل سکتے، کیا دوسرا دور ہوگا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ہنگامی ایرانی صدارتی انتخابات آج ہونے جا رہے ہیں۔ الیکشن کے حوالے سے بہت سی توقعات کا اظہار کیا جارہا اور اس تناظر میں اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ انتخابات پہلے دور میں ختم ہو جائیں گے یا دوسرے دور تک بڑھ جائیں گے۔ ان انتخابات کے پہلے راؤنڈ میں ختم ہونے کے لیے سب سے زیادہ ووٹ لینے والے امیدوار کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کرنا ہوں گے۔ انتخابات میں حصہ لینے والوں کی تعداد جتنی زیادہ ہوگی امیدواروں کے پہلے راؤنڈ میں جیتنے کے امکانات اتنے ہی کم ہوں گے۔

واضح رہے ایرانی صدارتی انتخابات میں تقریباً 62 ملین افراد ووٹ ڈالنے کے حقدار ہیں اور ویب سائٹ "موقع خبر فوری" کے مطابق اگر کم از کم 50 فیصد ووٹرز بیلٹ میں حصہ لیتے ہیں تو رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے امیدوار کو 15 سے 16 ملین ووٹوں کی ضرورت ہے کہ وہ فتح یاب ہوسکے۔

گزشتہ انتخابات میں موجودہ امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں کے اعدادوشمار کی بنیاد پر امکان ہے کہ اس مرتبہ کے امیدواروں میں سے کسی کو بھی اس وقت تک اتنی تعداد میں ووٹ نہیں ملیں گے۔ جب تک غیر فیصلہ کن افراد الیکشن کے آغاز سے قبل دستبردار نہ ہوجائیں۔

بنیاد پرست امیدوار سعید جلیلی نے اعلان کیا ہے کہ وہ آخری دم تک مقابلہ کرتے رہیں گے۔ انہوں نے 2013 کے گزشتہ صدارتی انتخابات میں تقریباً 4 سے 5 ملین ووٹ حاصل کیے تھے۔ اب بھی امکان نہیں ہے کہ وہ اس سے زیادہ ووٹ لے سکیں گے۔ دوسرے بنیاد پرست امیدوار محمد باقر قالیباف کے ووٹ جلیلی کے ووٹوں سے کچھ زیادہ تھے کیونکہ انہوں نے 2013 میں تقریباً 6 ملین ووٹ حاصل کیے تھے۔ . بنیاد پرست ووٹوں کی کل تعداد ممکنہ طور پر 19 ملین سے زیادہ نہیں ہوگی۔

بنیاد پرستوں کے مقابلے میں اصلاح پسند امیدوار مسعود پیزشکیان ایک طرف اصلاح پسند تحریک کے مایوس حامیوں کے ووٹوں اور دوسری طرف آذربائیجان کے صوبوں اور علاقوں میں ترکوں کے ووٹوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ امید ہے کہ وہ کردوں، عربوں، ترکمانوں، بلوچیوں اور لوروں کے ووٹوں کی اچھی فیصد جیتنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ اگر غیر فارسی ووٹرز خاص طور پر ترکی اور آذری ووٹرز کا 50 فیصد حصہ ووٹ کے لیے نکل آیا تو وہ تقریبا 10 ملین ووٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

بدترین صورت میں اگر اصلاح پسند ہجوم انتخابات کا بائیکاٹ کرتا ہے تو پیزشکیان کو ان اصلاح پسندوں کے ووٹوں سے تقریباً 4 ملین ووٹ مل سکیں گے۔ یہ فرض کرتے ہوئے کہ جلیلی دستبردار نہیں ہوں گے تو آج جمعہ کو ہونے والے انتخابات ممکنہ طور پر دوسرے دور تک بڑھ جائیں گے اور پیزشکیان کا مقابلہ غالب یا جلیلی سے ہو گا۔ لیکن اگر جلیلی محمد باقر قالیباف کے حق میں دستبردار ہو جاتے ہیں تو قالیباف ہوسکتا ہے کہ لگ بھگ 16 سے 17 ملین ووٹ حاصل کر سکتے ہیں اور وہ پہلے راؤنڈ میں ہی کامیاب قرار پائیں گے۔

دوسری طرف اگر انتخابی شرکت کی شرح 60 فیصد تک پہنچ جاتی ہے تو یہ اضافہ غیر آرتھوڈوکس ووٹروں کی طرف سے آئے گا اور پیزشکیان کے ووٹوں کی ٹوکری میں جائے گا اس طرح قالیباف کے لیے سعید جلیلی کی دستبرداری کی صورت میں بھی 50 فیصد ووٹ حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔

اس کے باوجود پہلے راؤنڈ میں قالیبان اور پیزیشکیان کے جیتنے کے امکانات دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اس فتح کو حاصل کرنے کے لیے پیزشکیان کو خاموش اصلاح پسند بلاک کے ایک بڑے حصے کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہونا چاہیے کہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنا اور حکومت کو بنیاد پرست محمد باقر قالیباف کے حوالے کرنا ان کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ اسی صورت میں ان کے 16 سے 17 ملین ووٹ حاصل کرنے کا امکان ہے۔ انتخابات کے دوسرے دور میں منفی ووٹ کا اثر مثبت ووٹ کے اثر سے زیادہ ہوتا ہے اور منفی ووٹ کا مطلب پیزیشکیان کو ووٹ دینا ہے۔

اگر انتخابات دوسرے راؤنڈ میں چلے جاتے ہیں تو اصلاح پسندوں کے سامعین کا ایک حصہ، جو محسوس کرے گا کہ ان کا کیمپ بے مثال فتح حاصل کرنے کے راستے پر ہے، اس راؤنڈ میں حصہ لیں گے اور اس کے برعکس قالیباب کے حامی دوبارہ ووٹنگ میں حصہ نہیں لیں گے۔ یاد رہے فیصلہ سازی کے اعلیٰ عہدوں پر طویل عرصے تک عوام کو نظر آنے والے امیدوار کی جیت کے امکانات عام طور پر دوسرے امیدوار کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size