سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ہونے والے اہم ترین دفاعی معاہدے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے "کہ سعودی عرب اور پاکستان جارح کے مقابل ایک ہی صف میں کھڑے ہیں، ہمیشہ اور ابد تک۔"
شہزادہ خالد بن سلمان نے سعودی عرب پاکستان دفاعی معاہدے بارے سوشل میڈیا پر بیان اردو زبان میں جاری کیا ہے۔ جس میں انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان جارح کے مقابل ایک ہی صف میں، ہمیشہ اور ابد تک۔ سعودی حکام اس معاہدے کو ایک ایسا جامع دفاع معاہدہ قرار دے رہے ہیں جس میں تمام فوجی شعبے شامل ہوں گے۔
سعودیہ اور پاکستان۔۔
— Khalid bin Salman خالد بن سلمان (@kbsalsaud) September 17, 2025
جارح کے مقابل ایک ہی صف میں۔۔
ہمیشہ اور ابد تک۔🇵🇰🇸🇦 https://t.co/3oBMFEU1G5
معاہدے سے متعلق بھارتی ردعمل
ادھر دوسری جانب پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون سے متعلق فقید المثال سٹرٹیجک معاہدے سے متعلق بھارت نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ نئی دہلی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معائدے کے اثرات کا جائزہ لے گا۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ایک بیان میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نئے سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اس کے ممکنہ اثرات کا بغور جائزہ لے گی اور قومی سلامتی کو ہر حال میں مقدم رکھے گی۔
باكستان زنده باد 💪🏻
— 📟GOالشمري 🇸🇦 (@Go28540674) September 17, 2025
🇸🇦❤️🇵🇰 pic.twitter.com/2P4znsL3Xg
"ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان سٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کی رپورٹس دیکھی ہیں۔ حکومت اس پیش رفت سے باخبر تھی جو دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے زیرِ غور تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاہدے کے اثرات کا مطالعہ کریں گے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ یہ ہماری قومی سلامتی، خطے اور عالمی استحکام پر کس طرح اثر انداز ہو گا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ حکومت قومی مفادات کے تحفظ اور ہر سطح پر جامع سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان یہ معاہدہ عالمی سطح پر اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ مسلم دنیا کے دو بڑے ممالک کے درمیان پہلی بار اس نوعیت کا دفاعی معاہدہ ہے۔
معاہدے کے تحت اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ملکوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، جو کہ ان کے دفاعی تعلقات کو نئی جہت دے گا۔ اس معاہدے کا مقصد سعودی عرب اور پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو مستحکم کرنا ہے۔
پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کشیدہ ہیں اور دونوں ملکوں کے درمیان جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔
رواں سال 22 اپریل کو انڈیا نے اپنے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کا الزام اسلام آباد پر عائد کرتے ہوئے چھ اور سات مئی کی درمیانی شب ’آپریشن سندور‘ کے نام سے پاکستان کے مختلف مقامات پر حملے کیے تھے۔
پاکستان پہلگام حملے میں ملوث ہونے کے انڈین الزام کی تردید کرتا ہے۔
پاکستان میں انڈیا کے حملوں کے بعد، دونوں فریقوں کے درمیان لائن آف کنٹرول پر شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے بعد ایک دوسرے کے علاقوں میں میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے، جن میں بنیادی طور پر فوجی تنصیبات اور ایئر بیسز کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ انڈیا کے تین فرانسیسی رفال لڑاکا طیاروں سمیت چھ جنگی طیارے مار گرائے گئے۔ انڈیا کے عسکری حکام بھی اس جنگ میں ہونے والے اپنے ’نقصان‘ کا اعتراف کر چکے ہیں۔