الجزائر میں مخلوط شادیوں پر نئی بحث شروع … کیا برسوں سے جاری نظام خاتمے کے قریب؟

ایک وکیل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الجزائر میں مخلوط شادیوں کے معاملات "قانونی اور سماجی لحاظ سے پیچیدہ ترین مسائل میں شمار ہوتے ہیں"۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

کئی الجزائری شہری سخت انتظامی پیچیدگیوں کا شکار ہیں، جو انہیں اپنی شادی کے قانونی مراحل مکمل کرنے سے محروم کر دیتی ہیں۔ نتیجتاً، بعض افراد یا تو رشتہ ازدواج سے دستبردار ہو جاتے ہیں، یا صرف شرعی نکاح پر اکتفا کرتے ہیں اور قانونی شادی نہیں کرواتے، جس کے باعث بعد میں خود انہیں اور ان کے بچوں کو شناخت، وراثت اور دیگر قانونی معاملات میں سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

گذشتہ دہائی کے دوران الجزائر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے کھلنے اور ملک میں ہزاروں غیر ملکی مہاجرین کی آمد۔ چاہے وہ جنگ زدہ ممالک سے پناہ کی غرض سے آئے ہوں یا تعلیم و روزگار کے لیے۔ کے باعث مخلوط شادیوں کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

بہت سے الجزائری مرد و خواتین نے ایسے غیر ملکیوں سے شادیاں کیں، جو الجزائر میں مقیم یا عارضی طور پر مقیم تھے، مگر ان میں سے کئی جوڑوں کو اس وقت شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا، جب مہینوں بلکہ برسوں بعد بھی ان کی شادی کے سرکاری کاغذات مکمل نہ ہو سکے۔ اس تاخیر کے باعث نہ صرف وہ خود اپنی قانونی حیثیت واضح نہ کر سکے بلکہ ان کے بچے بھی سرکاری دستاویزات سے محروم رہ گئے۔

ایسے ہی ایک مثال نادیہ (33 سالہ) کی ہے، جس کی شادی ایک شامی مرد سے ہوئی ،جو کئی سال پہلے الجزائر آیا تھا۔ نادیہ کہتی ہیں: "شروع میں ہم نے معمول کے مطابق شادی کی قانونی کارروائیاں مکمل کرنے کی کوشش کی، اور ہم نے رہائش کی جگہ والی ضلعی حکومت سے شادی کا اجازت نامہ حاصل کرنے کے لیے درخواست دی، لیکن جب اس اجازت نامے کے حصول میں بہت تاخیر ہوئی تو ہم نے فیصلہ کیا کہ شرعی شرائط پر شادی کو ہی ترجیح دیں۔"

تاہم، اس اقدام سے جوڑے کے مسئلے کا حل نہیں نکلا: "ہمیں اجازت نامہ حاصل کرنے موقع بھی میسر نہیں آیا، لہٰذا ہم عدالت میں شادی کا اندراج کروانے کے لیے گئے، مگر عدالت نے ہمیں کہا کہ اجازت نامہ متعلقہ ضلعی حکام سے حاصل کریں۔ پھر ضلعی حکام نے ہمیں دوبارہ عدالت جانے کا کہا، اور یوں مسئلہ الجھتا چلا گیا۔"کئی مہینوں تک کاغذات جمع کرانے کے باوجود جوڑے کا مسئلہ حل نہ ہو سکا۔

ایسا ہی معاملہ 25 سالہ فاطمہ الزہراء کا بھی ہے، جو یہ جان کر شدید مایوس ہوئی کہ الجزائر میں فلسطینی سفارت خانے کی جانب سے پہلے جس طرح ان کے اور ان کے منگیتر کے درمیان شادی کی رجسٹریشن کی جاتی تھی، وہ اب ممکن نہیں رہا۔ اب شادی کے لیے قانونی دستاویز صرف ضلعی حکام سے حاصل ہونے والا اجازت نامہ ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔ فاطمہ کا کہنا ہے: "اس نئی پیچیدگی کی وجہ سے مجھے اپنی شادی مؤخر کرنی پڑی، اور میرا منگیتر بھی اپنے کام کے دباؤ کی وجہ سے طویل عرصہ الجزائر میں نہیں رہ سکتا۔"

ایک نائب پارلیمانی نے مخلوط شادیوں کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے وزیرِ انصاف الجزائر لطفي بوجمعۃ کو تحریری سوالنامہ بھیجا۔

