دنیا بھر میں کیڑوں کی تعداد میں کمی ایک انسانی بحران کا خطرہ پیدا کر رہی ہے
لائف سائنس کے مطابق کیڑوں کی تعداد میں کمی عالمی خوراک کی فراہمی کو خطرے میں ڈال رہی ہے
دنیا بھر میں کیڑوں کی تعداد میں شدید کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جو عالمی خوراک کی فراہمی کے لیے ایک خطرناک مستقبل کی پیش گوئی کرتی ہے اور ماحولیاتی بحران پیدا کر سکتی ہے۔
یہ حقیقت اس عام تصور کے برعکس ہے کہ کیڑے صرف نقصان دہ اور پریشان کن ہیں۔"لائف سائنس" نامی سائنسی ویب سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، جس کا حوالہ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے دیا، دنیا بھر میں کیڑوں کی بڑی کمی انسانوں کے لیے ایک ممکنہ تباہی کی نوید ہے اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کر سکتی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری حل تلاش کرنا ضروری ہے۔
شیرل شولتز ماہر ماحولیات اور یونیورسٹی آف اسٹیٹ واشنگٹن کی سائنسدان ہیں،انھوں نے کہا: جب میں بچی تھی تو گرمیوں میں گاڑی سے باہر جاتی اور واپس آتی تو دیکھتی کہ گاڑی کی فرنٹ ونڈشیلڈ کیڑوں سے بھری ہوتی ہے، لیکن اب آپ سال بھر میں کئی علاقوں میں سفر کر تے ہیں تو آپ کی گاڑی کی فرنٹ ونڈشیلڈ بالکل صاف رہتی ہے۔
یہ منظر جسے ''فرنٹ ونڈشیلڈ ٹیسٹ'' کہا جاتا ہے، ایک وسیع اور زیادہ تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے: کیڑے، خاص طور پر وہ جو فصلوں کی پولی نیشن کرتے ہیں، شدید کمی کا شکار ہیں۔
لائف سائنس کی رپورٹ کے مطابق اس شدید کمی سے دنیا بھر کے ماحولیاتی نظام متاثر ہو رہے ہیں اور عالمی خوراک کی فراہمی خطرے میں پڑ سکتی ہے، لیکن پچھلی تین دہائیوں میں کیڑوں کی تعداد میں کمی کو ٹریک کرنا بہت مشکل ثابت ہوا ہے اور اس کمی کو روکنا شاید اور بھی زیادہ مشکل ہو۔
دنیا کے تقریباً ہر علاقے میں جہاں سائنسدانوں نے تحقیق کی، کیڑوں کی کل تعداد اور انواع کی تعداد میں دہائیوں سے مسلسل کمی دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ سے محققین نے اسے کیڑوں کا خاتمہ قرار دیا ہے۔
2021میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق عالمی سطح پر شہد کی مکھیوں کے حیاتیاتی تنوع میں 1995 سے تقریباً 25فیصدکمی آئی ہے۔
2025 میں کیے گئے ایک جامع مطالعے نے ظاہر کیا کہ پچھلے بیس سالوں میں امریکہ میں تتلیوں کی تعداد میں 22فیصدکمی ہوئی ہے۔
جرمنی میں ایک تحقیق میں 27 سالوں میں کچھ جنگلاتی علاقوں میں اڑنے والے کیڑوں کی تعداد میں 76فیصدکمی پائی گئی۔
اسکات بلیک ایگزیکٹو ڈائریکٹر زیرسِس غیر منافع بخش تنظیم برائے لا فقاریات کے تحفظ نے کہا: یہ واقعی تشویشناک ہے۔
ماہرین عام طور پر کیڑوں کی کمی کی وجہ جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پہلی بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ زمین کےدرجہ حرارت میں اضافہ ہونے کے ساتھ، کیڑوں کی اہم میزبانی کرنے والی نباتات ہر سال پہلے کھلنے لگتی ہیں، جس سے بعض انواع کے حیاتیاتی چکروں میں عدم ہم آہنگی پیدا ہو سکتی ہے اور نئے پیدا ہونے والے یا ترقی پانے والے کیڑے اپنے کھانے کے وسائل کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہتے۔شدید گرمی، کم برف کا ڈھکن، شدید طوفان اور شدید خشک سالی بھی پہلے مضبوط کیڑوں کی تعداد کو کمزور کر سکتے ہیں۔
