کیلشیم اور آئرن سمیت پانچ غذائی سپلیمنٹس کو کافی کے ساتھ لینا مناسب نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 6 منٹ

غذائی سپلیمنٹس اور وٹامنز کا ایک ساتھ استعمال کبھی کبھار ضروری ہوتا ہے تاہم کافی کے ساتھ ان کی خوراک کے استعمال سے ہمیشہ گریز کرنا چاہئے۔

"ویری ویل ہیلتھ" ویب گاہ کی ایک رپورٹ کے مطابق کچھ غذائی سپلیمنٹس کیفین کے ساتھ بآسانی تحلیل نہیں ہوتے جس کی بنا پر وہ کما حقہ جزو بدن نہیں بن پاتے۔ ایسے سپلیمنٹس کی مثالیں ذیل میں درج کی جا رہی ہیں:

1. آئرن

آئرن خون میں آکسیجن پہنچانے اور خلیوں کو اپنا کام انجام دینے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ کسی شخص میں آئرن کی کمی کی صورت میں اسے آئرن سپلیمنٹ لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔

مختلف سٹڈیز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ آئرن سپلیمنٹ اور کافی کے بیک وقت استعمال سے آئرن کے جزو بدن بننے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ کافی میں موجود ٹینن اور پولی فینولز آئرن کو جکڑ سکتے ہیں جس سے ان کا جزو بدن بننا مشکل ہو جاتا ہے۔

تاہم یہ بات یاد رکھنے کی ہےکہ کافی کا آئرن کو تحلیل کرنے کا انحصار اس بات پر ہے کہ کسی نے آئرن سپلیمنٹ کی خوراک لینے سے کتنی دیر قبل کافی استعمال کی تھی۔

جسم میں آئرن کی کمی دور کرنے کے لئے اگر کوئی شخص آئرن سپلیمنٹ استعمال کرتا ہے تو انہیں اس بات کی سختی سے ہدایت کی جانی چاہئے وہ ایسا سپلیمنٹ کھانے کے دو گھنٹے بعد تک کافی پینے سے احتراز برتیں تاکہ سپلیمنٹ ان کا جزو بدن بن کر آئرن کی کمی کو دور کرنے میں معاون ہو سکے۔

پانی میں حل پذیر وٹامنز

کافی قدرے پیشاب آور ہوتی ہے، یعنی اس کے استعمال سے پیشاب کی حاجت بڑھ سکتی ہے جس کی وجہ کچھ غذائی اجزاء کے بذریعہ پیشان ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

اس سے پانی میں حل پذیر وٹامنز مثلا وٹامن B B1، B6، B7، B12 سمیت) اور وٹامن C کی افادیت کم ہو سکتی ہے۔

جسم ان وٹامنز کو ذخیرہ نہیں کرتا، اس لیے اضافی مقدار پیشاب کے راستے خارج ہو جاتی ہے۔ کافی پینے سے یہ عمل تیز ہو جاتا ہے، جس سے وٹامنز کے جزو بدن بننے کی صلاحیت کم ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے وٹامنز اور کافی کو مختلف اوقات میں استعمال کرنے کی تحویز دی جاتی ہے۔

وٹامن D اور کیلشیم

کافی وٹامن D اور کیلشیم کو جزو بدن بنانے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتی ہے، کیونکہ تحقیقات کے مطابق کیفین کی مقدار کا تعلق وٹامن D کی سطح میں کمی اور اضافے سے جڑا ہوا ہے۔ کافی وٹامن D اور کیلشیم کے سپلیمنٹس کے اثر میں درج ذیل طریقوں سے مداخلت کر سکتی ہے:

کافی وٹامن D کو اس طرح کم کرتی ہے کہ یہ جذب کے لیے ضروری ریسیپٹرز کی تعداد کو گھٹا دیتی ہے۔

وٹامن D کے ریسیپٹرز کیلشیم کے جذب اور ہڈیوں کی صحت کے لیے بھی ضروری ہیں۔

کافی کے پیشاب آور اثر سے کیلشیم پیشاب کے ساتھ ضائع ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

کافی کی مقدار کم کرنے یا اس میں کھانے کے ایک یا دو چمچ دودھ شامل کرنے سے منفی اثر کو کم کیا جا سکتا ہے۔

اعتدال میں کافی پینے سے ہڈیوں کی کثافت پر زیادہ منفی اثر نہیں پڑتا۔ تاہم وہ لوگ جو کیلشیم کی کمی یا ہڈیوں کی نازکی (osteoporosis) کے خطرے میں ہیں، انہیں احتیاط برتنی چاہیے۔ کیلشیم یا وٹامن D کے سپلیمنٹس کافی پینے کے وقت سے مختلف وقت پر لینا بہتر ہے۔

مگنیشیم اور زنک

کافی میں موجود پولی فینولز اور ٹیننز دیگر ضروری معدنیات جیسے مگنیشیم اور زنک، سے جڑ سکتے ہیں، جس سے ان کا جذب کم ہو جاتا ہے۔

نیز کافی کے پیشاب آور اثرات معدنیات کے پیشاب کے ذریعے ضائع ہونے کا امکان بڑھا سکتے ہیں۔ بہترین نتائج کے لیے مگنیشیم یا زنک کو کافی سے الگ وقت پر لینا تجویز کیا جاتا ہے۔

میلاٹونن

میلاٹونن ایک ہارمون ہے، جو جسم خود پیدا کرتا ہے اور حیاتیاتی گھڑی (باڈی کلاک) کو منظم کرتا ہے۔ یہ رات کے وقت اندھیرے کی موجودگی میں پیدا ہوتا ہے۔ میلاٹونن سپلیمنٹ کے طور پر بھی دستیاب ہے، جو بغیر نسخے کے لیا جا سکتا ہے اور نیند کو بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

ایک محرک کے طور پر کافی میلاٹونن کے اثر کے خلاف کام کرتی ہے کیونکہ یہ جاگنے کی حالت برقرار رکھتی ہے اور نیند کو مشکل بنا دیتی ہے، خاص طور پر اگر اسے سونے سے پہلے پیا جائے۔ میلاٹونن کے اثر میں مداخلت سے بچنے کے لیے، کافی اور میلاٹونن کے درمیان چند گھنٹے کا وقفہ رکھنا بہتر ہے۔ عام طور پر سونے سے کم از کم چھ گھنٹے قبل کیفین سے پرہیز کی سفارش کی جاتی ہے۔

کافی کے مضر اثرات سے بچنے کا طریقہ

کافی اور غذائی سپلیمنٹس کو باہم خط ملط ہونے سے بچانے کا راز وقت کے انتخاب میں مضمر ہے۔ وٹامنز یا روزانہ کے سپلیمنٹس کو کافی کے ساتھ ایک ساتھ لینے کے بجائے الگ وقت پر لینا بہتر ہے، ترجیحاً چند گھنٹے پہلے۔ اس طرح کافی کے مضر اثرات سے بچتے ہوئے سپلیمنٹس میں اس کی مداخلت کم کی جا سکتی ہے اور سپلیمنٹس کو بہترین طریقے سے جزو بدن بنایا جا سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں