بائیڈن سمیت عالمی رہنماؤں کی نئے برطانوی وزیرِ اعظم کو مبارک باد

مل کر کام کرنے اور خصوصی تعلقات مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

برطانوی انتخابات میں لیبر پارٹی کی فتح اور کئیر سٹارمر کے وزیرِ اعظم منتخب ہونے کے بعد دنیا بھر سے رہنماؤں نے اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

یورپی یونین کی صدر ارسلا وانڈر لین نے کئیر سٹارمر کی فتح پر انہیں ایکس پر اپنے پیغام میں مبارکباد دیتے ہوئے لکھا، " میں ایک تعمیری شراکت داری کے ساتھ، یورپی سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آپ کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہوں۔"

ادھر نیٹو کے سیکریٹری جنرل یینزاسٹولٹن برگ نے کئیر سٹارمر کو وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور کہا،"میں اگلے ہفتے واشنگٹن میں نیٹو کے سربراہی اجلاس میں ان کے استقبال اور ان سے ملاقات کا منتظر ہوں۔ میں نے کیئر سٹارمر سے یہاں نیٹو ہیڈ کوارٹر میں ملاقات کر چکا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ وہ نیٹو ، بحر اوقیانوس کے اتحاد، کے پرزور حامی ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھی پرعزم ہیں کہ برطانیہ نیٹو کا ایک مضبوط اور انتہائی پرعزم نیٹو اتحادی رہے۔"

مزید برآں بھارت، یوکرین، فرانس، کینیڈا، ناروے، برازیل، جرمنی،آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، آئرلینڈ کے رہنماؤں نے بھی کئیر سٹارمر کو برطانوی وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارک باد کا پیغام بھیجا ہے۔

دریں اثنا امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعہ کو برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کیئر سٹارمر سے فون پر بات کی اور انہیں عام انتخابات میں سنٹر لیفٹ لیبر پارٹی کی بھاری اکثریت سے کامیابی پر مبارکباد دی تھی۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے بیلفاسٹ/گڈ فرائیڈے معاہدے میں کامیابیوں کی حفاظت اور اقتصادی ترقی اور مواقع پیدا کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے شمالی آئرلینڈ کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے اپنے مشترکہ عزم کی توثیق کی۔"

روس کے ساتھ یوکرین کی جنگ کے لیے برطانوی حمایت "غیر متزلزل" ہے۔ یہ بات برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی فون کال میں جمعے کے روز امریکی صدر جو بائیڈن سے کہی ہے۔

سٹارمر اگلے ہفتے نیٹو کے سربراہی اجلاس میں بائیڈن اور دیگر عالمی رہنماؤں سے واشنگٹن میں ملاقات کریں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بائیڈن اور سٹارمر نے "دونوں ملکوں کے درمیان خصوصی تعلقات اور دنیا بھر میں آزادی اور جمہوریت کی حمایت میں مل کر کام کرنے کی اہمیت کی تصدیق کی۔"

سٹارمر کے 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے دفتر نے ایک ریڈ آؤٹ میں کہا، "رہنماؤں نے یوکرین کے لیے اپنی ثابت قدمی کا اعادہ کیا اور وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کے لیے برطانیہ کی حمایت غیر متزلزل ہے۔"

بیان میں کہا گیا ہے کہ سٹارمر "تعلقات کی وسعت میں شانہ بشانہ کام کرنے کے منتظر ہیں، جس میں AUKUS شراکت داری اور ایک آزاد اور کھلے ہند-بحرالکاہل کو یقینی بنانا شامل ہے"۔

برطانیہ، امریکہ اور آسٹریلیا نے حالیہ برسوں میں ایک نیا دفاعی اتحاد بنایا ہے جسے AUKUS کہا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد ایشیا پیسفک خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کا مقابلہ کرنا ہے۔

بائیڈن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، "میں دنیا بھر میں آزادی اور جمہوریت کی حمایت اور ہمارے دونوں ممالک کے درمیان خصوصی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کا منتظر ہوں۔"

برطانیہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے شمالی آئرلینڈ کے دہائیوں پرانے امن معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے جسے واشنگٹن نے طے کرنے میں مدد دی تھی، "بیلفاسٹ (گڈ فرائیڈے) معاہدے کی کامیابیوں کے تحفظ کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا بھی اظہار کیا،" ۔

یہ معاہدہ حالیہ برسوں میں یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کے باعث تناؤ کا شکار ہو گیا ہے۔

اس معاہدے کے تحت شمالی آئرلینڈ کو یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کی واحد زمینی سرحد، آئرش کی حساس سرحد کے ساتھ چھوڑ دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں