خبردار… دو روزمرّہ عادتیں وقت کے ساتھ دماغی خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہیں
عام سرگرمیاں جنہیں بعض لوگ بے ضرر سمجھتے ہیں، درحقیقت سنگین اثرات کا باعث بن سکتی ہیں
ایک معروف نیورولوجسٹ نے خبردار کیا ہے کہ دو روزمرہ عادتیں وقت کے ساتھ دماغی خلیوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ دماغ جسم کا کنٹرول سینٹر ہے، جو یادداشت اور فیصلہ سازی سے لے کر جذبات اور حرکت تک ہر عمل کا ذمہ دار ہے۔ لیکن ٹائمز آف انڈیا کے مطابق روزمرہ کی کئی عادتیں دماغ اور اس کی عصبی روابط کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
نیورولوجسٹ رابرٹ لوف واضح کرتے ہیں کہ کچھ عام سرگرمیاں جو بظاہر بے ضرر لگتی ہیں، حقیقت میں ذہنی صحت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں:
تمباکو نوشی اور اس کے دماغ پر اثرات
عام طور پر تمباکو نوشی کو پھیپھڑوں اور دل کے امراض سے جوڑا جاتا ہے، مگر بہت سے لوگ اس کے دماغ پر پڑنے والے اثرات سے ناواقف ہیں۔
ڈاکٹر لوف کے مطابق تمباکو نوشی دماغ کی بڑھاپے کی رفتار تیز کرتی ہے، ادراکی صلاحیت کمزور کرتی ہے اور اعصابی تنکسّی بیماریوں جیسے الزائمرکا خطرہ بڑھاتی ہے۔
سگریٹ میں موجود نکوٹین اور دیگر مضر اجزا دماغ کو خون کی فراہمی کم کر دیتے ہیں، جس سے آکسیجن اور غذائیت کی مقدار متاثر ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ یادداشت کی کمزوری، توجہ میں مشکل اور سوچ کی رفتار میں کمی کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
طویل مدت کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ مسلسل تمباکو نوشی دماغ کے کچھ حصوں میں سکڑاؤ پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر وہ حصے جو یادداشت اور سیکھنے سے متعلق ہیں۔تمباکو نوشی دماغ میں سوزش اور آکسیڈیٹو اسٹریس بھی بڑھاتی ہے، جو ادراکی صلاحیت میں کمی لانے والے اہم عوامل ہیں۔اِس عادت کو کسی بھی عمر میں چھوڑ دینا ان خطرات کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے اور دماغ کو وقت کے ساتھ اپنی کھوئی ہوئی کچھ کارکردگی بحال کرنے میں مدد دیتاہے۔
نیند کی کمی اور ادراکی زوال
بہت سے لوگ کام سماجی مصروفیات یا ذاتی معاملات کے باعث نیند کی قربانی دے دیتے ہیں، مگر یہ نہیں جانتے کہ نیند کی کمی دماغ کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔بار بار جاگتے رہنے کی عادت دماغ کے ان طریقۂ کار پر اثر انداز ہوتی ہے جن کی مدد سے وہ خود کو مرمت اور بحال کرتا ہے۔ نیند یادداشت مضبوط کرنے، زہریلے مادّوں کو خارج کرنے اور مجموعی ادراکی کارکردگی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ڈاکٹر لوف کے مطابق مزمن نیند کی کمی توجہ میں کمی، ردِّعمل میں سستی اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔طویل عرصے تک نیند سے محرومی خرف (ڈیمنشیا) اور دیگر ادراکی عوارض کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔نیند کی کمی تناؤ کے ہارمونز میں اضافہ کرتی ہے، جو دماغی خلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دماغ کی لچک یعنی نئے روابط بنانے اور ماحول کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت—کم کر دیتے ہیں۔
ڈاکٹر کے مطابق ہر رات 7 سے 9 گھنٹے کی اچھی نیند ضروری ہے اور روزانہ ایک مقررہ نیند کا شیڈول برقرار رکھنا فائدہ مند ہے۔دماغ کو سکون دینے والی نیند کی روٹین اور سونے سے پہلے اسکرین کے استعمال میں کمی بھی دماغی صحت کے لیے مددگار ثابت ہوتی ہے۔ٹھنڈی، تاریک اور پرسکون جگہ میں سونا نیند کو بہتر بناتا ہے۔
اسی طرح باقاعدہ جسمانی سرگرمی، گہری سانس کی مشقیں اور دیر سے کافین کی مقدار کم کرنا بھی نیند کے معیار اور طویل مدت کی ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دماغ کی حفاظت کے لیے مشورے
ڈاکٹر لوف دماغ کی صحت برقرار رکھنے کے لیے چند اہم اقدامات تجویز کرتے ہیں، جن میں شامل ہیں:
تمباکو نوشی سے پرہیز:
یہ عادت وقت کے ساتھ غیر قابلِ واپسی صحت کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔
اچھی نیند:
باقاعدہ نیند کا شیڈول اپنائیں اور سونے کے لیے پرسکون اور مناسب ماحول تیار کریں۔
اہم سرگرمیاں:
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ورزش، مطالعہ، پہیلیاں حل کرنا اور سماجی میل جول دماغی صحت کو بہتر بناتے ہیں۔ صحت مند غذا:
ایسی خوراک لیں جو اینٹی آکسیڈنٹس، اومیگا تھری فیٹی ایسڈز اور قدرتی غذاؤں (Whole foods) سے بھرپور ہو۔