العربیہ خصوصی رپورٹ

برطانیہ کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا کیا مطلب ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 9 منٹ

برطانیہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیل نے غزہ میں مصائب و مشکلات کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے اور دیگر شرائط پوری نہ کیں تو وہ فلسطینی ریاست کو ماہ ستمبر میں باضابطہ طور پر تسلیم کر سکتا ہے۔

وزیر اعظم کیر سٹارمر نے کیا کہا؟

برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر نے کہا اگر اسرائیل مخصوص شرائط کو تسلیم نہیں کرتا تو برطانیہ ماہ ستمبر میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں فلسطین کو تسلیم کرنے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

شرائط یہ ہیں:

اسرائیل اور فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے درمیان جنگ بندی

واضح طور پر اس امر کا اعلان کرنا کہ مغربی کنارے کا اسرائیل اپنے ساتھ الحاق نہیں کرے گا۔

طویل امن عمل کے لیے وعدہ کرے گا جس کے نتیجے میں دو ریاستی حل ممکن ہوگا اور فلسطینی ریاست اسرائیلی ریاست کے ساتھ امن کے ساتھ رہ سکے گی۔

کیر سٹارمر نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان کوئی مماثلت نہیں ہے ۔ تاہم ہمارے حماس سے بھی یہ مطالبات ہوں گے کہ وہ تمام قیدیوں کو رہا کرے گا، جنگ بندی کرے گا اور وہ وعدہ کرے گا کہ جنگ کے بعد بننے والی حکومت میں کوئی کردار ادا نہیں کرے گا اور خود کو غیر مسلح کرے گا۔

کیر سٹارمر نے یہ کیوں کیا؟

برطانوی حکومت بار بار یہ کہہ چکی ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کو مناسب وقت پر تسلیم کر لے گی خصوصا ایسے وقت میں جب ایسا کرنا دو ریاستی حل کے لیے مؤثر ہوگا۔

منگل سے پہلے برطانوی حکومت کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ وہ غزہ میں زمینی حالات کو بہتر بنانے اور اس جنگ میں گھرے ہوئے شہریوں کو بچانے کے لیے زیادہ توجہ رکھتی ہے۔

لیکن کیر سٹارمر نے وقت کے ساتھ ساتھ غزہ میں جاری بھوک اور تباہی کے بارے میں زیادہ بے باکانہ انداز اختیار کیا کیونکہ انہیں اپنی لیبر پارٹی کے ہاں سے بھی قانون سازوں کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

برطانیہ یہ امید کرتا ہے کہ اس کی یہ کوشش اسرائیل کے رویے پر عملی طور پر اثر انداز ہوگی۔ ابتدائی طور پر غزہ میں امدادی سامان اور خوراک کی فراہمی کا بہاؤ بہتر ہوگا اور بعد ازاں دو ریاستی حل کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔

عملی طور پر اس کا کیا مطلب ہوگا؟

یونیورسٹی کالج لندن کے ایسوسی ایٹ پروفیسر جیولی نارمن نے کہا برطانیہ کی اس کوشش کا سفارتی و اخلاقی اعتبار سے کافی وزن ہوگا۔ اگرچہ یہ زیادہ تر علامتی کوشش پر ہے۔ جیولی مشرق وسطیٰ کی سیاست کے ماہرین میں شامل ہیں۔

ایک اور فوری اثر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ سفارتی تعلقات کی سطح بلند ہو۔ یہ خیال برطانیہ کے حکام بھی ظاہر کرتے ہیں۔

اس وقت تک برطانیہ میں ایک فلسطینی مشن کام کر رہا ہے۔ لیکن فلسطین کو تسلیم کر لینے کے بعد اس امر کا امکان ہوگا کہ برطانیہ میں فلسطین کا سفارتخانہ باقاعدہ طور پر اپنا کام شروع کر دے۔

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ بھی وقت کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں اپنا سفارتخانہ کھولے گا جہاں مغربی ملکوں کی حمایت کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی اپنے محدود دائرہ اختیار کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ تاہم مغربی کنارا اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہے۔

فلسطینی اتھارٹی مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا حصہ بنانے کی کوشش میں ہے۔ جبکہ حماس نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے اور 1988 میں اس کی تشکیل کے وقت آنے والے چارٹر میں اسرائیل کے خاتمے کی بات کی گئی ہے۔

یروشلم میں برطانیہ کی سابق قونصل جنرل ونسنٹ فین کا کہنا ہے برطانیہ کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ برطانوی حکومت اسرائیل کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو نئے سرے سے دیکھے۔ اس طرح ہو سکتا ہے کہ برطانیہ اپنے ہاں اسرائیل میں قائم یہودی بستیوں سے متعلق مصنوعات کا بائیکاٹ کرے۔

