ایران جنگ میں 16 امریکی فوجیوں کی ہلاکت وسیع پیمانے پر فضائی جنگ کا مظہر ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی فوج نے ہفتے کے روز کہا کہ ایران سے جنگ میں دو مزید فوجی ہلاک ہو گئے جس سے ہلاکتوں کی کل تعداد 16 ہو گئی۔

یہ ہلاکتیں اس پیچیدہ حقیقت کا مظہر ہیں کہ جس تنازعے میں ڈرونز، میزائل اور ہوائی جہاز شامل ہیں، اس کے لیے امریکی بوٹوں کا زمین پر رہنا ضروری نہیں ہے۔ امریکی افواج پورے شرقِ اوسط میں صف آراء ہیں جس سے دوسری اقوام ایران کا نشانہ بن رہی ہیں۔

امریکی فوجیوں کی تازہ ترین ہلاکتیں اردن میں ہوئی ہیں۔

جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد پہلی ہلاکتیں ہوئیں

اٹھائیس فروری کو جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد کویت کی ایک شہری بندرگاہ پر ایرانی ڈرون حملے میں چھے امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ یہ سپاہی آئیووا میں قائم سپلائی اینڈ لاجسٹک یونٹ کا حصہ تھے۔ یہ شپنگ کنٹینر طرز کی عمارت میں کام کر رہے تھے جس کا کوئی دفاع نہیں تھا۔

سعودی عرب میں پرنس سلطان ایئر بیس پر یکم مارچ کو ایرانی حملے کے دوران ایک ساتواں فوجی زخمی ہو گیا جو ایک ہفتے سے زائد عرصے بعد چل بسا۔

بعد ازاں مارچ میں ایندھن بھرنے والے کے سی-135 طیارے کے گر کر تباہ ہو جانے سے چھے فوجی ہلاک ہو گئے۔ یہ طیارہ عراق میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی معاونت کر رہا تھا۔ امریکی مرکزی کمان کے مطابق طیارہ "دوستانہ" فضائی حدود میں تھا جب ایک غیر متعینہ واقعہ پیش آیا جس میں ایک اور طیارہ ملوث تھا۔

پیر کو امریکی فوج نے کہا کہ بحریہ کا ایک پائلٹ بحیرۂ عرب میں ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہو گیا۔ بحریہ نے ابتدائی طور پر یکم جولائی کے حادثے کو ہنگامی لینڈنگ قرار دیتے ہوئے کہا، "اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملاکہ ہنگامی صورتِ حال مخالفانہ کارروائی کی وجہ سے ہوئی تھی۔" ہیلی کاپٹر میں سوار باقی تین افراد کو بچا لیا گیا۔

ہفتے کے روز امریکی سینٹ کام نے کہا کہ اردن میں دو فوجی اہلکار ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف دفاع کرتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔ فوج نے کہا ہے کہ حملے کے بعد ایک امریکی فوجی "فی الحال" لاپتہ ہے۔

جنگ میں ہلاکتیں صرف امریکی فوجیوں تک محدود نہیں ہیں۔

ایرانی حکام نے کہا کہ گذشتہ تین ہفتوں میں امریکی حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے جن میں جمعہ کو ایک پل پر ہونے والے حملے میں آٹھ ہلاکتیں شامل ہیں۔

بحری جہازوں پر کام کرنے والے افراد نیز خلیجی ممالک، اسرائیل اور لبنان میں غیر ملکی کارکنان اور دیگر افراد بھی اس تنازعہ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size