سعودی عرب کے 500 بلین ڈالر کے ’’نیوم‘‘ نامی مستقبل آفریں عظیم شہر کے منصوبے نے 2023 میں مملکت کے طول و عرض میں اپنی معاشرتی ذمہ داری کی کوششوں میں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔
العربیہ انگلش کی خصوصی رپورٹ کے مطابق ان میں ہزاروں بچوں کے لیے گاڑی کی محفوظ نشستوں کی تقسیم سے لے کر مفت سکول کٹس، کامیابی سے کاروبار چلانے اور آگے بڑھانے میں ابھرتے ہوئے کاروباری افراد کی مدد اور ثقافتی ورثے کے مقامات پر دیوار گیر نقاشی کے لیے کوششوں تک مختلف طرح کی اقدامات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ’نیوم‘کی معاشرتی ذمہ داری (نیوم ایس آر) کا محکمہ پائیداری، اختراع اور کمیونٹی کی شمولیت کے لیے کمپنی کے عزم کو آگے بڑھانے میں پیش پیش ہے۔ 2023 میں 50,000 سے زیادہ افراد اس سے مستفید ہوئے اور مقامی کمیونٹی کو 10 ملین ڈالر سے زیادہ کی واپسی ہوئی۔
رپورٹ کے تعارف میں نیوم کے سی ای او نظمی النصر نے کہا، "سماجی ذمہ داری، پائیداری اور اختراع کے لیے ہماری غیر متزلزل وابستگی ہماری حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ شناخت میں گہرائی سے موجود ہے جس کا ولی عہد اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین شہزادہ محمد بن سلمان نے تصور پیش کیا ہے۔"
نیوم ایس آر کی حکمتِ عملی چار کلیدی ستونوں کے ارد گرد مرکوز ہے: شراکت داری کے مواقع سے فائدہ اٹھانا، کمیونٹی اور افراد کو بااختیار بنانا، معاشی تنوع کو تیز کرنا اور طویل مدتی قدر کو آگے بڑھانا۔
النصر نے مزید کہا، "ان ستونوں میں سے ایک مشترکہ موضوع ہر ایک کے درمیان شرکت اور تعاون کی اقدار کو فروغ دینا ہے جو معاشرے کی خدمت کرے یعنی ایک ایسی کوشش جس پر نیوم مختلف طریقوں سے فخر کرے۔"
"ترقی کی رفتار تیز کرنے" کے ٹریک کے تحت نیوم نے تبوک کے علاقوں میں انٹرپرینیورشپ اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو سہارا دینے کے لیے متعدد اقدامات شروع کیے ہیں۔
کاروباری افراد کی مدد کرنا
نیوم کا ایسا ہی ایک سیون سینسز پروگرام ابھرتے ہوئے کاروباری افراد کے لیے تربیت، رہنمائی اور مالی اعانت کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ رپورٹ میں آر سی عبایا کی بانی نجود البلاوی کے کیس پر روشنی ڈالی گئی ہے جنہوں نے اس پروگرام کی مدد سے اپنا فیشن برانڈ لانچ کیا۔
انہوں نے رپورٹ میں کہا، "میں نے ہمیشہ بڑے ہو کر سعودی فیشن کی دنیا میں اپنی شناخت بنانے کا خواب دیکھا تھا۔ میرا سفر لباس اور ٹیکسٹائل میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شروع ہوا جب میں نے ایک جست لگائی اور ریاض پروگرام سے قرض لے کر 2019 میں اپنی ورکشاپ شروع کی۔ لیکن جب چیزیں شروع ہونے لگی تھیں تو کووڈ-19 وبائی مرض آ گیا جس سے غیر متوقع چیلنجز سامنے آئے۔ میں نے خود کو قرض میں ڈوبا ہوا پایا اور کام کے اخراجات بڑھتے ہی رہے جس سے منافع کی شرح کم ہوتی گئی۔ لیکن میں نے ہار ماننے سے انکار کر دیا۔"
