تا دیر سکرین دیکھنے سے جلد پر بڑھاپے کے آثار تیزی سے نمایاں ہوتے ہیں!

نیند کے وقت لیٹنے کا انداز اور گردن کی دیکھ بھال سے اھمال جلد کو نقصان پہنچاتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

کچھ روزمرہ عادات انجانے میں جلد پر بڑھاپے کے اثرات کو نمایاں کرتی ہیں۔ ان میں غیر صحت مند زاویے میں سونے کا انداز، لمبی مدت تک سکرینز دیکھنا، میک اپ کو جلدی اتارنا ایسی عادات ہیں کو جلد کو نقصان پہنچاتی ہیں اور سکن پر اس کے تیزی سے پڑنے والے اثرات بڑھاپے کے عمل کو تیز کرتے ہیں۔

وٹامن C سے بھرپور سیرمز اور ریٹینول والی سونے سے پہلے استعمال کی جانے والی کریم جلد پر ابتدائی بڑھاپے کی علامات کو مؤثر طریقے سے روکنے کے لیے مفید ہیں۔ لیکن اگر ان کا استعمال روزمرہ عادات کے ساتھ ہو جو جلد پر لکیریں اور جھریاں جلد ظاہر کرنے کا سبب بنتی ہیں، تو ان کے زیادہ تر فوائد ضائع ہو جاتے ہیں۔

کچھ ایسی عادات جنھیں ہم مسلسل دہرائیں تو جلد پر اپنی نشانیاں چھوڑ دیتی ہیں، جیسے کہ لکیریں، جھریاں اور جلد کی ڈھیلاپن، اور یہ علامات کبھی کبھار بہت جلد نمودار ہو جاتی ہیں۔

آئیے جانتے ہیں، ان چار عادات سے متعلق جو جلد کے بڑھاپے کو تیز کرتی ہیں اور دریافت کریں آسان اقدامات جو اس شعبے میں جلد کی حفاظت کے لیے اپنائے جا سکتے ہیں۔"

آپ کے پیٹ اور پہلو پر سونا - فری بیک
آپ کے پیٹ اور پہلو پر سونا - فری بیک

پیٹ یا پہلو کے بل سونا

یہ نیند کے لیے آرام دہ پوزیشنز ہیں، لیکن یہ جلد کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، کیونکہ تکیے کا دباؤ چہرے پر آنکھوں، گالوں اور ٹھوڑی کے اطراف پر ابتدائی لکیروں اور جھریوں کے ظاہر ہونے کو تیز کر دیتا ہے۔

یہ عادات اگر مسلسل اپنائی جائیں تو عارضی نشانیاں مستقل جھریوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں کیونکہ جلد بتدریج اپنی تازگی اور لچک بحال کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ حتیٰ کہ ریشمی تکیے بھی اس رات کے دباؤ کو مکمل طور پر روکنے کے قابل نہیں، اگرچہ یہ دباؤ کم کرتے ہیں۔ اس لیے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ پیٹھ کے بل سونا چاہیے اور تکیے کا غلاف نرم کپڑے جیسے ریشم یا ساٹن کا انتخاب کریں، کیونکہ یہ کپڑے اور جلد کے درمیان رگڑ کم کرتے ہیں اور جلد کی لچک کو برقرار رکھتے ہیں۔

گردن کی دیکھ بھال کو نظرانداز کرنا - فری بیک
گردن کی دیکھ بھال کو نظرانداز کرنا - فری بیک

تادیر سکرینز پر نظر جمائے رکھنا

آج کے دور کا انسان اکثر غیر مناسب روشنی میں زیادہ تر وقت کمپیوٹر،سمارٹ فون اور ٹیبلٹ جیسی ڈیوائسز کی سکرینز کے سامنے گزارتا ہے، یہ سب ہمیں زیادہ دیر تک سکرینز پر نظر جمانے اور بہتر ویژن کے لیے آنکھوں کی عضلات کو بار بار تناو دینا پڑتا ہے۔

یہ عمل ماتھے اور آنکھوں کے کونوں پر جھریوں کو گہرا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، سکرینز سے نکلنے والی نیلی روشنی سے بھی ہماری آنکھیں متاثر ہوتی ہیں، جو آکسیڈیٹیو دباؤ پیدا کرتی ہے اور متعدد سٹڈیز کے مطابق یہ خلیات کی بڑھاپے کی رفتار کو تیز کر سکتی ہے۔

آنکھوں کے گرد کے حصے کی حفاظت کرنی چاہیے جو چہرے کے سب سے نازک اور کمزور حصے میں شمار ہوتا ہے، مشورہ دیا جاتا ہے کہ سکرین کی روشنی کی شدت کو مناسب رکھیں، آرام دہ برقی روشنی کا انتخاب کریں، اور ایسی عینک استعمال کریں جو نیلی روشنی سے بچاؤ فراہم کرتی ہوں۔

آنکھیں رگڑنا - فری بیک
آنکھیں رگڑنا - فری بیک

گردن اور سینے کے اوپر کا حصہ

عام طور پر چہرے کی دیکھ بھال ٹھوڑی تک محدود رہ جاتی ہے، اور ہم میں سے بہت سے لوگ گردن اور سینے کے اوپری حصے کو بھول جاتے ہیں، جو آلودگی، خشکی اور سورج کی روشنی سے اتنے ہی متاثر ہوتے ہیں کیونکہ یہ چہرے کی جلد سے زیادہ نازک ہوتے ہیں۔

ان حصوں کی نازک جلد میں تیل پیدا کرنے والے غدود کم ہوتے ہیں، اس لیے اس پر لکیریں اور جھریاں جلدی نمودار ہوتی ہیں، اور یہ مضبوطی کھو دیتی ہے اور چہرے سے پہلے ہی اس پر سیاہ دھبے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔

اس لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ چہرے کی دیکھ بھال کی مصنوعات کو گردن اور سینے کے اوپری حصے پر بھی استعمال کیا جائے، جنہیں صاف کرنے، نمی دینے، غذائیت فراہم کرنے اور سورج سے بچاؤ کے اقدامات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

آنکھوں کے گرد جلد کی مضبوطی

آنکھوں کے گرد کا حصہ میک اپ ہٹاتے وقت بار بار رگڑ نے سے متاثر ہوتا ہے اور اکثر اس پر جلدی جلدی دیکھ بھال کی مصنوعات لگائی جاتی ہیں۔

لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ چہرے کی باقی جلد کے مقابلے میں چار گنا زیادہ نازک ہے اور کولیجن کی مقدار کم رکھتا ہے، اس لیے اچانک حرکتیں اس کے حمایتی ریشوں کو توڑ دیتی ہیں اور اس پر جھریاں اور باریک لکیریں جلدی نمودار ہونے لگتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size