40 سالہ خواتین کے لیے پانچ ضروری وٹامنز اور معدنیات کون سی ہیں؟
چالیس سال کی عمر کے بعد خواتین ہارمونی اور جسمانی تبدیلیوں کا مشاہدہ کرنے لگتی ہیں جو ان کی توانائی، ہڈیوں کی صحت، جلد اور مزاج پر اثر ڈال سکتی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ کئی خواتین غذائی سپلیمنٹس کا استعمال شروع کر دیتی ہیں۔ تاہم ماہرین غذا اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وٹامنز کوئی جادوی علاج نہیں، بلکہ ایک صحت مند اور متوازن طرزِ زندگی کے ضمن میں مددگار آلہ ہیں۔
برطانوی اخبار "دی گارجیئن" میں شائع رپورٹ میں مختلف اسڈیز کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ درمیانی عمر میں کچھ مخصوص وٹامنز اور معدنیات خواتین کے لیے زیادہ اہمیت اختیار کر لیتے ہیں، جبکہ بغیر طبی نگرانی کے سپلیمنٹس کا زیادہ استعمال منفی نتائج بھی دے سکتا ہے۔
ذیل میں درج وٹامنز اور معدنیات ان میں شامل ہیں:
وٹامن ڈی: ہڈیوں اور مدافعتی نظام کا دوست
چالیس سال کی عمر کے بعد وٹامن ڈی ہڈیوں اور مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سورج کی روشنی کم حاصل ہونے اور جدید طرزِ زندگی کے پیش نظر، ماہرین طبی مشورے کے مطابق اس کی سطح کا باقاعدہ معائنہ اور ضرورت پڑنے پر معتدل مقدار میں سپلیمنٹس لینے کی تجویز دیتے ہیں۔ وٹامن ڈی کیلشیم کے جذب میں بھی مدد دیتا ہے اور پٹھوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کیلشیم اور مگنیشیم
کیلشیم کو بھی ضروری سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ماہرین کے مطابق یہ ہڈیوں کی کمزوری (آسٹیوپینیا/ہڈیوں کی نرمی) سے بچاؤ کے لیے اہم ہے۔
جبکہ "مگنیشیم" کیلشیم کے جذب، بلڈ پریشر کے انتظام اور بہتر نیند میں مدد دیتا ہے۔ ماہرین سپلیمنٹس کے استعمال سے پہلے اسے قدرتی غذاؤں جیسے دودھ کی مصنوعات، سبز پتوں والی سبزیاں اور خشک میوہ جات سے حاصل کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔
وٹامن بی 12
عمر کے بڑھنے کے ساتھ جسم کی خوراک سے وٹامن بی 12جذب کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، جس سے تھکن، یادداشت یا توجہ میں کمزوری ہو سکتی ہے۔ ماہرین خاص طور پر نباتیات اور وہ خواتین جو کم حیوانی پروٹین والی غذائیں استعمال کرتی ہیں، کے لیے اس کی سطح کا باقاعدہ معائنہ کرنے کی تجویز دیتے ہیں۔
اومیگا-3: دماغ اور مزاج کی حمایت کے لیے
اس کے علاوہ اومیگا-3 فیٹی ایسڈز ہارمونل تبدیلیوں کے مرحلے میں دل اور دماغ کی صحت برقرار رکھنے اور مزاج کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ایسڈز وافر مقدار میں چکنائی والی مچھلیوں جیسے سالمون، سارڈین اور میکریل میں پائے جاتے ہیں، اور نباتاتی افراد کے لیے سمندری کائی سے حاصل کردہ سپلیمنٹس بھی دستیاب ہیں۔
توازن ہی شاہ کلید
اگرچہ یہ وٹامنز اور معدنیات اہم ہیں، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ سپلیمنٹس کی مبالغہ آرز تشہیر پر اندھا دھند بھروسہ نہ کیا جائے۔ متوازن غذا، مناسب نیند اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی ہی حقیقی صحت کی ضمانت ہیں۔
اسی حوالے سے برطانوی ماہر غذائیت سارہ شینکمان نے کہا کہ وٹامنز غذا کی تکمیل کرتے ہیں لیکن اس کا متبادل نہیں ہیں۔ توازن درمیانی عمر میں فلاح و بہبود کی بنیاد ہے… اور زیادہ گولیاں لینے میں نہیں۔
ماہرین نے اس کے علاوہ خبردار کیا ہے کہ بغیر طبی مشورے کے ایک ساتھ ایک سے زیادہ سپلیمنٹس کا استعمال نہ کیا جائے، کیونکہ وٹامنز جیسے "ڈی"، "اے" یا آئرن کی زیادہ مقدار فائدے کی بجائے نقصان پہنچا سکتی ہے۔
آخر میں چالیس سال کے بعد خواتین کے لیے سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ وہ اپنے جسم کی آواز سنیں، باقاعدہ طبی معائنے کروائیں، اور ایک متوازن اور متنوع غذا اپنائیں جو اندر سے صحت کو فروغ دے، اس سے پہلے کہ سپلیمنٹس کا سہارا لیا جائے۔
-
ڈاکٹروں نے حد سے زیادہ غسل کے شوقین کو خبردار کر دیا!
سوشل میڈیا پر غسل کے پرتعیش طریقوں اور ٹرینڈز کی ویڈیوز کے سیلاب کے جلو میں ...
ایڈیٹر کی پسند -
گہری اور پرسکون نیند کے لیے یہ تین بہترین پھل خوراک کا حصہ بنائیں
اگر آپ بھی بے خوابی کا شکار ہیں تو شاید اب آپ کو نیند کی گولیاں یا گرم دودھ کے ...
بين الاقوامى -
مؤثر تیز مطالعے کے لیے 7 اہم نکات ... نئی تحقیق
یہ سات نکات مواد کو مؤثر طریقے سے پڑھنے میں مدد دیتے ہیں اور اہم معلومات برقرار ...
ایڈیٹر کی پسند