فالج کے مریضوں کو چلنے اور سیڑھیاں چڑھنے میں مدد کرنے والا روبوٹ تیار
جنوبی کوریا کے محققین نے ایک ہلکا پہننے کے قابل روبوٹ بنایا ہے جو فالج کے مریضوں کو چلنے، رکاوٹوں کو دور کرنے اور سیڑھیاں چڑھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
کوریا ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں Exoskeleton لیبارٹری ٹیم نے کہا کہ ان کا مقصد ایک ایسا روبوٹ بنانا ہے جو معذور افراد کی روزمرہ کی زندگی میں بغیرکسی رکاوٹ کے مدد دے سکتا ہے۔
کم سنگ ہوان جو اس ٹیم کے ارکان میں سے ایک ہیں جو خود ہیمپلجیا کا شکار ہیں۔ انہوں نے اس پروٹو ٹائپ کا مظاہرہ کیا جس نے اسے 3.2 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے، سیڑھیوں پر چڑھنے، سلائیڈ کرنے اور بینچ پر بیٹھنے کے لیے قدم اٹھانے میں مدد کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ "میں جہاں بھی ہوں مجھ سے رابطہ کر سکتا ہے۔ یہاں تک کہ جب میں وہیل چیئر پر بیٹھا ہوں۔ اسے مجھے کھڑے ہونے میں مدد کرنے کے لیے پہنا جا سکتا ہے، جو اس کی نمایاں خصوصیات میں سے ایک ہے"۔
روبوٹ جسےWalk on Suit F1 کا نام دیاجاتا ہے کاوزن 50 کلوگرام ہے۔ اس میں 12 الیکٹرانک موٹرز ہیں جو چلنے کے دوران انسانی جوڑوں کی حرکت کی نقل کرتی ہیں۔
ٹیم کے ارکان میں سے ایک پارک جونگ سو نے کہا کہ وہ فلم "آئرن مین" سے متاثر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ "فلم آئرن مین دیکھنے کے بعد میں نے سوچا کہ یہ بہت اچھا ہو گا اگر میں حقیقی زندگی میں روبوٹ کے ذریعے لوگوں کی مدد کر سکوں"۔
چہل قدمی کے دوران صارف کے توازن کو یقینی بنانے کے لیے روبوٹ پیروں کے تلووں اور جسم کے اوپری حصے میں سینسر سے لیس ہے جو فی سیکنڈ 1000 سگنلز کی نگرانی کرتا ہے اور اس حرکت کا اندازہ لگاتا ہے جو صارف کرنا چاہتا ہے۔
پارک نے کہا کہ روبوٹ کے سامنے والے لینز آنکھوں کی طرح کام کرتے ہیں اور اس کے گردونواح کا تجزیہ کرتے ہیں، سیڑھیوں کی اونچائی کا تعین کرتے ہیں اور مکمل ہیمپلیجیا والے صارفین کی حسی صلاحیت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے رکاوٹوں کا پتہ لگاتے ہیں۔