"اس کے بجائے میں نے عبایا کی تیاری پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے زیادہ محنت کے ساتھ چیلنج کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے نے سب کچھ بدل دیا۔ میں نے نئی صلاحیتیں دریافت کیں جس نے مجھ میں مزید لچک پیدا کی۔ اس کے بعد سیون سینسز پروگرام آیا جو میرے کاروبار کے لیے انقلابی ثابت ہوا۔ اس نے مجھے دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے، اپنی حکمت عملی کو بہتر بنانے اور اپنے برانڈ کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں مدد کی۔ اس پروگرام کی بدولت مجھے نیوم کے سیون سینسز بلیوارڈ میں اپنے کام کی نمائش کرنے کا موقع ملا اور ایک اہم آرڈر حاصل ہوا۔ اب اپنے کاروبار کی ترقی کے ساتھ میں اور بھی بڑے خواب دیکھ رہی ہوں۔ میں تبوک میں کپڑے کی ایک بڑی فیکٹری کھولنے کا تصور رکھتی ہوں جو عبایا اور یونیفارم میں مہارت رکھتی ہو۔"
انٹرپرینیورشپ کو سہارا دینے کے علاوہ نیوم ایس آر نے پیشے کے انتخاب میں مدد کے ذریعے مقامی افرادی قوت کی صلاحیت کو بہتر بنانے میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔ پروگرام نے اپنی خدمات مثلاً فرضی جاب انٹرویوز، سی وی بنانے میں مدد اور کیریئر سے متعلق مشاورت کے ساتھ ہزاروں افراد کی مدد کی ہے۔
سعودی حبیب السمیطی ایسے ہی ایک فرد ہیں جنہوں نے اس پروگرام سے فائدہ اٹھایا۔
انہوں نے کہا، "بہت سے نئے گریجویٹس کی طرح مجھے اپنے شعبے میں ملازمت حاصل کرنے میں چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے میں مایوسی کا شکار ہو گیا۔ میں نے ایک متبادل کیریئر کا راستہ تلاش کرنے پر غور کیا۔"
انہوں نے مزید کہا، "پھر مجھے نیوم پارٹنرز جاب فیئر کے بارے میں پتا چلا اور میں دوبارہ پر امید ہو گیا۔ وہاں تقریب میں میں نے نیسمہ کمپنی میں پروکیورمنٹ ڈیپارٹمنٹ انجینئر کے عہدے کے لیے درخواست دی۔ جلد ہی مجھے اپنی پہلی نوکری کی خوشخبری مل گئی۔ اس نئی مالی آزادی سے پیشہ ورانہ اور ذاتی طور پر میری نشوونما ممکن ہوئی۔ میری مہارتوں اور صلاحیتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا جس سے میں اوکساگون اور ٹروجینا جیسے بڑے پیمانے کے پراجیکٹس کے لیے اعلیٰ قیمت کے خریداری کے آرڈرز سنبھال سکتا ہوں۔"
معیارِ زندگی کو بہتر کرنا
"معیارِ زندگی کو بہتر کرنے" کے ٹریک کے تحت نیوم ایس آر نے مقامی کمیونٹیز کی فلاح وبہبود کو بہتر بنانے کے مقصد سے متعدد اقدامات نافذ کیے ہیں۔
ایک قابلِ ذکر پروگرام خاندانی سپورٹ سکیم ہے جو ضرورت مند خاندانوں کو ضروری اشیاء مثلاً گاڑی کی سیٹ، سکول کٹس اور گھریلو سامان مہیا کرتی ہے۔
مادی امداد کے علاوہ نیوم ایس آر نے خطے میں معیارِ تعلیم کو بہتر بنانے میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔ رپورٹ میں نیوم سکالرشپ پروگرام کے آغاز کی تفصیلات دی گئی ہیں جو نیوم اور تبوک کے باصلاحیت طلبہ کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ٹیوشن اور رہائش کے مکمل اخراجات فراہم کرتا ہے۔
اقدار کی ترویج
"ایمبیڈنگ ویلیو" ٹریک کے تحت نیوم ایس آر نے کمیونٹی کے اندر رضاکارانہ اور انسان دوستی کی مشغولیت کے اطوار کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی ہے۔
رپورٹ نیوم رضاکار پروگرام کی کامیابی پر روشنی ڈالتی ہے جس نے تقریباً 1,000 رضاکاروں کو مختلف معاشرتی منصوبوں اور اقدامات میں شامل کیا ہے۔ ایسے ہی ایک رضاکار سلطان الحربی نے پروگرام میں شرکت کے تجربے کا اشتراک کیا۔
انہوں نے رپورٹ میں کہا، "رضاکارانہ خدمات میری کمیونٹی میں زیادہ مشہور نہیں تھیں لیکن نیوم ایس آر کے ذریعے میں نے رضاکارانہ خدمات کی ثقافت کے بارے میں سیکھا۔ اس نئے تصور سے متأثر ہو کر میں نے نیوم فرینڈز میں شمولیت اختیار کی۔ میرا پہلا رضاکارانہ تجربہ منفرد تھا اور میرے لیے بطور فراد بہت مثبت نتائج لایا۔"
"رضاکارانہ خدمات نے واقعی میری آنکھیں ان تصورات کے لیے کھول دی ہیں جن کا میں اب اپنی روزمرہ کی زندگی میں اطلاق کرتا ہوں۔ متنوع ثقافتوں کے ساتھ مؤثر رابطے کے ذریعے میں نے زندگی کا مزید تجربہ حاصل کیا۔ ان تمام باتوں نے کئی سطحوں پر میری ذاتی ترقی میں کردار ادا کیا۔"
"ایک اقدام جس کے بارے میں میں بہت زیادہ بات کرنا چاہتا ہوں وہ ہے 'یوم یتیم' جس نے میرے دوسروں کو دینے کے جذبے کو تقویت بخشی۔ رضاکارانہ خدمات ان طاقتوں اور کردار کی خوبیوں سے پردہ اٹھاتی ہیں جن کے بارے میں ہمیں معلوم ہی نہ تھا۔ میرے رضاکارانہ سفر نے وقت کی قدر کے بارے میں گہرا احساس متأثر کیا۔ اس سے مجھ میں اپنے فارغ وقت کو بامقصد طور پر استعمال کرنے کی خواہش پیدا ہوئی جس سے مجھ پر اور میری کمیونٹی پر مثبت اثر ہو گا۔"
دیگر پروگراموں میں نیوم ہیریٹیج اور رائل کمیشن برائے العلا (آر سی یو) کے درمیان شراکت شامل ہے جس نے ان خطوں اور نیوم رینجرز پروجیکٹ دونوں میں ثقافتی ورثے کے مقامات پر اور ان کے اردگرد دیوار گیر نقاشی اور تخریب کاری کے ملک گیر مسئلے کو حل کرنے کے لیے تعاون کیا۔ نیوم رینجرز پروجیکٹ نیوم کے اندر موجود قدرتی وسائل اور جنگلی حیات کی نگرانی اور حفاظت کے لیے ذمہ دار صفِ اول کے اہلکاروں کو تربیت دیتا ہے۔ وہ ثقافتی تحفظ سے متعلق قواعد و ضوابط نافذ کرتے ہیں بشمول غیر قانونی شکار، جانوروں کی رہائش گاہوں کی تباہی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنا۔
رضاکار پروگرام کے علاوہ نیوم ایس آر نے معاشرتی ذمہ داری ایوارڈ بھی شروع کیا ہے جو نیوم اور تبوک کے علاقوں میں سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے افراد اور تنظیموں کی خدمات کو تسلیم کرتا ہے اور ان کی خوشی مناتا ہے۔
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ معاشرتی ذمہ داری نیوم کے خمیر کے اندر گہرائی سے سرایت کیے ہوئے ہے جو تنظیم کے مشن اور کارروائیوں کے ہر پہلو میں نفوذ پذیر ہے۔
النصر نے کہا، "ہمارے نظریئے کا دائرہ کار ہمارے موجودہ اور آئندہ منصوبوں اور اقدامات سے کہیں زیادہ آگے ہے کیونکہ ہم اس عالمگیر ثقافت کا فروغ جاری رکھے ہوئے ہیں جسے ہماری متنوع ٹیموں کے خواب دیکھنے والے اور عمل کرنے والے افراد نے زندگی دی ہے جو غیر معمولی زندگی گذارنے کی اہلیت کے ایک نئے ماڈل کی تعمیر کا حصہ بننا چاہتے ہیں جو فطرت سے ہم آہنگ ہو۔"
انہوں نے مزید کہا، "ہماری ٹیم کے لوگوں اور نیوم کے متنوع شعبوں، ذیلی اداروں، شراکت داروں اور کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی پرجوش حمایت
سے یہ جامع نقطۂ نظر ہمارے وعدے کی عکاسی کرتا ہے کہ ہمارے حال کو بہتر بنانے اور ایک روشن مستقبل کی راہ ہموار کرنے کے لیے ابھی عمل کریں - یعنی آج ایک ایسی تبدیلی کو متحرک کرنا جو ایک امید افزا کل کی بنیاد رکھے گا۔"