اسی دوران معتدل سردیوں والے موسم کچھ قابل تطبیق نقصان دہ کیڑوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں، جو حساس کیڑوں پر حاوی ہو کر بعض علاقوں میں ماحولیاتی اور زرعی نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔
لائف سائنس کی رپورٹ کے مطابق دوسری اہم وجہ مسلسل شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی اور مضافاتی علاقوں میں چراگاہوں کا خشک ہونا ہے، جس سے کیڑوں کے کم متنوع گروہ بسنے پر مجبور ہیں۔
انسانی سرگرمیوں کے باعث کیڑوں کے مسکن متاثر ہو رہے ہیں، جس سے زمین کی مکھیوں جیسے کیڑے اپنے گھونسلے بنانے، بچوں کی پرورش کرنے اور سردیوں میں زندہ رہنے کی جگہ سے محروم ہو جاتے ہیں اور اس طرح ان کی تعداد میں کمی آتی ہے۔
تیسری اہم وجہ کیڑے مار ادویات ہیں، جو جنگلی شہد کی مکھیوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں اور اب بھی امریکہ اور دیگر صنعتی ممالک میں استعمال کی جاتی ہیں، جن میں کینیڈا اور آسٹریلیا کے کچھ حصے شامل ہیں۔
رویل فان کلنک جرمن سینٹر فار انٹیگریٹیو بایو ڈائیورسٹی کے محقق نے کہا: ہم جو دیکھ رہے ہیں وہ انتہائی تیز ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: وہ انواع جو 50 یا 100 سال پہلے کے حالات کے مطابق ڈھل چکی تھیں، اب موجودہ حالات کے مطابق ڈھل نہیں پاتیں اور اس وجہ سے ان کی تعداد کم ہو رہی ہے۔
سائنسدان کہتے ہیں کہ کیڑوں کا غائب ہونا عالمی خوراک کے نظام کے لیے ایک بری علامت ہے۔ دنیا کی آبادی بڑھتی جا رہی ہے اور کیڑوں کی کمی—خاص طور پر پولی نیٹر کی تعداد میں کمی—زرعی معیشت کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور خوراک کی قلت میں اضافہ کر سکتی ہے۔
فرانچسکا مانچینی ماہر ماحولیاتی ماڈلز برطانیہ کے سینٹر فار ایکولوجی اینڈ ہائیڈروولوجی سے کہتی ہیں: اب مزید کمی کو روکنا کافی نہیں۔ ہمیں کیڑوں کے حیاتیاتی تنوع کو اس کی سابقہ سطحوں تک بحال کرنے کی ضرورت ہے۔
مانچینی نے کہا کہ صرف برطانیہ میں ہی کیڑوں کے پولی نیٹرز کی اقتصادی اہمیت سالانہ ایک ارب ڈالر ہے۔ امریکہ میں یہ تخمینہ تقریباً 34 ارب ڈالر ہے۔
دنیا بھر میں تین چوتھائی فصلیں جو ہم استعمال کرتے ہیںاور کل فصل کی پیداوار کا تقریباً ایک تہائی کیڑوں کے ذریعے پولی نیشن پر منحصر ہیں۔ ان فصلوں کی پولی نیشن پر انحصار مختلف ہے۔ کچھ فصلیں جیسے سویا بین، کیڑوں کے بغیر بہت کم پیداوار دیں گی، جبکہ کچھ فصلیں بالکل غائب ہو جائیں گی۔
فان کلنک کہتے ہیں: درحقیقت، کافی اور چاکلیٹ 100فیصدکیڑوں کی پولی نیشن پر منحصر ہیں۔ یورپی شہد کی مکھی زیادہ تر پولی نیشن کا کام انجام دیتی ہیں اور دنیا بھر میں مکھیاں پالنے والے ہر سال انہیں فصلوں میں چھوڑ کر کام کراتے ہیں۔ لیکن کئی فصلوں کو فروغ دینے کے لیے صرف شہد کی مکھی کافی نہیں ہے۔
چھ بنیادی فصلیں، جیسے سویا بین، کیڑوں کے بغیر بھی اگائی جا سکتی ہیں، لیکن تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ جن سویا بین کے کھیتوں میں پولی نیٹر کیڑوں نے وزٹ کیا، وہ کہیں زیادہ پیداوار دیتے ہیں۔