صحت : دماغی سرگرمی کو بڑھانے کے لیے ناشتے کے ساتھ یہ خشک میوہ آزمائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق جن نوجوانوں نے ناشتے کے ساتھ مٹھی بھر اخروٹ بھی کھائے، ان کے طویل دورانیے میں رد عمل کے اوقات بہتر ہو گئے اور چند گھنٹوں بعد یاد داشت کی کارکردگی میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔

انگریزی ویب سائٹNew Atlas پر Food & Functionتحقیقی جریدے کے حوالے سے جاری رپورٹ کے مطابق مذکورہ تحقیق کے نتائج اس دعوے کو مضبوط بناتے ہیں کہ اخروٹ دماغ کی سرگرمی میں اضافہ کرتا ہے۔

مملکت متحدہ (یو کے) میں ریڈنگ یونیورسٹی کے محققین نے دریافت کیا ہے کہ ناشتے میں اخروٹ سے بھرپور غذا (جو دماغ کے لئے فائدہ مند سمجھی جاتی ہے) کا اثر دماغ کی کارکردگی پر مثبت رہا جو پورے دن جاری رہا۔

اس تحقیق میں 32 صحت مند بالغ افراد شریک ہوئے جن کی عمر 18 سے 30 برس کے درمیان تھی۔ انھیں اتفاقی طور پر ایک علاجی گروپ اور ایک کنٹرول گروپ میں تقسیم کیا گیا۔ علاجی گروپ نے ناشتے میں Muesli اور ونیلا دہی کے ساتھ 50 گرام پسا ہوا اخروٹ کھایا جب کہ کنٹرول گروپ کا ناشتہ دہی اور Muesli پر مشتمل تھا جس میں کوئی خشک میوہ نہیں تھا۔

کنٹرول گروپ کے ناشتے میں چالیس گرام پگھلا ہوا مکھن شامل کیا گیا تاکہ دونوں گروپوں کے درمیان غذائیت، مجموعی وزن اور مجموعی کیلوریز کا حساب برابر ہو جائے۔ ایک ہفتے بعد شرکاء واپس آئے اور وہ ناشتا کھایا جو انہوں نے پہلی مرتبہ نہیں کھایا تھا۔ ابتدا میں خون کے ٹیسٹ، ذہنی صلاحیت کی جانچ اور دماغی لہروں کا تجزیہ کیا گیا، پھر ناشتے کے بعد دو، چار، یا چھ گھنٹوں بعد دوبارہ یہ ٹیسٹ کیے گئے۔

اخروٹ سے بھروپر ناشتے کے بعد، شرکاء نے ادراکی افعال کے دوران میں زیادہ تیز رد عمل کے اوقات دکھائے جو اجرائی فعالیت کو ناپتے ہیں۔ یہ وہ ذہنی مہارتیں ہیں جو روزمرہ کے کاموں کو منظم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں جیسا کہ منصوبہ بندی کرنا، مسائل حل کرنا اور نئے حالات کے مطابق ہم آہنگ ہونا۔ اس کے اثرات پورے دن جاری رہے۔ یادداشت پر اخروٹ کے اثرات ملے جلے تھے۔ کنٹرول گروپ کے مقابلے میں، اخروٹ والے گروپ نے دو گھنٹوں کے بعد یادداشت میں خراب کارکردگی دکھائی، لیکن چھ گھنٹے بعد، انہوں نے کنٹرول گروپ کو پیچھے چھوڑ دیا۔ محققین کا خیال ہے کہ اس کا سبب شاید اخروٹ میں موجود اومیگا-3 فیٹی ایسڈز اور پروٹینز کے جذب ہونے کا آہستہ عمل ہو۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ محققین نے دریافت کیا کہ مزاج پر اخروٹ کا اثر "غیر متوقع طور پر منفی" تھا۔ یہ بات پچھلی تحقیق کے ساتھ ہم آہنگ نہیں تھی۔ محققین کے مطابق شرکاء کی اچھے مزاج میں کمی کی ایک ممکنہ وجہ اخروٹ کا ذائقہ اور خوشبو ہو سکتی ہے، جو انھوں نے کنٹرول گروپ سے زیادہ بری قرار دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں