دل کی صحت کا راز چربی اور کاربوہائیڈریٹس کو کم کرنے میں نہیں: نئی تحقیق
توجہ کاربوہائیڈریٹس، فیٹس، کیلوریز خارج کرنے پر نہیں، غذاؤں کی کوالٹی اور اجزاء پر ہونی چاہیے
ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ دل کی صحت کو برقرار رکھنے کی کلید کا دارومدار لازمی طور پر کاربوہائیڈریٹس یا چربی کے استعمال کو کم کرنے پر نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق زیادہ تر ان غذاؤں کے معیار سے ہے جو انسان روزانہ کھاتا ہے۔
ویب سائٹ ’’ سائنس الرٹ ‘‘ کی طرف سے امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے جریدے کے حوالے سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق جدید سائنسی شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ صحت بخش غذائیت میں توجہ کاربوہائیڈریٹس، چربی یا یہاں تک کہ کیلوریز جیسے مخصوص غذائی اجزاء کو خارج کرنے پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کی توجہ زیادہ تر غذاؤں کی کوالٹی اور ان غذائی اجزاء پر ہونی چاہیے جو غذا میں شامل ہیں۔
یہ تحقیق امریکہ میں تقریباً 30 سال کے عرصے کے دوران لگ بھگ 2 لاکھ مردوں اور عورتوں کی نگرانی پر مبنی تھی۔ اس میں محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ بعض کم چربی والی یا کم کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں دوسروں کے مقابلے میں دل کی صحت کے لیے زیادہ فوائد فراہم کرتی ہیں۔
غذا کا معیار ہی فیصلہ کن عامل
تحقیق کے نتائج نے ظاہر کیا کہ سب سے اہم عامل کاربوہائیڈریٹس یا چربی کی وہ مقدار نہیں ہے جو انسان کھاتا ہے بلکہ خود غذا کا معیار ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی میں پبلک ہیلتھ کے ماہرین کی ایک ٹیم کی قیادت میں محققین نے کہا کہ وہ غذائیں جو زیادہ تر پروسیس شدہ کھانوں، یا حیوانی پروٹین اور چربی پر انحصار کرتی ہیں، یا جن میں سبزیوں، پھلوں، اناج، صحت بخش چربی اور بنیادی غذائی اجزاء کی کمی ہوتی ہے، وہ طویل مدت میں دل اور خون کی شریانوں کو کافی تحفظ فراہم نہیں کر پاتیں۔ یہ اس صورت میں بھی ہوتا ہے جب انہیں کم کاربوہائیڈریٹ یا کم چربی والی غذاؤں میں ہی کیوں نہ شمار کیا جاتا ہو۔
ہارورڈ یونیورسٹی میں وبائی امراض کے ماہر اور تحقیق کے اہم محقق چیوآن وو نے کہا کہ نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ بات صرف کاربوہائیڈریٹس یا چربی کے استعمال کو کم کرنے کی نہیں ہے بلکہ ان غذاؤں کے معیار کی ہے جن پر لوگ اپنی غذا کی بنیاد رکھنے کے لیے انحصار کرتے ہیں۔ تحقیق کار چیوآن وو نے مزید کہا کہ غذا کے معیار کو مدنظر رکھے بغیر صرف غذائی ترکیب پر توجہ مرکوز کرنے سے مطلوبہ صحت بخش فوائد حاصل نہیں ہو سکتے۔
بہتر صحت کے اشاریے
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جن شرکاء نے صحت بخش، متنوع اور بنیادی غذائی اجزاء سے بھرپور غذاؤں پر عمل کیا ان کے خون میں اچھے کولیسٹرول کی سطح زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے مقابلے میں نقصان دہ چربی اور سوزش کے اشاریوں کی سطح کم پائی گئی جنہوں نے ان بنیادی اجزاء سے محروم غذاؤں کا انتخاب کیا تھا۔
تحقیق میں یہ بھی واضح ہوا کہ دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ، جو ہارٹ اٹیک کی سب سے عام وجہ ہے، ان لوگوں میں نمایاں طور پر کم ہو گیا جنہوں نے اعلیٰ معیار کی غذاؤں کی پابندی کی تھی۔ تحقیق کار نے وضاحت کی کہ نتائج اشارہ کرتے ہیں کہ صحت بخش کم کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں اور صحت بخش کم چربی والی غذائیں مشترکہ ایسے حیاتیاتی راستوں کے ذریعے کام کر سکتی ہیں جو دل اور خون کی شریانوں کی صحت کو بہتر بنانے میں معاون ہوتے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ عام طور پر غذا کے معیار پر توجہ مرکوز کرنا افراد کو اس غذائی طرز کے انتخاب میں زیادہ لچک دیتا ہے جو ان کی ذاتی ترجیحات کے مطابق ہو اور ساتھ ہی دل کی صحت کو برقرار رکھنا بھی جاری رہتا ہے۔
سالم اناج اور سبزیاں سب سے آگے
یہ نتائج سائنسی شواہد کے ایک بڑھتے ہوئے مجموعے میں اضافہ کرتے ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ پروسیس شدہ کھانوں کا استعمال کم کرنا اور سالم اناج اور سبزیوں کا زیادہ استعمال صحت کے متعدد اشاریوں کی بہتری سے جڑا ہوا ہے۔
ییل یونیورسٹی میں ماہرِ امراضِ قلب اور امریکن کالج آف کارڈیالوجی کے جریدے کے چیف ایڈیٹر ہارلان کرومولز نے کہا کہ یہ تحقیق کم کاربوہائیڈریٹ والی غذاؤں کے مقابلے میں کم چربی والی غذاؤں کی افضلیت پر برسوں سے جاری بحث سے آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ دل کی صحت پر سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والا عامل وہ غذا ہے جو انسان کھاتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جو غذائیں پودوں پر مبنی کھانوں، سالم اناج اور صحت بخش چربی پر توجہ مرکوز کرتی ہیں وہ دل اور خون کی شریانوں کی صحت کے لیے بہتر نتائج سے جڑی ہوتی ہیں۔ چاہے وہ کم کاربوہائیڈریٹ ہوں یا کم چربی والی ہوں۔