8 عادتیں جنہیں زندگی میں عزت حاصل کرنے کے لیے ختم کرنا ضروری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

بہت سے لوگ دوسروں کی جانب سے تعریف سننے کے دیوانے ہوتے ہیں، لیکن بعض اوقات دوسروں کو خوش کرنے کی خواہش کسی شخص کی خود اعتمادی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

دوسروں کی تعریف پانے کی خواہش اور خود اعتمادی کے درمیان فرق ذات کی صداقت میں مضمر ہے۔

دوسروں کی مرضی کے لیے مستقل طور پر سر تسلیم خم کرنے سے آپ کی حقیقی خودی اور ارادوں پر پردہ پڑ سکتا ہے۔

دوسروں کو خوش کرنے والے طرز عمل کو مسترد کرنے کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپ اپنی اور اپنی ضروریات کی قدر کرنے کا انتخاب کریں، چاہے اس سے دوسروں کو مایوسی ہو۔

سمال بزنس بون فائر ویب سائٹ کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، اگر آپ چاہتے ہیں کا لوگ آپ کو سنجیدگی سے لیں تو کچھ ایسے رویے ہیں جن کو ترک کرنا چاہیے ۔ جیسے کہ:


1. ہمیشہ "ہاں" کہنا۔

سب سے زیادہ عام لوگوں کو خوش کرنے والے رویے میں سے ایک "نہ" کہنے میں ناکامی ہے۔

یہ اکثر تھکا دینے والا ہو سکتا ہے کہ ایک شخص اپنے آپ کو ایسے کام انجام دینے پر لگائے جو وہ نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن جب وہ ایسا کرتا ہے تو وہ اپنی ضروریات اور خواہشات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عزت کا آغاز اندر سے ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی حدود کا احترام نہیں کر سکتا تو اسے توقع رکھنی چاہیے کہ دوسرے ان پر غور نہیں کریں گے۔

"نہیں" کہنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ شخص بدتمیز ہے۔ بلکہ، آپ اپنا خیال رکھتے ہیں اور اپنے وقت اور توانائی کی قدر کرتے ہیں۔

2. مسلسل معذرت

مسلسل معافی مانگنا ایک خودکار ردعمل کی طرح ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ان غلطیوں کے لیے معافی مانگی جائے جو اس شخص نے نہیں کیں۔

یہ عادت کسی شخص کی عزت نفس کو مجروح کرتی ہے۔

Untitled ۱
Untitled ۱

جس طرح جب کوئی غلط کام کرتا ہے تو معافی مانگنا پختگی کی علامت ہے، اسی طرح غیر ضروری طور پر معافی مانگنا غیر ارادی طور پر یہ تاثر دے سکتا ہے کہ وہ شخص ان چیزوں کی ذمہ داری لے رہا ہے جو اس کے کنٹرول میں نہیں ہیں۔


3. خیالات اور نظریات کو دبانا

کسی بھی تناظر میں سب سے زیادہ قابل احترام لوگ اکثر وہ ہوتے ہیں جو اپنے خیالات اور رائے کا اظہار کرنے سے نہیں ڈرتے۔ دوسروں کو خوش کرنے کے لیے خیالات کو دبانا اچھے ہونے کی غلط تصویر بنا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک شخص کو مختصر مدت میں شائستہ ظاہر کر سکتا ہے، یہ دوسروں کو اسے ایک ایسا شخص سمجھنے کا باعث بھی بن سکتا ہے جس کے پاس پختہ یقین یا خیالات نہیں ہیں۔


4. حد سے زیادہ عزم

قابل اعتماد ہونا بہت بڑی خوبی ہے، لیکن حد سے زیادہ کام کرنا اور بات ہے۔ دوسروں کو خوش کرنے کی کوشش میں بہت زیادہ کام یا ذمہ داریاں کے جال میں پھنسنا آسان ہے۔ نتیجتاً، وہ شخص اپنے کام کے معیار اور اپنے وقت کو خطرے میں ڈال کر بہت زیادہ محنت کرتا ہے۔ یہ تناؤ، تھکن، اور یہاں تک کہ ان لوگوں کی ناراضگی کا باعث بن سکتا ہے جنہیں وہ خوش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ترجیحات کو سمجھنے اور صلاحیتوں سے زیادہ کاموں کو تفویض یا مسترد کرنے سے نہ گھبرانے کے درمیان توازن کلید ہے۔ کم کام کرنا اور ان کو مؤثر طریقے سے مکمل کرنا زیادہ بوجھ سر پہ لینے اور کوتاہی سے بہتر ہے۔


5. خود کی دیکھ بھال کو نظرانداز کرنا

دوسروں کی دیکھ بھال ایک شاندار خوبی ہے، لیکن اسے اپنی بھلائی کی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے۔ جب ایک شخص مسلسل دوسروں کی ضروریات کو اپنی ذات سے پہلے رکھتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو اور انہیں یہ پیغام دے رہا ہوتا ہے کہ ان کی ضروریات اس کی اپنی ضروریات سے زیادہ اہم ہیں۔ لیکن کسی کی صحت، خوشی اور خواب اہم ہیں، اس لیے دوسروں کو خوش کرنے کی خواہش میں وہ قیمتی وقت اور توانائی کو ضائع نہیں کرنا چاہیے جو انسان کو اپنی دیکھ بھال کے لیے درکار ہوتا ہے۔


6. توثیق کی تلاش

بعض افراد اپنے بارے میں اچھا محسوس کرنے کے لیے دوسروں کی منظوری پر بہت زیادہ انحصار کر تے ہیں۔ ہر فیصلہ اور ہر کامیابی اس وقت تک کم اہم معلوم ہوتی ہے جب تک کہ کوئی دوسرا اس کی توثیق نہ کرے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، دوسروں سے مسلسل توثیق کا حصول ایک شخص کو اپنی قدر اور کامیابیوں کو دیکھنے کی صلاحیت سے محروم کر سکتا ہے۔


7. محاذ آرائی سے گریز کرنا۔

تصادم سے بچنا ان لوگوں میں ایک عام رویہ ہے جو دوسروں کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ اختلاف کا اظہار کرنے اور کسی کو پریشان کرنے کے خطرے سے زیادہ خاموش رہنا یا اتفاق کرنا اکثر آسان ہوتا ہے۔ لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ محاذ آرائی سے گریز سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ وہ صرف دب جاتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ، غیر حل شدہ مسائل ناراضگی پیدا کر سکتے ہیں اور تعلقات کو کمزور کر سکتے ہیں۔


8. خوابوں کو قربان کرنا

انسان کے خواب اور خواہشات اس کی شخصیت کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ یہ اسے مقصد، سمت اور خوشی دیتے ہیں. دوسروں کو خوش کرنے کے لیے اپنے خوابوں کو قربان کرنا شاید سب سے زیادہ نقصان دہ رویہ ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی شخص کا اپنے وجود اور قدر کا انکار کرنا۔ زندگی کسی دوسرے شخص کے خواب کو جینے کے لیے نہیں ہے اسے اپنے خوابوں پر قائم رہنا چاہیے۔ اور یاد رکھیں کہ زندگی میں سب سے بڑی عزت جو حاصل کی جا سکتی ہے وہ عزت نفس ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size