اس کے جواب میں وزیرِ انصاف نے واضح کیا کہ "الجزائری خواتین کی غیر ملکیوں سے شادی بغیر انتظامی اجازت نامہ کے قانونی طور پر عدالت میں تسلیم نہیں کی جاتی، جب تک تمام قانونی شرائط پوری نہ ہوں، جن میں سب سے اہم ضلعی حکام سے حاصل شدہ اجازت نامہ شامل ہے۔"وزیر نے مزید کہا کہ "خاندانی امور کے ججز جب ایسے معاملات میں فیصلہ کرتے ہیں ،جن میں شادی کا ثبوت دیا جاتا ہے اور ایک فریق غیر ملکی ہو، تو انہیں شادی کے تمام قانونی شرائط کی مکمل جانچ پڑتال کرنی ہوتی ہے۔"انہوں نے زور دیا کہ "ہر غیر ملکی جو الجزائری خاتون سے شادی کرنا چاہتا ہے، اسے جمہوریہ کے قوانین کی پابندی کرتے ہوئے ضروری اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا، اور ایسے مقدمات میں فیصلہ کرنے کا حتمی اختیار ججز کے پاس ہوتا ہے۔"

انتظامی اجازت نامے کی عدم منظوری، مخلوط شادیوں کے منصوبوں میں رکاوٹ

الجزائر کی عدالت میں وکیل فرید صابری نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ "خاندانی قانون نمبر 84-11، جو 9 جون 1984 کو نافذ ہوا، کی دفعہ 22 کے تحت شادی کا ثبوت شہری رجسٹری کے نکالے گئے سرٹیفکیٹ سے دیا جاتا ہے، اور اگر شادی رجسٹر نہ ہو تو اسے عدالت کے حکم سے ثابت کیا جاتا ہے۔"

انہوں نے مزید بتایا کہ "خاندانی قانون کی دفعہ 9 اور 9 مکرر میں عام طور پر نکاح کے عقد کے ارکان اور شرائط کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ اسی قانون کی دفعہ 31 کے تحت الجزائری مرد و خواتین کے غیر ملکیوں سے شادی کو خصوصی ضوابط کے تابع کیا گیا ہے۔ ان ضوابط میں وزارت داخلہ کی جانب سے 11 فروری 1980 کو جاری کردہ وزیر اعظم کا ہدایت نامہ نمبر 2 اور 5 نومبر 2019 کو اس میں ترمیم شدہ ہدایت نامہ نمبر نو [9] شامل ہیں، جن کے تحت غیر ملکی جو الجزائری مرد یا خواتین سے شادی کرنا چاہتے ہیں، انہیں شادی کی اجازت نامہ حاصل کرنا لازمی ہے جو متعلقہ ریاستی انتظامیہ جاری کرتی ہے۔"

لیکن وکیل صابری کے مطابق، "مخلوط شادی کے معاملات قانونی اور سماجی اعتبار سے پیچیدہ مسائل میں شمار ہوتے ہیں، کیونکہ متعلقہ ریاستی ادارے شادی کی پیشگی اجازت نامے کی درخواست کو اکثر مسترد کر دیتے ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "نتیجتاً، شادی کرنے والے افراد کو مجبورا رسم و رواج سے ہٹ کر غیر رسمی شادی کرنی پڑتی ہے، حالانکہ یہ وقتی حل بھی خاندانی عدالتوں میں شادی کی قانونی شناخت کے لیے قبول نہیں کیا جاتا، کیونکہ عدالت اجازت نامے کی عدم موجودگی کو شادی کے لازمی ارکان میں سے ایک کی کمی قرار دیتی ہے۔"

صابری کے مطابق، یہ صورتحال اکثر "دونوں فریقین، خاص طور پر الجزائری شریک حیات کے حقوق کی پامالی کا باعث بنتی ہے۔ چونکہ ایسے کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے نتیجے میں قانونی اور انسانی سطح پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ زیادہ لچکدار قانونی طریقہ کار وضع کیے جائیں جو خاندانوں کے مفادات کا تحفظ کریں اور معاشرتی حقائق اور تبدیلیوں سے مطابقت رکھیں۔ اس کے علاوہ، متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ مخلوط شادی کی شرائط کا ازسرنو جائزہ لیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size