کونسا مزیدار کھانا بعض حالات میں ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرتا ہے؟
روزانہ مٹھی بھر گری دار میوے کھانے والے افراد میں ڈیمنشیا کا خطرہ کم ہوجاتا ہے
ڈیمنشیا کا دوائیوں سے علاج کرنا انتہائی مشکل ہے لیکن دماغ کو بہتر کرنے والے خفیہ اجزا پہلے سے ہی ہماری خوراک میں چھپے ہو سکتے ہیں۔ برطانیہ کے بائیو بینک میں 50 ہزار سے زیادہ شرکا پر کی گئی ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ جو لوگ روزانہ مٹھی بھر گری دار میوے کھاتے ہیں وہ اپنے لیے ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کر دیتے ہیں۔ یہ بات سائنس الرٹ ویب سائٹ کی جانب سے شائع ہونے والے جریدے GeroScience میں بتائی گئی ہے۔
تحقیق کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی کہ گری دار میوے نہ کھانے والے 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے مقابلے میں جو لوگ روزانہ 30 گرام تک گری دار میوے کھاتے ہیں میں آنے والے سالوں میں ڈیمنشیا ہونے کا خطرہ 16 فیصد کم ہوتا ہے۔ جس وقت بغیر نمکین گری دار میوے کھائے جائیں تو یہ خطرہ 17 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔
موٹے افراد اور تمباکو نوشی کرنے والے
اگرچہ یہ نتائج اچھی خبر سامنے لائے ہیں تاہم ان کے ساتھ کچھ انتباہات بھی ہیں۔ یہ نتائج صرف ان لوگوں میں دیکھے گئے جنہیں موٹاپا نہیں تھا اور جو معمول کی نیند لیتے ہیں اور جو روزانہ تمباکو نوشی نہیں کرتے ہیں۔ اسپین کی یونیورسٹی آف کاسٹیلا لا منچا کے محققین نے لکھا ہے مستقبل کے طویل مدتی فالو اپ مطالعات میں بالغوں میں ڈیمنشیا سے بچاؤ کی حکمت عملی کے طور پر اخروٹ کے استعمال کی تاثیر کا جائزہ لینا چاہیے۔
گری دار میوے کھانے کے فوائد
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب گری دار میوے کو دماغ کی صحت سے منسلک کیا گیا ہو۔ گری دار میوے توانائی سے بھرپور غذائیں ہیں۔ یہ غذائی اجزاء، سوزش کے خلاف مرکبات اور اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں۔ لہذا سائنسدانوں نے یہ قیاس کیا ہے کہ گری دار میوے کی خصوصیات دماغ کی صحت کے لئے فائدہ مند ہوسکتی ہیں۔ کچھ مطالعہ یقینی طور پر تجویز کرتے ہیں کہ یہ معاملہ ہوسکتا ہے.
مٹھی بھر مونگ پھلی
12 ہفتوں کے بے ترتیب آزمائش میں محققین نے پتہ چلایا ہے کہ روزانہ مٹھی بھر مونگ پھلی صحت مند، ادھیڑ عمر، زیادہ وزن والے بالغوں میں قلیل مدتی یادداشت اور زبانی روانی کو بڑھاتی ہے۔ لیکن کچھ دوسرے کلینیکل ٹرائلز میں ایک جیسے فوائد نہیں ملے ہیں۔ مبہم نتائج کو واضح کرنے کے لیے یونیورسٹی آف کاسٹیلا-لا منچا میں صحت کے محقق برونو بیزوزیرو پیرون اور ان کے ساتھیوں نے یو کے بائیو بینک کے ایک گروپ کاجائزہ لیا۔ یہ گروپ 2007 اور 2012 کے درمیان رجسٹرڈ کیا گیا تھا۔
شرکا کی اوسط 7 سال تک پیروی کی گئی۔ مطالعہ کے دوران کسی بھی وجہ سے ڈیمنشیا کی شرح 2.8 فیصد تھی۔ وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ وہ ایک دن میں 30 گرام گری دار میوے کھاتے ہیں، ان میں ڈیمنشیا کے خطرے کے زمرے میں آنے کا امکان کم تھا۔
ایسا لگتا ہے کہ ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کرنے میں غذا ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ماضی میں کئی منظم جائزوں سے پتہ چلا ہے کہ صحت مند غذا، جیسے بحیرہ روم کی خوراک، ڈیمنشیا کے کم خطرے سے وابستہ ہے۔ دریں اثنا مغربی غذا، جس میں سیر شدہ چکنائی، چینی اور نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، ڈیمنشیا کے لیے خطرے کا عنصر معلوم ہوتی ہے۔