اگرچہ یہ اقدام اسرائیلی معیشت پر کچھ ایسا اثر مرتب کرنے والا نہیں ہوگا کہ ان مصنوعات کا اسرائیلی معیشت میں دخل محض ایک رائی کے دانے کے برابر ہوگا۔

جن اثرات کا ابھی اندازہ نہیں ہے وہ مستقبل میں برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان انٹیلی جنس اور سیکیورٹی سے متعلق اثرات کے حوالے سے ہے۔ نیز برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان دفاع سے متعلق اسلحہ و پرزہ جات کی فراہمی کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہوگا۔تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ اس سلسلے میں کیا اثرات ممکن ہو سکتے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر کے اس بیان پر اسرائیل کا ردعمل فوری اور غصیلہ تھا۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا یہ 2023 میں اسرائیل پر حملہ کرنے والے حماس کے لیے ایک بڑا انعام ہے۔

اس پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں برطانوی وزیر ٹرانسپورٹ الگزینڈر نے کہا یہ طرز عمل برطانوی منصوبہ کے لیے مناسب نہیں ہے۔

یاد رہے برطانوی وزیر ٹرانسپورٹ الیگزینڈر کو حکومت نے بدھ کے روز اس سلسلے میں مقرر کیا تھا کہ وہ مختلف اطراف سے آنے والے سوالوں اور میڈیا کو اس بارے میں جواب دیں۔

برطانوی وزیر نے کہا کہ حماس کے لیے انعام نہیں ہے کیونکہ حماس ایک باقاعدہ دہشت گرد تنظیم ہے اور اس نے بہت سے مظالم کیے ہیں۔ برطانیہ کا فیصلہ فلسطینیوں کے حوالے سے ہے جن کے بچوں کو ہم نے غزہ میں دیکھا ہے جو غزہ میں بھوک سے مر رہے ہیں۔

برطانوی فیصلے سے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر کیا اثر آئے گا؟

برطانوی وزیر اعظم کی کوشش رہی ہے کہ صدر ٹرمپ کے ساتھ بہت گرمجوشی پر مبنی تعلقات قائم رکھیں۔ دونوں لیڈر پیر کے روز سکاٹ لینڈ میں بھی مل چکے ہیں۔ تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ کیر سٹارمر نے ملاقات کے دوران اپنے اس منصوبے کے بارے میں ذکر نہیں کیا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ انہوں نے اس کا برا نہیں مانا کہ سٹارمر فلسطینی ریاست کے بارے میں ایک مؤقف رکھتے ہیں۔ تاہم ٹرمپ نے یہ ضرور کہا ہے کہ فلسطین کو تسلیم کرنا حماس کو انعام دینے کے مترادف ہوگا۔

اور کون سے ملک فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں؟

سٹارمر کے اس اعلان کا فرانس نے خیر مقدم کیا ہے کہ یہ اعلان فرانس کے صدر میکروں کے اس اعلان کے محض چند دن بعد سامنے آیا ہے کہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فرانس فلسطین کو جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں تسلیم کر لے گا۔

اس سے پہلے پچھلے سال آئرلینڈ ، ناروے اور سپین نے ماہ مئی میں عملی اقدام اٹھاتے ہوئے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا تھا۔ تاہم ان ملکوں نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اس سے اسرائیل کے حق وجود اور سلامتی کو چیلنج نہیں ہوگا۔

اب تک اقوام متحدہ کے 193 ملکوں میں سے 144 فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق گلوبل ساؤتھ سے ہے جن میں روس، چین اور بھارت بھی شامل ہیں۔ تاہم یورپی یونین کے 27 ملکوں نے ابھی یہ تسلیم کرنا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے نومبر 2012 میں فلسطینی ریاست کی اقوام متحدہ میں نمائندگی کو اپ گریڈ کیا تھا اور اسے مبصر کی حیثیت سے بڑھا کر 'نان ممبر ریاست' کا درجہ دیا تھا۔

فلسطینی ریاست کو آئندہ تسلیم کرنے والے ملک کون سے ہو سکتے ہیں؟

کیر سٹارمر کے اس فیصلے کے بعد کئی دوسرے بڑے ملکوں پر بھی دباؤ آنے والا ہے جن میں جرمنی، آسٹریلیا، کینیڈا اور جاپان شامل ہو سکتے ہیں کہ انہیں بھی یہی راستہ اختیار کرنا ہو گا۔

جرمنی نے جمعہ کے روز کہا 'وہ مستقبل قریب میں فلسطین کو تسلیم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ جبکہ اٹلی کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ ضروری ہے کہ نئی فلسطینی ریاست اسرائیل کو بھی تسلیم کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں