اوکسفام کی رپورٹ نے دولت مند افراد کو ماحول کی آلودگی کا ذمے دار ٹھہرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یورپ میں ایک ارب پتی شخص ایک ہفتے کے اندر جتنی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سبب بنتا ہے وہ دنیا کے ایک غریب ترین انسان کی جانب سے پوری زندگی میں خارج کرنے والے حجم کے برابر ہے۔

یہ بات غیر سرکاری تنظیموں کے معروف مجموعے "اوکسفام" کی جانب سے آج پیر کے روز جاری ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔

یورپی یونین میں عدم مساوات اور ٹیکس سے متعلق پالیسی کی مشیر کیارا پوٹاٹورو نے "اوکسفام" کو بتایا کہ "یورپ میں دولت مند افراد ہمارے سیارے (زمین) کے ساتھ ذاتی کھیل کے میدان جیسا معاملہ کرتے ہیں"۔

غربت کے خاتمے کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم اوکسفام ایک بار پھر دولت مندوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ تنظیم نے زور دیا ہے کہ دولت پر ٹیکس عائد کیا جائے اور نجی طیاروں اور پر تعیش یاٹوں جیسے اثاثوں پر زیادہ ٹیکس لگایا جائے۔

نجی طیارہ
نجی طیارہ

اوکسفام کے مطابق اس کی رپورٹ یہ ظاہر کرتی ہے کہ یورپ میں دولت مند افراد کس طرح دنیا کے غریب ترین علاقوں میں بسنے والوں کے کھاتے میں ماحولیاتی تبدیلی کی ابتری میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

کیارا نے مزید کہا کہ "ان افراد کی آلودگی پیدا کرنے والی سرمایہ کاری، ان کے نجی طیارے اور یاٹیں محض تفریح کی نشانیاں نہیں بلکہ یہ عدم مساوات، بھوک یہاں تک کہ موت کا کو بھی بڑھاوا دیتی ہیں"۔ کیارا نے مطالبہ کیا کہ "دولت مند افراد کے کاربن اثرات کا بل انھیں خود ادا کرنا چاہیے، نہ کہ عام یورپیوں کو"۔

اوکسفام کے مطابق یورپ کا ایک ارب پتی فرد اپنی یاٹ پر ایک سال میں اتنا کاربن خارج کرتا ہے جتنا یورپ کا ایک عام شہری 585 برس میں خارج کرتا ہے۔

گلوبل وارمنگ
گلوبل وارمنگ

اوکسفام نے مزید بتایا کہ ان کی تحقیق میں شامل ارب پتی افراد کی سرمایہ کاری جس کا تجزیہ کیا گیا اس میں سے 40% سرمایہ کاری آلودگی پھیلانے والی صنعتوں میں کی گئی۔ مثلا کان کنی، تیل اور شپنگ وغیرہ.

اوکسفام کے مطابق یورپی یونین کے ممالک میں 36 دولت مند ترین ارب پتیوں کی سرمایہ کاری کے سبب خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کا مجموعی حجم 54 لاکھ سے زیادہ یورپی شہریوں کے سالانہ کاربن اخراج کے برابر ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں