امریکہ اور تہران کے درمیان مذاکرات میں جمود اور متضاد بیانات کے تسلسل کے درمیان اور بات چیت کے مستقبل پر غیر یقینی صورتحال کے دوران، پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی گزشتہ روز ہفتے کے دن تہران پہنچے، جہاں ان کا استقبال ان کے ایرانی ہم منصب اسکندر مومنی نے کیا۔
العربیہ اور الحدث کے ذرائع کے مطابق اس سے قبل بتایا گیا تھا کہ پاکستانی وزیر داخلہ ایک خصوصی اور انتہائی اہم پیغام لے کر آئے ہیں، جو مبینہ طور پر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کی جانب سے ایرانی رہبر اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے لیے ہے۔
مدير برنامج الدراسات الإيرانية في مركز الدراسات الإقليمية نبيل العتوم: رسالة الجنرال عاصم منير إلى مجتبى خامنئي تكشف أن باكستان باتت تتجاوز القنوات الدبلوماسية التقليدية وتتواصل مباشرة مع صانع القرار الفعلي في إيران.. وتوجس إسلام آباد من انهيار التهدئة يدفعها إلى حمل أفكار… pic.twitter.com/FGDjsAHBKI
— العربية (@AlArabiya) June 7, 2026
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں اتار چڑھاؤ اور کشیدگی کی کیفیت برقرار ہے۔
تجزیوں کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسی حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہیں، جس میں وہ بظاہر متضاد بیانات کی بھرمار کے ذریعے زیادہ سے زیادہ سیاسی اور سفارتی فوائد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ ایرانی فریق اپنی عسکری اور معاشی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے میڈیا پروپیگنڈے کا سہارا لے رہا ہے۔
ان تجزیات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی حکمتِ عملی سخت دباؤ اور غیر مستقیم سفارت کاری کے امتزاج پر مبنی ہے۔
مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے متضاد بیانات کو ایک دانستہ حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد مخالف فریق پر نفسیاتی دباؤ ڈالنا اور اسے الجھن میں رکھنا ہے۔
مزید یہ کہ میڈیا تجزیوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس معاملے کی اصل کنجی اور فیصلہ سازی کا اختیار براہِ راست امریکی صدر کے پاس ہے، تاہم وہ مذاکرات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تہران میں صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے، جہاں میڈیا مہم حکومتی اور پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ حکام کے بیانات کے ساتھ ہم آہنگ انداز میں چل رہی ہے۔
تجزیوں کے مطابق ایران کے اندر امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے شدید اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ یہ اندرونی تقسیم واضح طور پر مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کی عکاسی کرتی ہے۔اس تقسیم میں پاسدارانِ انقلاب کا اثر و رسوخ زیادہ قرار دیا جاتا ہے، جو میڈیا کے بڑے حصے پر بھی کنٹرول رکھتے ہیں۔
بعض تجزیوں کے مطابق یہ حلقہ ایسی بیانیہ حکمتِ عملی کو فروغ دیتا ہے، جس کا مقصد ''فتح'' کا تاثر برقرار رکھنا ہوتا ہے اور عوام تک معلومات کو ایسے متضاد اور پیچیدہ انداز میں پہنچایا جاتا ہے کہ نقصانات یا داخلی دباؤ کی مکمل تصویر واضح نہ ہو سکے۔