صحت: ذیابیطس کی دونوں اقسام اور دل کے دورے کے خطرات
ایک نئی طبی تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ ذیابیطس کے ٹائپ 1 مریضوں میں دل کے امراض مثلا دماغی سکتہ (فالج) یا دل کے دورے کا خطرہ ٹائپ 2 کے مقابلے میں کم ہوتا ہے۔ اس حوالے سے New Atlas ویب سائٹ نے طبی جریدے Society for Cardiovascular Angiography & Interventions کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔
ذیابیطس کی دونوں اقسام میں بنیادی فرق
ذیابیطس ٹائپ 1 (T1D) اور ذیابیطس ٹائپ 2 (T2D) دونوں ہی دل کی بیماریوں کے لیے معروف عوامل میں شمار ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں بیماریوں کی وجہ سے ہونے والی میٹابولک خرابیوں کا نتیجہ شریانوں کی سختی یا خون کی نالیوں کی اندرونی دیواروں پر پلاک کی تشکیل کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ذیابیطس کے مریضوں میں غیر ذیابیطس کے مریضوں کے مقابلے میں زیادہ پلاک اور چھوٹے قطر والی خون کی نالیاں پائی جاتی ہیں۔
اگرچہ ٹائپ 1 اور 2 دونوں حالتوں میں خون میں گلوکوز کی سطح بڑھ جاتی ہے تاہم دونوں اقسام مکمل طور پر مختلف ہیں۔ پہلی میں انسولین کی کمی واقع ہوتی ہے جب کہ دوسری قسم انسولین مزاحمت پیدا کرتی ہے۔
امریکی ریاست میساچوسٹس میں طبی محققین نے Veradigm Metabolic Registry سے 2017 سے 2022 تک کا ریکارڈ حاصل کیا۔ مطالعے میں ٹائپ 1 کے 5,823 مریض اور ٹائپ 2 کے 156,204 مریضوں کو شامل کیا گیا۔ مریضوں کی عمریں 45 سے 75 برس کے درمیان تھیں۔ ان مریضوں میں دل کے مسائل سے متعلق 11,096 واقعات پیش آئے۔
ان میں سے 45.3% کو فالج کا سامنا ہوا، 19.5% کو نچلے اعضاء کی شریانوں میں شدید رکاوٹ کا سامنا ہوا، 17.1% کی بائی پاس سرجری کی گئی، 17.5% کو دل کا دورہ پڑا اور 9.3% کو دل کی شریان کی رکاوٹ کھولنے یا اس کی توسیع کے لیے اسٹنٹ ڈالا گیا۔
زیادہ خطرے کا شکار مریض
معلومات کے تجزیے کے بعد محققین نے دریافت کیا کہ دل اور خون کی نالیوں سے متعلق کسی بھی مسئلے کے وقوع کا امکان ... ٹائپ 1 ذیابیطس مریضوں میں ٹائپ 2 مریضوں کے مقابلے میں کم تھا۔ ٹائپ 1 ذیابیطس مریضوں میں دل و شریانوں کے مسئلے کا سامنا کرنے کا خطرہ تقریباً 63% تھا، جو ٹائپ 2 مریضوں کے مقابلے میں کم تھا۔
دل اور خون کی شریانوں کے امراض
طبی تحقیقی مطالعے کے مرکزی محقق ڈاکٹر اینڈریو گولڈسویگ کے مطابق "مطالعے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹائپ 1 ذیابیطس کے مریضوں میں دل اور خون کی نالیوں کی بیماریوں کا خطرہ پہلے جو سوچا جاتا تھا، اس سے کم ہے، اور یہ ان مریضوں کے علاج پر اہم اثرات مرتب کرتا ہے'۔ انہوں نے واضح کیا کہ مطالعے کے نتائج 'یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ٹائپ 1 کے ذیابیطس کے ساتھ دل اور شریانوں کے مسائل کا خطرہ ٹائپ 2 کے ذیابیطس کے مقابلے میں کافی کم ہے، یہاں تک کہ مختلف مداخلتی عوامل جیسے عمر، ذیابیطس کا کنٹرول اور گردوں کی فعالیت کو مدنظر رکھنے کے بعد بھی"۔