امریکہ ا ور وسطی ایشیا: ٹرمپ چین، روس، ایران اور افغانستان سے کیسے نمٹیں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

امریکہ کے 47 ویں صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری 2025 کو باضابطہ طور پر اپنی ذمہ داریوں کا آغاز کریں گے اور ان کی وائٹ ہاؤس واپسی سے نہ صرف ریاستہائے متحدہ امریکہ متاثر ہو گا بلکہ عالمی سطح پر بھی نمایاں تبدیلیاں آئیں گی۔ دوسرے خطوں کی طرح وسطی ایشیا ان خطوں میں سے ایک ہے جو ان تبدیلیوں سے متاثر ہو سکتا ہے# خاص طور پر چونکہ یہاں اس وقت پوشیدہ چینی روس مقابلہ چل رہا اور ایران اور ترکیہ کی مسلسل جدوجہد دیکھی جارہی ہے۔

ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت (2017-2021) کے دوران امریکہ نے وسطی ایشیا کے ممالک کی طرف کوئی نیا سیاسی قدم نہیں اٹھایا تھا۔ ایک طرف افغان اور ایرانی پڑوسیوں کی وجہ سے اس خطے کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ دوسری طرف روس سے علیحدہ ہونے والے ممالک ہیں و سوویت یونین کے خاتمے کے پس منظر میں ماسکو سے الگ ہو گئے تھے۔ یہ ممالک روسی روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کے اندر ایک اہم راہداری بنا رہے ہیں۔

اپنی پہلی مدت کے دوران ٹرمپ نے اپنی صدارت کے خاتمے سے ایک سال قبل فروری 2020 تک اس خطے کے لیے کسی خاص حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا تھا۔ اس مختصر دور میں ان کی انتظامیہ نے علاقائی انضمام، انسانی حقوق اور اصلاحات کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی پر توجہ مرکوز کی تھی۔ تاہم نومبر 2020 میں صدارتی انتخابات میں ان کی شکست سے اس منصوبے پر عمل درآمد میں رکاوٹ آگئی تھی۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ وسطی ایشیا دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں امریکہ کا ممکنہ طور پر کم سے کم اثر و رسوخ ہے کیونکہ اسے سابقہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔ یہ بتانا کافی ہے کہ امریکی صدور میں سے کسی نے بھی وسطی ایشیا کا دورہ نہیں کیا جس سے اس خطے میں امریکہ کی محدود دلچسپی کا واضح طور پر پتہ چلتا ہے۔

اب ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ امریکہ کے صدر منتخب ہونے سے وسط ایشیائی ممالک کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟ کیا ٹرمپ کے دوسرے دور میں وسطی ایشیا زیادہ اہم ہو جائے گا؟ بی بی سی فارسی کو انٹرویو دیتے ہوئے قازقستان کے سیاسی امور کے ماہر الدانیز حسینوف نے کہا کہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ وسطی ایشیا کے حوالے سے امریکہ کی خارجہ پالیسی ثانوی نوعیت کی ہے اور خطے میں دلچسپی صرف اس وقت بڑھتی ہے جب بیرونی عوامل ظاہر ہوتےہیں۔ ان عوامل میں یوکرین میں جنگ، امریکہ میں داخلی ترقی، چین کے اہم وسائل پر حد سے زیادہ انحصار شامل ہیں۔ اس تناظر میں تین اہم محوروں میں تبدیلیوں کی توقع ہے جو وسطی ایشیا کے ممالک کو متاثر کر سکتے ہیں۔

مستقبل میں روس کے ساتھ مذاکرات کا موقع مل سکتا ہے لیکن محدود طریقے سے اور اس صورت میں روس پر سے پابندیاں بتدریج اٹھانے سے وسطی ایشیائی ممالک پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ الدانیز حسینوف کا خیال ہے کہ چین سے جغرافیائی قربت کی وجہ سے وسطی ایشیا امریکہ کے لیے تزویراتی اہمیت حاصل کر رہا ہے۔

وسطی ایشیا چین، روس اور ایران کے ساتھ امریکہ کے مقابلے کا میدان ہے۔ تاجکستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی امور کے ماہر فریدون ھادی زادہ نے قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے صدور کی طرف سے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کی فتح کے موقع پر بھیجے گئے مبارکبادی خطوط کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ واضح ہے کہ یہ ممالک امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں۔

واضح رہے وسطی ایشیا کے ممالک خشکی سے گھرے ممالک ہیں جن کے پاس تیل اور گیس جیسے توانائی کے ذرائع ہیں اور جغرافیائی سیاسی نقطہ نظر سے ترکیہ انہیں ترک عوام کا اہم گڑھ اور ترکوں کی دنیا کی توسیع کے طور پر دیکھتا ہے۔ اس دنیا کے اندر قفقاز میں جمہوریہ آذربائیجان بھی ان ممالک کو اپنی مصنوعات اور اشیا کے لیے اہم تجارتی منڈیوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بدلے میں ایران ان ممالک کے ساتھ اپنے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے لیے اپنی سرزمین کے ذریعے بین الاقوامی پانیوں تک راستہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ افغانستان کے پڑوسی وسطی ایشیائی ممالک کے بھی افغانستان کے عوام کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔ یہ تعلقات افغانستان میں طالبان کے اقتدار پر قبضے سے قبل سیاسی اور سیکورٹی تعاون کے ذریعے بڑھے۔ اس خوف کے باوجود کہ افغانستان وسطی ایشیا کی حکومتوں کے خلاف دہشت گرد تنظیموں کا گڑھ بن سکتا ہے کابل اور اور افغانستان کے شمال میں واقع ان ممالک کے دارالحکومتوں کے درمیان گزشتہ تین سالوں کے دوران تعلقات میں توسیع ہوئی ہے۔

بیجنگ وسطی ایشیا کے ممالک میں بڑی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ خاص طور پر چونکہ ان کے پاس توانائی کے وسائل سب سے زیادہ ہیں اور وہ "روڈ اینڈ بیلٹ" منصوبے کے لیے اہم راہداری بھی بنا رہے ہیں۔ چین ان ممالک کے ساتھ سکیورٹی تعاون میں سنکیانک یا مشرقی ترکستان کی سلامتی کی صورت حال کو یقینی بنانے کے لیے بھی دلچسپی رکھتا ہے۔

اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ ٹرمپ کے دور میں وسطی ایشیا میں امریکہ اور چین، روس، ایران اور ترکیہ کے درمیان مقابلہ زیادہ شدید ہو جائے گا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ چین کے ساتھ مقابلہ اس خطے میں امریکہ کی پہلی ترجیح ہونے کا امکان ہے ۔ روس اور ایران کے ساتھ مقابلہ دوسرے نمبر پر آئے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں