رمضان 2025: روزے کی صحت مندانہ تیاری کے بارے میں ایک ماہرِ غذائیات کے رہنما اصول

مقدس مہینہ شروع ہونے سے قبل صحت کا جائزہ لینا مفید ہو سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

اگر چاند نظر آجائے تو مقدس ماہِ رمضان المبارک کا آغاز اس سال یکم مارچ سے ہونے کی امید ہے۔

روزے کا مطلب روحانی غور و فکر، نظم و ضبط اور عقیدت ہے۔

بائیونک مڈل ایسٹ میں کلینکل ڈائیٹیشین ڈاکٹر لاما دلول نے العربیہ کو بتایا، "رمضان خود کو دوبارہ ترتیب دینے اور دوبارہ مربوط ہونے کا بہترین وقت ہے۔ یہ ایک موقع ہے کہ آپ جس سرگرمی میں مشغول ہوں، اسے شعوری طور پر کریں۔ روزے کے مہینے سے پہلے کھانے کے نظام الاوقات کو بتدریج ایڈجسٹ کرتے ہوئے اپنے جسم کو تیار کریں۔"

انہوں نے کہا، "اگر آپ دن بھر کھانے کے عادی ہیں تو کھانے کو مختصر کرنا شروع کر دیں اور اپنے جسم کو روزے سے موافق ہونے میں مدد کریں۔

"اگر آپ باقاعدگی سے کافی یا چائے پیتے ہیں تو رمضان سے کچھ دن پہلے اپنی کیفین کی مقدار کو آہستہ آہستہ کم کریں تاکہ آپ پانی کی کمی سے بچ سکیں اور سر درد کا خطرہ کم ہو جائے۔"

رمضان المبارک کے دوران کھانے کی عام غلطیاں

دلول نے العربیہ کو بتایا، رمضان کے دوران خوراک کے انتخاب میں غلطیاں اکثر درماندگی، پانی کی کمی اور صحت کے دیگر مسائل کا باعث بن سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا، "رمضان کے دوران عام ترین غلطیوں میں سے ایک سحری چھوڑ دینا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی، "پورے دن کے لیے درکار توانائی فراہم کرنے کے لیے سحری بہت اہم ہے۔ اسے چھوڑنے سے کمزوری یا پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ آپ کی توانائی کی سطح برقرار رکھنے کے لیے ریشہ دار، پروٹین اور صحت مند چکنائیوں پر مشتمل ایک متوازن غذا مثالی ہے۔"

انہوں نے پانی کی مناسب مقدار کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی: "افطار اور سحری کے درمیان پانی کی وافر مقدار کو یقینی بنانا ضروری ہے۔"

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے روزہ داروں کو پانی کی کمی سے بچنے کے لیے روزے کے علاوہ دیگر اوقات میں کم از کم 10 گلاس پانی پینے کی تجویز دی ہے۔

دلول نے کہا کہ ایک اور غلطی جو لوگ رمضان کے دوران کرتے ہیں، وہ غیر صحت بخش خوراک کا زیادہ انتخاب کرنا ہے۔

ڈبلیو ایچ او رمضان المبارک کے دوران مرغن اور ضرورت سے زیادہ نمکین کھانوں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیتا ہے، "پُرخوری اور مرغن اشیاء کا انتخاب جسم پر منفی اثر کر سکتا ہے۔ کھانے کا انتخاب حاضر دماغی سےکرنا ضروری ہے، نہ صرف مقدار بلکہ کھانے کے معیار پر بھی توجہ دی جائے۔"

مزید یہ کہ رمضان المبارک میں عموماً کھائی جانے والی مٹھائیوں میں بڑی مقدار میں چینی کا محلول ہوتا ہے۔

قبل از رمضان صحت کا جائزہ

ڈبلیو ایچ او کے مطابق رمضان المبارک کے دوران اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ جسم کو مناسب غذائی اجزاء فراہم کیے جائیں۔ جو لوگ غذائیت کی کمی کا شکار ہیں، روزہ ان کے مسائل بڑھا سکتا ہے۔

دلول نے کہا، "چونکہ جسم روزے کے دوران توانائی بچاتا ہے تو ہماری بنیادی میٹابولک شرح زیادہ مؤثر ہو جاتی ہے۔ البتہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم اپنے جسم کی ضرورت سے کم غذائی اجزاء، وٹامنز اور معدنیات استعمال کر سکتے ہیں۔ خواہ آپ غذائیت کی کمی کا شکار ہوں یا نہ ہوں، سپلیمنٹس اس بات کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کہ آپ کے جسم کو اس کی ضرورت کے مطابق غذائیت حاصل ہو۔"

دلول نے مزید کہا، رمضان سے پہلے کی صحت کا جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ یہ جسم کی موجودہ حیثیت اور مخصوص ضروریات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔

ماہرِ غذائیات کے مطابق ماہِ صیام سے پہلے صحت کی کسی بھی کمی کو دور کر لینے سے یہ یقینی ہو جاتا ہے کہ انسان اس مرحلے میں بہترین طاقت اور توانائی کے ساتھ داخل ہو جس سے پورے مہینے میں جسمانی اور ذہنی کارکردگی میں مدد ملے گی۔"

غذائیت اور صحت کے بارے میں صحیح نکتۂ نظر کے ساتھ ماہِ رمضان جسمانی اور ذہنی بحالی کا وقت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مشورے پر عمل اور حاضر دماغی سے غذا کا انتخاب کر کے افراد اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ وہ پورے مقدس مہینے میں مضبوط، توانا، اور پانی کی بھرپور مقدار کے ساتھ رہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size